مندرجات کا رخ کریں

"سامی العریدی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:سامی العریدی کو سامی العریدی کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف 4 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{سانچہ معلومات شخصیت
{{Infobox person
| عنوان = سامی العریدی
| title = سامی العریدی
| تصویر = سامی العریدی.jpg
| image = سامی العریدی.jpg
| نام =  
| name = سامی العریدی
| نام‌های دیگر = ڈاکٹر سامی العریدی، ابومحمد شامی
| other names = ڈاکٹر سامی العریدی، ابومحمد شامی
| سال تولد = 1973ء
| brith year = 1973 ء
| تاریخ تولد =  
| brith date =  
| محل تولد = [[اردن]]، عمان
| birth place = اردون عمان
| سال درگذشت =
| death year =   
| تاریخ درگذشت =   
| death date =  
| محل درگذشت =  
| death place =  
| استادان =  
| teachers =  
| شاگردان =  
| religion = [[اسلام]]  
| دین = [[اسلام]]
| faith = [[اہل سنت]]
| مذهب = [[اہل سنت و جماعت|اہل سنت]]
| works =  
| آثار =  
| known for =  }}
| فعالیت‌ها =   
| وبگاه =
}}
'''سامی العریدی''' 1973ء میں پیدا ہوئے اور ابومحمد شامی اس اردنی نظریہ ساز کی کنیت ہے۔ وہ [[ابوماریه قحطانی]] کے بعد [[جبرۃ النصرہ|جبرۃ النصرہ]] کے شرعی عام تھے۔ نیز، وہ درعا میں [[جبرۃ النصرہ|جبرۃ النصرہ]] کے امیر بھی رہے ہیں۔ انہوں نے دس صفحات کے کتابچے بعنوان: '''«تقریب مفهوم الخلافة الراشدة لعموم المسلمین»''' میں [[خلیفہ|خلافت]] کے مسئلے کا جائزہ لیا اور [[داعش]] کی تائید کی۔
 


'''سامی العریدی''' 1973ء میں پیدا ہوئے اور ابومحمد شامی اس اردنی نظریہ ساز کی کنیت ہے۔ وہ ابوماریه قحطانی کے بعد [[جبهۃالنصرۃ]] کے شرعی عام تھے۔ نیز، وہ درعا میں [[جبهۃالنصرۃ]] کے امیر بھی رہے ہیں۔ انہوں نے دس صفحات کے کتابچے بعنوان: '''«تقریب مفهوم الخلافة الراشدة لعموم المسلمین»''' میں خلافت کے مسئلے کا جائزہ لیا اور [[داعش]] کی تائید کی۔


==سوانح حیات==
==سوانح حیات==
سامی محمود مشہور بہ ڈاکٹر سامی العریدی جن کی کنیت ابومحمد الشامی ہے، ابوماریة القحطانی کے بعد جبرۃ النصرہ کے شرعی عام مقرر ہوئے۔ ان کی پیدائش 1973ء میں شہر عمان، دارالحکومت اردن میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اسی شہر میں حاصل کی اور جامعہ اردن سے علوم شرعیہ میں تعلیم پائی اور 1994ء میں داخل ہوئے۔ انہوں نے حدیث میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور 2001ء میں اسی مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی。
سامی محمود مشہور بہ ڈاکٹر سامی العریدی جن کی کنیت ابومحمد الشامی ہے، ابوماریة القحطانی کے بعد [[جبهۃالنصرۃ]] کے شرعی عام مقرر ہوئے۔ ان کی پیدائش 1973ء میں شہر عمان، دارالحکومت اردن میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اسی شہر میں حاصل کی اور جامعہ اردن سے علوم شرعیہ میں تعلیم پائی اور 1994ء میں داخل ہوئے۔ انہوں نے حدیث میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور 2001ء میں اسی مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر سامی العریدی نے جوانی میں جہادی فکر کی بنیاد پر، [[شام]] میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد، 2011ء میں اس ملک میں داخل ہوئے اور القاعدہ اور جبرۃ النصرہ میں شامل ہو گئے۔ اس سلسلے میں، درعا میں شرعی عام کا عہدہ ان کے سپرد کیا گیا。
ڈاکٹر سامی العریدی نے جوانی میں جہادی فکر کی بنیاد پر، [[شام]] میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد، 2011ء میں اس ملک میں داخل ہوئے اور [[القاعده|القاعدہ]] اور [[جبهۃالنصرۃ]] میں شامل ہو گئے۔ اس سلسلے میں، درعا میں شرعی عام کا عہدہ ان کے سپرد کیا گیا۔
 
