"زبیر بن عوام" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| (2 صارفین 6 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 16: | سطر 16: | ||
| known for = سقیفہ کی شورا کی مخالفت، تینوں خلفائے راشدین کے زمانے میں چھ رکنی شورا کا رکن ہونا، علی بن ابی طالبؑ کی خلافت کے حق میں رائے دینا، عثمان کے قتل میں شرکت، امام علی علیہ السلام کے خلاف جنگِ جمل کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ہونا }} | | known for = سقیفہ کی شورا کی مخالفت، تینوں خلفائے راشدین کے زمانے میں چھ رکنی شورا کا رکن ہونا، علی بن ابی طالبؑ کی خلافت کے حق میں رائے دینا، عثمان کے قتل میں شرکت، امام علی علیہ السلام کے خلاف جنگِ جمل کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ہونا }} | ||
'''زُبیر بن عَوّام قرشی اسدی'''، | '''زُبیر بن عَوّام قرشی اسدی'''، [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)]]، کے بھانجے ، صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے اور [[اہل السنۃ والجماعت|اہل سنت]] کے نقطہ نظر سے عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ وہ [[اسلام]] لانے والوں میں سے اولین اور حبشہ کی طرف مہاجرین میں سے ہیں۔ سقیفہ کے واقعے میں، انہوں نے شورای سقیفہ کے فیصلے کو قبول نہیں کیا اور [[علی ابن ابی طالب|امام علی (علیہ السلام)]] کی خلافت کا دفاع کیا۔ زبیر چھ رکنی شورا کے ارکان میں سے تھے اور امام علی (علیہ السلام) کے حق میں رائے دی۔ [[عثمان بن عفان|عثمان]] کے خلاف بغاوت اور ان کے قتل کے واقعے میں ان کا مؤثر کردار تھا۔ انہوں نے امام علی (علیہ السلام) کی خلافت کا دفاع کیا لیکن کچھ عرصہ بعد طلحہ کے ہمراہ، امام علی (علیہ السلام) کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے اور جنگ جمل کا آغاز کیا۔ | ||
== زبیر کون ہے == | == زبیر کون ہے == | ||
| سطر 27: | سطر 27: | ||
=== ہجرت سے قبل === | === ہجرت سے قبل === | ||
ہجرت سے قبل زبیر کے بارے میں زیادہ خبریں نہیں ہیں سوائے اس کے کہ وہ حبشہ کی طرف مہاجرین میں سے شمار ہوتے ہیں<ref>تاریخ ابن خلدون، ج ۲، ص ۴۱۵</ref>۔ جب زبیر اور دیگر مہاجرین حبشہ میں قیام پزیر تھے، تو افواہ پھیلی کہ قریش نے [[اسلام]] قبول کر لیا ہے، اس لیے بعض مہاجرین جن میں زبیر بن عوام بھی شامل تھے، [[مکه|مکہ]] واپس آ گئے<ref> تاریخ ابن خلدون، ج ۲، ص ۴۱۵</ref>۔ | |||
=== مواخات کا معاہدہ === | === مواخات کا معاہدہ === | ||
پیامبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے | پیامبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے بعد [[مدینه|مدینہ]] میں جو اقدامات کیے، ان میں سے ایک [[مسلمان]]وں کے درمیان عقد اخوت قائم کرنا تھا، اس وقت، زبیر اور عبد اللہ بن مسعود کے درمیان بھائی چارے کا معاہدہ ہوا<ref> ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۳، ص۷۵</ref>۔ ایک اور روایت میں، زبیر اور سَلَمہ بن سَلامہ بن وَقش کے درمیان بھائی چارے کا معاہدہ ذکر کیا گیا ہے<ref>تاریخ ابن خلدون، ج ۲، ص۴۲۳</ref>۔ | ||
== غزوات میں شرکت == | == غزوات میں شرکت == | ||
زبیر کی | زبیر کی غزوہ بدر<ref>سمعانی، الأنساب، ج ۱، ص ۲۱۶؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۳، ص ۷۷</ref>، احد اور فتح [[مکه|مکہ]] میں موجودگی رپورٹ کی گئی ہے<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۳، ص ۷۷</ref>۔ | ||
== زبیر کی شہادت == | == زبیر کی شہادت == | ||
کتاب طبقات الکبری میں آیا ہے: جب [[علی ابن ابی طالب|علی (علیہ السلام)]] نے زبیر کو [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|پیامبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)]] کی حدیث یاد دلائی؛ وہ حدیث جو پیامبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر سے فرمائی تھی: «اے زبیر، تم عنقریب علی (علیہ السلام) سے لڑو گے، جبکہ تم ان پر ظلم کرو گے»۔ | |||
