"وحی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| (2 صارفین 5 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
[[فائل:وحی.png|تصغیر|بائیں|]] | |||
'''وحی''' سے مراد وہ الہی الہام ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں یعنی [[انبیاء|انبیاء]] پر نازل فرماتا ہے۔ یہ وحی کبھی فرشتوں کے ذریعے (بواسطہ) اور کبھی بغیر کسی واسطے کے حاصل ہوتی ہے۔ وحی کا اصل مقصد الہی پیغام کی وصولی ہے، کیونکہ وحی کے بغیر دین کے احکام، آسمانی شریعتوں کے مسائل اور ان کی معاشرے تک تبلیغ ممکن نہ ہوتی۔ لہٰذا، وحی درحقیقت ایک ایسی روحانی اور ماورائی رابطہ کاری ہے جو عالمِ غیب میں اللہ تعالیٰ اور [[انبیاء|پیغمبر]] کے درمیان قائم ہوتی ہے۔ | '''وحی'''، سے مراد وہ الہی الہام ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں یعنی [[انبیاء|انبیاء]] پر نازل فرماتا ہے۔ یہ وحی کبھی فرشتوں کے ذریعے (بواسطہ) اور کبھی بغیر کسی واسطے کے حاصل ہوتی ہے۔ وحی کا اصل مقصد الہی پیغام کی وصولی ہے، کیونکہ وحی کے بغیر دین کے احکام، آسمانی شریعتوں کے مسائل اور ان کی معاشرے تک تبلیغ ممکن نہ ہوتی۔ لہٰذا، وحی درحقیقت ایک ایسی روحانی اور ماورائی رابطہ کاری ہے جو عالمِ غیب میں اللہ تعالیٰ اور [[انبیاء|پیغمبر]] کے درمیان قائم ہوتی ہے۔ | ||
== لغوی معنی == | == لغوی معنی == | ||
| سطر 12: | سطر 12: | ||
== وحی اور الہام میں فرق == | == وحی اور الہام میں فرق == | ||
عام طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وحی اور الہام دونوں کے اپنے مخصوص مفاہیم ہیں، اور وحی کا دائرہ کار الہام سے وسیع تر ہے۔ تاہم، اگر وحی کو اس کے خاص معنی (یعنی انبیاء پر نازل ہونے والی | عام طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وحی اور الہام دونوں کے اپنے مخصوص مفاہیم ہیں، اور وحی کا دائرہ کار الہام سے وسیع تر ہے۔ تاہم، اگر وحی کو اس کے خاص معنی (یعنی انبیاء پر نازل ہونے والی وحی تشریعی) کے اعتبار سے دیکھا جائے، تو یہ صرف ان معارف پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں انسان شعوری طور پر دریافت کرتا ہے۔ اس صورت میں الہام کا مفہوم وسیع ہو جاتا ہے، کیونکہ الہام سے مراد وہ تمام معارف ہیں جو اللہ یا ملائکہ کی جانب سے انسان کو (شعوری یا لاشعوری طور پر) پہنچتے ہیں۔ | ||
وحی اور الہام کے درمیان بنیادی فرق درج ذیل ہیں: | وحی اور الہام کے درمیان بنیادی فرق درج ذیل ہیں: | ||
# | # وساطت: وحی کا دائرہ الہام سے بڑا ہے؛ کیونکہ الہام اللہ کی طرف سے بغیر کسی فرشتے کے واسطے کے ہو سکتا ہے، جبکہ وحی کبھی فرشتوں کے ذریعے اور کبھی بغیر واسطے کے ہوتی ہے۔ | ||
# | # مقام: وحی نبوت کی خصوصیت ہے، جبکہ الہام ولایت کی خصوصیت ہے۔ | ||
# | # تبلیغ: وحی میں تبلیغ اور پیغام پہنچانے کا عنصر لازمی ہے، جبکہ الہام میں ایسا کوئی حکم ضروری نہیں ہوتا۔ | ||
# | # آگاہی: الہام میں انسان اس بات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتا کہ جو بات اس کے قلب میں آئی ہے اس کا اصل منبع کیا ہے، جبکہ وحی کے صاحب کو اس کے منبع (اللہ) کا مکمل علم ہوتا ہے۔ | ||
== قرآن میں وحی کے استعمالات == | == قرآن میں وحی کے استعمالات == | ||