 


==شرعی عام==
==شرعی عام==
[[جبرۃ النصرہ|جبرۃ النصر]]<nowiki/>ہ نے جولائی 2014ء میں '''«امارت اسلامی شام»''' کے قیام کا اعلان کیا۔ اسی وقت ڈاکٹر سامی العریدی [[ابوماریه قحطانی|ابوماریا قحطانی]] کے متبادل کے طور پر جبرۃ النصرہ کے شرعی عام بنے۔ [[تصویر:سامی عریدی.jpg|بغیر فریم|بائیں]]
[[جبهۃالنصرۃ]]<nowiki/>ہ نے جولائی 2014ء میں '''«امارت اسلامی شام»''' کے قیام کا اعلان کیا۔ اسی وقت ڈاکٹر سامی العریدی ابوماریه قحطانی کے متبادل کے طور پر جبهه النصرہ کے شرعی عام بنے۔ [[تصویر:سامی عریدی.jpg|بغیر فریم|بائیں]]
یہ تبدیلی اس وقت عمل میں آئی جب جبرۃ النصرہ [[داعش]] کے ساتھ کچھ میدانوں میں شکست کھا چکا تھا۔ ابومحمد العدنانی داعش تنظیم کے ترجمان نے 29 جون 2014ء کو خلافت کے قیام کا اعلان کیا۔ اس کے مقابلے میں، [[ابومحمد جولانی]] جبرۃ النصرہ کے رہنما نے دس دن بعد اسلامی دولت شام کے قیام کا اعلان کیا۔ اس دوران، جبرۃ النصرہ کے اعلیٰ عہدوں پر اردنی شخصیت کو جگہ دینے سے اس عسکری ـ سلفی تنظیم میں بہت سے اردنیوں کے داخلے کا راستہ کھلا۔ جیسا کہ، ان کی دینی تعلیم کو نمایاں کرنا بھی اس سلفی ـ جہادی تنظیم کی مشروعیت کو اجاگر کرنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا تھا۔ اس دوران یہ جاننا ضروری ہے کہ جبرۃ النصرہ نے داخلی اور خارجی دباؤ کے بعد دیگر عسکری گروپوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ یہ اتحاد تنظیم کے نام کی تبدیلی سے «جبرۃ فتح الشام» اور پھر «هیئة تحریر الشام» کے اعلان کے ذریعے کیا گیا۔ تنظیم کے نام کی اس تبدیلی میں ایک اور وجہ بھی شامل تھی۔ اس تنظیم کے ارکان کا مقصد دہشت گردی کی فہرست سے نکلنا تھا。
یہ تبدیلی اس وقت عمل میں آئی جب جبرۃ النصرہ [[داعش]] کے ساتھ کچھ میدانوں میں شکست کھا چکا تھا۔ ابومحمد العدنانی داعش تنظیم کے ترجمان نے 29 جون 2014ء کو خلافت کے قیام کا اعلان کیا۔ اس کے مقابلے میں، [[ابومحمد جولانی]] جبرۃ النصرہ کے رہنما نے دس دن بعد اسلامی دولت شام کے قیام کا اعلان کیا۔ اس دوران، جبرۃ النصرہ کے اعلیٰ عہدوں پر اردنی شخصیت کو جگہ دینے سے اس عسکری ـ سلفی تنظیم میں بہت سے اردنیوں کے داخلے کا راستہ کھلا۔  


جیسا کہ، ان کی دینی تعلیم کو نمایاں کرنا بھی اس سلفی ـ جہادی تنظیم کی مشروعیت کو اجاگر کرنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا تھا۔ اس دوران یہ جاننا ضروری ہے کہ جبرۃ النصرہ نے داخلی اور خارجی دباؤ کے بعد دیگر عسکری گروپوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔


یہ اتحاد تنظیم کے نام کی تبدیلی سے «جبرۃ فتح الشام» اور پھر «هیئة تحریر الشام» کے اعلان کے ذریعے کیا گیا۔ تنظیم کے نام کی اس تبدیلی میں ایک اور وجہ بھی شامل تھی۔ اس تنظیم کے ارکان کا مقصد دہشت گردی کی فہرست سے نکلنا تھا۔