زبیر نے جنگ کا میدان چھوڑ دیا اور مدینہ جانے کے ارادے سے بھاگے<ref>دانش نامہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) بر پایه قرآن، حدیث و تاریخ، محمد محمدی ری شهری، سازمان چاپ و نشر دارالحدیث، قم، 1386، ج5،ص 167</ref>۔ زبیر کے کنارہ کشی کے بعد، عَمرو بن جُرموز، اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ، ان کا تعاقب کرنے لگا اور وادی السِّباع نامی جگہ پر انہیں غافل کر کے قتل کر دیا<ref>طبری، تاریخ، ج۴، ص۵۱۱</ref>۔ وہ پھر [[علی | زبیر نے جنگ کا میدان چھوڑ دیا اور مدینہ جانے کے ارادے سے بھاگے<ref>دانش نامہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) بر پایه قرآن، حدیث و تاریخ، محمد محمدی ری شهری، سازمان چاپ و نشر دارالحدیث، قم، 1386، ج5،ص 167</ref>۔ زبیر کے کنارہ کشی کے بعد، عَمرو بن جُرموز، اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ، ان کا تعاقب کرنے لگا اور وادی السِّباع نامی جگہ پر انہیں غافل کر کے قتل کر دیا<ref>طبری، تاریخ، ج۴، ص۵۱۱</ref>۔ وہ پھر [[علی ابن ابی طالب|حضرت علی]] کے پاس گیا اور دربان سے کہا، قاتل زبیر کے لیے داخلے کی اجازت لے۔ حضرت نے فرمایا: اسے داخل ہونے کی اجازت دو اور اسے جہنم کی آگ کی خوشخبری سنا دو<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۲۵۴</ref>۔ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|پیامبر]] (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی زبیر کے قاتل کے بارے میں فرمایا تھا: قاتل زبیر کا ٹھکانہ آگ ہے<ref>ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۸، ص۴۲۱</ref>۔ | ||
امام نے زبیر کے قتل پر ناخوشی کا اظہار کیا اور جب ان کی تلوار دیکھی، تو اسلام کے ابتدائی دور کی جنگوں میں زبیر کی بہادری کو یاد کرتے ہوئے فرمایا: یہ تلوار بار بار رسول اللہ کے چہرے سے غم دور کرتی رہی ہے<ref>ابن سعد، طبقات کبری، ج۳، ص ۷۸</ref>۔ | امام نے زبیر کے قتل پر ناخوشی کا اظہار کیا اور جب ان کی تلوار دیکھی، تو اسلام کے ابتدائی دور کی جنگوں میں زبیر کی بہادری کو یاد کرتے ہوئے فرمایا: یہ تلوار بار بار رسول اللہ کے چہرے سے غم دور کرتی رہی ہے<ref>ابن سعد، طبقات کبری، ج۳، ص ۷۸</ref>۔ | ||
== قبر پر مسجد اور عمارت کی تعمیر == | == قبر پر مسجد اور عمارت کی تعمیر == | ||
ابن جوزی حنبلی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں: «۳۸۶ ہجری میں بصرہ کے رہنے والوں نے کچھ واقعات کے بعد، زبیر کی قبر پر [[مسجد]]، گنبد اور بارگاه بنایا اور وہاں بہت سا مال وقف کیا<ref>ابن جوزی، المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم، ج ۱۴، ص۳۸۳</ref>»۔ | |||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 13:24، 30 جون 2026ء
| زبیر بن عوام | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | زُبیر بن عَوّام قرشی اسدی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش کی جگہ | مکه |
| وفات | ۳۷ ق |
| وفات کی جگہ | جنگ جمل کی جگه |
| مذہب | اسلام |
| مناصب | سقیفہ کی شورا کی مخالفت، تینوں خلفائے راشدین کے زمانے میں چھ رکنی شورا کا رکن ہونا، علی بن ابی طالبؑ کی خلافت کے حق میں رائے دینا، عثمان کے قتل میں شرکت، امام علی علیہ السلام کے خلاف جنگِ جمل کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ہونا |
زُبیر بن عَوّام قرشی اسدی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، کے بھانجے ، صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے اور اہل سنت کے نقطہ نظر سے عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ وہ اسلام لانے والوں میں سے اولین اور حبشہ کی طرف مہاجرین میں سے ہیں۔ سقیفہ کے واقعے میں، انہوں نے شورای سقیفہ کے فیصلے کو قبول نہیں کیا اور امام علی (علیہ السلام) کی خلافت کا دفاع کیا۔ زبیر چھ رکنی شورا کے ارکان میں سے تھے اور امام علی (علیہ السلام) کے حق میں رائے دی۔ عثمان کے خلاف بغاوت اور ان کے قتل کے واقعے میں ان کا مؤثر کردار تھا۔ انہوں نے امام علی (علیہ السلام) کی خلافت کا دفاع کیا لیکن کچھ عرصہ بعد طلحہ کے ہمراہ، امام علی (علیہ السلام) کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے اور جنگ جمل کا آغاز کیا۔