| سطر 45: | سطر 45: | ||
[[زمرہ:اسلامی مفاہیم اور اصطلاحات]] | [[زمرہ:اسلامی مفاہیم اور اصطلاحات]] | ||
[[زمرہ:کلامی اصطلاحات]] | [[زمرہ:کلامی اصطلاحات]] | ||
[[fa: وحی]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 15:16، 30 اگست 2026ء

وحی، سے مراد وہ الہی الہام ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں یعنی انبیاء پر نازل فرماتا ہے۔ یہ وحی کبھی فرشتوں کے ذریعے (بواسطہ) اور کبھی بغیر کسی واسطے کے حاصل ہوتی ہے۔ وحی کا اصل مقصد الہی پیغام کی وصولی ہے، کیونکہ وحی کے بغیر دین کے احکام، آسمانی شریعتوں کے مسائل اور ان کی معاشرے تک تبلیغ ممکن نہ ہوتی۔ لہٰذا، وحی درحقیقت ایک ایسی روحانی اور ماورائی رابطہ کاری ہے جو عالمِ غیب میں اللہ تعالیٰ اور پیغمبر کے درمیان قائم ہوتی ہے۔
لغوی معنی
لغت میں وحی کے معنی تیز اشارہ کرنے کے ہیں [1] اور کسی بات کو پوشیدہ طور پر دوسرے تک پہنچانے کے ہیں۔ [2]
اصطلاحی معنی
اصطلاحِ دین میں وحی سے مراد وہ روحانی رابطہ ہے جو ایک پیغمبر اور عالمِ غیب کے درمیان ہوتا ہے، جس کے ذریعے اللہ کا پیغام انبیاء تک منتقل ہوتا ہے۔ اس عمل کا نتیجہ وہ یقینی آگاہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے بعض برگزیدہ انسانوں کو عطا کی جاتی ہے۔ [3]
وحی کی حقیقت
وحی کی حقیقت اور اس کے تمام پہلو انسانی ادراک سے بالاتر ہیں۔ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ وحی ایک ایسی "داخلی دریافت" (Internal Reception) ہے جو انسانی خطا اور فکر و تدبر سے پاک ہے۔ اس عمل کے دوران اللہ کا منتخب کردہ بندہ علم غیب اور پوشیدہ دنیا سے آگاہ ہو جاتا ہے، اور ان حقائق سے باخبر ہو جاتا ہے جو انسان کی سعادت یا شقاوت کا سبب بنتے ہیں۔ [4]
وحی اور الہام میں فرق
عام طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وحی اور الہام دونوں کے اپنے مخصوص مفاہیم ہیں، اور وحی کا دائرہ کار الہام سے وسیع تر ہے۔ تاہم، اگر وحی کو اس کے خاص معنی (یعنی انبیاء پر نازل ہونے والی وحی تشریعی) کے اعتبار سے دیکھا جائے، تو یہ صرف ان معارف پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں انسان شعوری طور پر دریافت کرتا ہے۔ اس صورت میں الہام کا مفہوم وسیع ہو جاتا ہے، کیونکہ الہام سے مراد وہ تمام معارف ہیں جو اللہ یا ملائکہ کی جانب سے انسان کو (شعوری یا لاشعوری طور پر) پہنچتے ہیں۔
وحی اور الہام کے درمیان بنیادی فرق درج ذیل ہیں:
- وساطت: وحی کا دائرہ الہام سے بڑا ہے؛ کیونکہ الہام اللہ کی طرف سے بغیر کسی فرشتے کے واسطے کے ہو سکتا ہے، جبکہ وحی کبھی فرشتوں کے ذریعے اور کبھی بغیر واسطے کے ہوتی ہے۔