==کتابچہ کی تصنیف==
==کتابچہ کی تصنیف==
ڈاکٹر سامی العریدی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے [[داعش]] کی خلافت کے بارے میں نظریاتی موقف اپنایا۔ انہوں نے دس صفحات کے کتابچے بعنوان: '''«تقریب مفهوم الخلافة الراشدة لعموم المسلمین»''' کی تصنیف کے ذریعے [[خلیفہ|خلافت]] کے مسئلے کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یہ متن خلافت داعش کے اعلان کے تقریباً دو تین مہینے بعد، ذوالقعدہ 1435ھ میں، مشروع خلافت کی تصویر میں اور بغیر براہ راست داعش کی خلافت پر بحث کیے لکھا۔ اس متن کو لکھنے کا ان کا مقصد اسلامی خلافت کے تصور کو تحریف سے بچانا اور «منہاج نبوت پر خلافت راشدہ کی شرعی صورت کی وضاحت، بطور اس زمانے کے ہر سچے کا مقصد» کرنا تھا۔ لہذا، انہوں نے خلافت کے مختلف پہلوؤں جیسے تعریف، حکم، اہمیت، خلافت کے انعقاد کے تین طریقے (انتخاب، استخلاف اور تغلب)، تمکین اور شوکت کا مسئلہ، خلیفہ کی شرائط، اہل حل و عقد، بیعت، اور منہاج نبوت پر خلافت کا مختصراً جائزہ لیا ہے。
ڈاکٹر سامی العریدی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے [[داعش]] کی خلافت کے بارے میں نظریاتی موقف اپنایا۔ انہوں نے دس صفحات کے کتابچے بعنوان: '''«تقریب مفهوم الخلافة الراشدة لعموم المسلمین»''' کی تصنیف کے ذریعے خلافت مسئلے کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یہ متن خلافت داعش کے اعلان کے تقریباً دو تین مہینے بعد، ذوالقعدہ 1435ھ میں، مشروع خلافت کی تصویر میں اور بغیر براہ راست داعش کی خلافت پر بحث کیے لکھا۔  
 


اس متن کو لکھنے کا ان کا مقصد اسلامی خلافت کے تصور کو تحریف سے بچانا اور «منہاج نبوت پر خلافت راشدہ کی شرعی صورت کی وضاحت، بطور اس زمانے کے ہر سچے کا مقصد» کرنا تھا۔ لہذا، انہوں نے خلافت کے مختلف پہلوؤں جیسے تعریف، حکم، اہمیت، خلافت کے انعقاد کے تین طریقے (انتخاب، استخلاف اور تغلب)، تمکین اور شوکت کا مسئلہ، خلیفہ کی شرائط، اہل حل و عقد، بیعت، اور منہاج نبوت پر خلافت کا مختصراً جائزہ لیا ہے۔


==گرفتاری==
==گرفتاری==
اس نیم عسکری اور سلفی ـ جہادی گروپ کی بنیاد نیمہ فروری 2018ء میں سمیر حجازی مشہور بہ ابوہمام الشامی کی قیادت اور [[حمزہ بن لادن]] کی علامتی شخصیت کے محور پر رکھی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ہیئت تحریر الشام کی طرف سے سامی العریدی ملقب بہ ابومحمود الشامی کو اس گروپ کے پیروکاروں میں اختلاف ڈالنے کے الزام میں گرفتاری کی خبر سامنے آئی۔ اس گروپ کی تشکیل کی خاص وجہ تھی۔ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری اور ابومحمد الجولانی کے درمیان اختلاف نے شام میں القاعدہ کی نئی شاخ کے طور پر اس گروپ کی بنیاد اور محور بننے کا راستہ ہموار کیا۔ ایمن الظواہری جو الجولانی کی کوشش کو ایک مقامی منصوبے کے طور پر دیکھتے تھے، نے [[شام]] میں [[حمزہ بن لادن]] کو اسامہ بن لادن کے شرعی وارث کے طور پر محور بنا کر نئی محاذ تشکیل دینے کی کوشش کی تاکہ جہاد کو عالمی رنگ دیا جا سکے。
اس نیم عسکری اور سلفی ـ جہادی گروپ کی بنیاد نیمہ فروری 2018ء میں سمیر حجازی مشہور بہ ابوہمام الشامی کی قیادت اور [[حمزہ بن لادن]] کی علامتی شخصیت کے محور پر رکھی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ہیئت تحریر الشام کی طرف سے سامی العریدی ملقب بہ ابومحمود الشامی کو اس گروپ کے پیروکاروں میں اختلاف ڈالنے کے الزام میں گرفتاری کی خبر سامنے آئی۔ اس گروپ کی تشکیل کی خاص وجہ تھی۔ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری اور ابومحمد الجولانی کے درمیان اختلاف نے شام میں القاعدہ کی نئی شاخ کے طور پر اس گروپ کی بنیاد اور محور بننے کا راستہ ہموار کیا۔  
 


ایمن الظواہری جو الجولانی کی کوشش کو ایک مقامی منصوبے کے طور پر دیکھتے تھے، نے [[شام]] میں [[حمزہ بن لادن]] کو اسامہ بن لادن کے شرعی وارث کے طور پر محور بنا کر نئی محاذ تشکیل دینے کی کوشش کی تاکہ جہاد کو عالمی رنگ دیا جا سکے۔


==مزید دیکھیں==
==مزید دیکھیں==
* [[ابوماریه قحطانی]]
* [[جبهۃالنصرۃ]]
*[[حمزہ بن لادن]]
*[[جبرۃ النصرہ|جبرہ النصرہ]]
*[[داعش]]
*[[داعش]]
*[[شام]]
*[[شام]]
*[[اردن]]


==حوالہ جات==
==حوالہ جات==
سطر 60: سطر 51:
[[زمرہ: شام]]
[[زمرہ: شام]]
[[زمرہ: داعش]]
[[زمرہ: داعش]]
[[fa: سامی العریدی]]

حالیہ نسخہ بمطابق 15:23، 1 جولائی 2026ء

سامی العریدی
پورا نامسامی العریدی
دوسرے نامڈاکٹر سامی العریدی، ابومحمد شامی
ذاتی معلومات
پیدائش1973 ء
پیدائش کی جگہاردون عمان
مذہباسلام، اہل سنت

سامی العریدی 1973ء میں پیدا ہوئے اور ابومحمد شامی اس اردنی نظریہ ساز کی کنیت ہے۔ وہ ابوماریه قحطانی کے بعد جبهۃالنصرۃ کے شرعی عام تھے۔ نیز، وہ درعا میں جبهۃالنصرۃ کے امیر بھی رہے ہیں۔ انہوں نے دس صفحات کے کتابچے بعنوان: «تقریب مفهوم الخلافة الراشدة لعموم المسلمین» میں خلافت کے مسئلے کا جائزہ لیا اور داعش کی تائید کی۔

سوانح حیات

سامی محمود مشہور بہ ڈاکٹر سامی العریدی جن کی کنیت ابومحمد الشامی ہے، ابوماریة القحطانی کے بعد جبهۃالنصرۃ کے شرعی عام مقرر ہوئے۔ ان کی پیدائش 1973ء میں شہر عمان، دارالحکومت اردن میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اسی شہر میں حاصل کی اور جامعہ اردن سے علوم شرعیہ میں تعلیم پائی اور 1994ء میں داخل ہوئے۔ انہوں نے حدیث میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور 2001ء میں اسی مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر سامی العریدی نے جوانی میں جہادی فکر کی بنیاد پر، شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد، 2011ء میں اس ملک میں داخل ہوئے اور القاعدہ اور جبهۃالنصرۃ میں شامل ہو گئے۔ اس سلسلے میں، درعا میں شرعی عام کا عہدہ ان کے سپرد کیا گیا۔

شرعی عام

جبهۃالنصرۃہ نے جولائی 2014ء میں «امارت اسلامی شام» کے قیام کا اعلان کیا۔ اسی وقت ڈاکٹر سامی العریدی ابوماریه قحطانی کے متبادل کے طور پر جبهه النصرہ کے شرعی عام بنے۔