- مقام: وحی نبوت کی خصوصیت ہے، جبکہ الہام ولایت کی خصوصیت ہے۔
- تبلیغ: وحی میں تبلیغ اور پیغام پہنچانے کا عنصر لازمی ہے، جبکہ الہام میں ایسا کوئی حکم ضروری نہیں ہوتا۔
- آگاہی: الہام میں انسان اس بات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتا کہ جو بات اس کے قلب میں آئی ہے اس کا اصل منبع کیا ہے، جبکہ وحی کے صاحب کو اس کے منبع (اللہ) کا مکمل علم ہوتا ہے۔
قرآن میں وحی کے استعمالات
قرآن کریم میں لفظ "وحی" مختلف معانی اور سیاق و سباق میں استعمال ہوا ہے:
پوشیدہ اشارہ: اس سے مراد خفیہ اشارہ یا علامت ہے۔ جیسے: «فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَىٰ إِلَيْهِمْ أَن سَبِّحُوا۟ بُكْرَةً وَعَشِيًّا» [5] (پس وہ اپنے گروہ کے سامنے محراب سے نکلا اور انہیں اشارے سے یہ پیغام دیا کہ صبح و شام اللہ کی تسبیح کرو)۔
فطری اور جبلتی امر: اس سے مراد کسی جاندار کی فطرت میں کوئی حکم درج ہونا ہے۔ جیسے: «وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ» [6] (اور آپ کے پروردگار نے شہد کی مکھی کو وحی (حکم) کیا کہ پہاڑوں اور درختوں اور ان (چھپڑیوں) میں سے اپنے گھر بنا لیا)۔
نفسانی الہام (تسکینِ قلب):
عام انسانوں کے لیے اس کا مطلب ذہنی یاداشت یا کسی اعلیٰ دنیا سے روح پر ہونے والا اثر ہو سکتا ہے، جیسے: «وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ» [7] (اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کی کہ اسے دودھ پلاؤ، پھر جب اس کے (فرعون سے) جانے کا ڈر ہو تو اسے دریا میں ڈال دو اور نہ ڈرو اور نہ غم کرو، بے شک ہم اسے تمہاری طرف لوٹا دیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنا دیں گے)۔
انبیاء کے لیے غیبی وحی:
قرآن میں یہ معنی ستر سے زائد مرتبہ استعمال ہوا ہے: «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ» [8] (ہم آپ کو بہترین قصہ سناتے ہیں اس قرآن کے ذریعے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے)۔
جمادات کے لیے حکم: «وَأَوْحَىٰ فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا» [9] (اور ہر آسمان میں اس کا (نظام و کار کا) حکم مقرر/وحی کیا)۔
شیطانی وسوسے: یہاں وحی سے مراد شیطانی وسوسے اور فریب ہے: «كَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا» [10] (اسی طرح ہم نے ہر نبی کے مقابلے میں انسانوں اور جنات کے شیطانوں کو مقرر کیا، جو ایک دوسرے کی طرف فریب کے دلکش الفاظ پھینکتے ہیں)۔
حوالہ جات
- ↑ راغب اصفہانی، مفردات، ۱۴۱۲ھ، ص۸۵۸؛ فراهیدی، العین، ۱۴۰۹ھ، ج۳، ص۳۲۱
- ↑ ابن منظور، لسان العرب، ۲۰۰۰ء، ج۳، ص۳۷۹۔
- ↑ طباطبائی، سید محمد حسین، وحی یا شعور مرموز، ۱۳۷۷ش، ص۱۰۴۔
- ↑ طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ج۲، ص۱۳۱ اور ص۱۵۷۔
- ↑ سورہ مریم، آیت ۱۱۔
- ↑ سورہ نحل، آیت ۶۸۔
- ↑ سورہ قصص، آیت ۷۔
- ↑ سورہ یوسف، آیت ۳۔
- ↑ سورہ فصلت، آیت ۱۲۔
- ↑ سورہ انعام، آیت ۱۱۲۔