بغیر فریم
بغیر فریم

یہ تبدیلی اس وقت عمل میں آئی جب جبرۃ النصرہ داعش کے ساتھ کچھ میدانوں میں شکست کھا چکا تھا۔ ابومحمد العدنانی داعش تنظیم کے ترجمان نے 29 جون 2014ء کو خلافت کے قیام کا اعلان کیا۔ اس کے مقابلے میں، ابومحمد جولانی جبرۃ النصرہ کے رہنما نے دس دن بعد اسلامی دولت شام کے قیام کا اعلان کیا۔ اس دوران، جبرۃ النصرہ کے اعلیٰ عہدوں پر اردنی شخصیت کو جگہ دینے سے اس عسکری ـ سلفی تنظیم میں بہت سے اردنیوں کے داخلے کا راستہ کھلا۔

جیسا کہ، ان کی دینی تعلیم کو نمایاں کرنا بھی اس سلفی ـ جہادی تنظیم کی مشروعیت کو اجاگر کرنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا تھا۔ اس دوران یہ جاننا ضروری ہے کہ جبرۃ النصرہ نے داخلی اور خارجی دباؤ کے بعد دیگر عسکری گروپوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔

یہ اتحاد تنظیم کے نام کی تبدیلی سے «جبرۃ فتح الشام» اور پھر «هیئة تحریر الشام» کے اعلان کے ذریعے کیا گیا۔ تنظیم کے نام کی اس تبدیلی میں ایک اور وجہ بھی شامل تھی۔ اس تنظیم کے ارکان کا مقصد دہشت گردی کی فہرست سے نکلنا تھا۔

کتابچہ کی تصنیف

ڈاکٹر سامی العریدی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے داعش کی خلافت کے بارے میں نظریاتی موقف اپنایا۔ انہوں نے دس صفحات کے کتابچے بعنوان: «تقریب مفهوم الخلافة الراشدة لعموم المسلمین» کی تصنیف کے ذریعے خلافت مسئلے کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یہ متن خلافت داعش کے اعلان کے تقریباً دو تین مہینے بعد، ذوالقعدہ 1435ھ میں، مشروع خلافت کی تصویر میں اور بغیر براہ راست داعش کی خلافت پر بحث کیے لکھا۔

اس متن کو لکھنے کا ان کا مقصد اسلامی خلافت کے تصور کو تحریف سے بچانا اور «منہاج نبوت پر خلافت راشدہ کی شرعی صورت کی وضاحت، بطور اس زمانے کے ہر سچے کا مقصد» کرنا تھا۔ لہذا، انہوں نے خلافت کے مختلف پہلوؤں جیسے تعریف، حکم، اہمیت، خلافت کے انعقاد کے تین طریقے (انتخاب، استخلاف اور تغلب)، تمکین اور شوکت کا مسئلہ، خلیفہ کی شرائط، اہل حل و عقد، بیعت، اور منہاج نبوت پر خلافت کا مختصراً جائزہ لیا ہے۔

گرفتاری

اس نیم عسکری اور سلفی ـ جہادی گروپ کی بنیاد نیمہ فروری 2018ء میں سمیر حجازی مشہور بہ ابوہمام الشامی کی قیادت اور حمزہ بن لادن کی علامتی شخصیت کے محور پر رکھی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ہیئت تحریر الشام کی طرف سے سامی العریدی ملقب بہ ابومحمود الشامی کو اس گروپ کے پیروکاروں میں اختلاف ڈالنے کے الزام میں گرفتاری کی خبر سامنے آئی۔ اس گروپ کی تشکیل کی خاص وجہ تھی۔ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری اور ابومحمد الجولانی کے درمیان اختلاف نے شام میں القاعدہ کی نئی شاخ کے طور پر اس گروپ کی بنیاد اور محور بننے کا راستہ ہموار کیا۔

ایمن الظواہری جو الجولانی کی کوشش کو ایک مقامی منصوبے کے طور پر دیکھتے تھے، نے شام میں حمزہ بن لادن کو اسامہ بن لادن کے شرعی وارث کے طور پر محور بنا کر نئی محاذ تشکیل دینے کی کوشش کی تاکہ جہاد کو عالمی رنگ دیا جا سکے۔

مزید دیکھیں

حوالہ جات

  • ر. ک: ذبیح‌الله نعیمیان، جریان‌شناسی سوریه، انتشارت مجمع تقریب مذاهب اسلامی، قم 1402 ش.