زبیر کون ہے
زبیر بن عوام کنیت ابوعبدالله کے ساتھ، حضرت خدیجہ کے بھتیجے ہیں[1]۔ ان کے والد عوّام (حضرت خدیجہ کے بھائی) جنگ فجار میں مارے گئے[2]۔ ان کی والدہ صفیہ بنت عبد المطلب یعنی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت علی (علیہ السلام) کی پھوپھی تھیں[3]۔ بعض لوگ آل زبیر کو مصری النسل مانتے ہیں اور ان کی منسوبیت اصیل خاندان قریش سے نہیں مانتے، یہ گروہ ایک روایت کی طرف رجوع کرتے ہیں جس کے مطابق خویلد بن اسد نے مصر کے سفر میں، عوام کو اپنے ساتھ مکہ لایا اور درحقیقت عوام ان کا پسرخواندہ ہے[4]۔ زبیر کی شادی اسماء بنت ابوبکر سے ہوئی[5]۔
زبیر کا اسلام لانا
تاریخی مصادر، زبیر کے اسلام لانے کو ابوبکر کے اسلام لانے کے بعد لکھتے ہیں، بعض نے کہا ہے کہ اس وقت ان کی عمر ۸ سال تھی[6]۔ لیکن بعض دیگر مورخین نے اس وقت انہیں ۱۵ سال کا نوجوان بتایا ہے[7][8]۔ ایک رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ حضرت علی (علیہ السلام) کے ہم عمر تھے[9]۔ اس صورت میں وہ آٹھ سال کی عمر میں اسلام نہیں لا سکتے اور یہی ۱۵ سال کی عمر درست معلوم ہوتی ہے۔ زبیر کو اسلام لانے والے پانچویں یا چھٹے شخص کے طور پر جانا جاتا ہے[10]۔
پیامبر کے زمانے میں زبیر
ہجرت سے قبل
ہجرت سے قبل زبیر کے بارے میں زیادہ خبریں نہیں ہیں سوائے اس کے کہ وہ حبشہ کی طرف مہاجرین میں سے شمار ہوتے ہیں[11]۔ جب زبیر اور دیگر مہاجرین حبشہ میں قیام پزیر تھے، تو افواہ پھیلی کہ قریش نے اسلام قبول کر لیا ہے، اس لیے بعض مہاجرین جن میں زبیر بن عوام بھی شامل تھے، مکہ واپس آ گئے[12]۔
مواخات کا معاہدہ
پیامبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے بعد مدینہ میں جو اقدامات کیے، ان میں سے ایک مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت قائم کرنا تھا، اس وقت، زبیر اور عبد اللہ بن مسعود کے درمیان بھائی چارے کا معاہدہ ہوا[13]۔ ایک اور روایت میں، زبیر اور سَلَمہ بن سَلامہ بن وَقش کے درمیان بھائی چارے کا معاہدہ ذکر کیا گیا ہے[14]۔
غزوات میں شرکت
زبیر کی غزوہ بدر[15]، احد اور فتح مکہ میں موجودگی رپورٹ کی گئی ہے[16]۔
زبیر کی شہادت
کتاب طبقات الکبری میں آیا ہے: جب علی (علیہ السلام) نے زبیر کو پیامبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث یاد دلائی؛ وہ حدیث جو پیامبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر سے فرمائی تھی: «اے زبیر، تم عنقریب علی (علیہ السلام) سے لڑو گے، جبکہ تم ان پر ظلم کرو گے»۔ زبیر نے جنگ کا میدان چھوڑ دیا اور مدینہ جانے کے ارادے سے بھاگے[17]۔ زبیر کے کنارہ کشی کے بعد، عَمرو بن جُرموز، اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ، ان کا تعاقب کرنے لگا اور وادی السِّباع نامی جگہ پر انہیں غافل کر کے قتل کر دیا[18]۔ وہ پھر حضرت علی کے پاس گیا اور دربان سے کہا، قاتل زبیر کے لیے داخلے کی اجازت لے۔ حضرت نے فرمایا: اسے داخل ہونے کی اجازت دو اور اسے جہنم کی آگ کی خوشخبری سنا دو[19]۔ پیامبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی زبیر کے قاتل کے بارے میں فرمایا تھا: قاتل زبیر کا ٹھکانہ آگ ہے[20]۔
امام نے زبیر کے قتل پر ناخوشی کا اظہار کیا اور جب ان کی تلوار دیکھی، تو اسلام کے ابتدائی دور کی جنگوں میں زبیر کی بہادری کو یاد کرتے ہوئے فرمایا: یہ تلوار بار بار رسول اللہ کے چہرے سے غم دور کرتی رہی ہے[21]۔
قبر پر مسجد اور عمارت کی تعمیر
ابن جوزی حنبلی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں: «۳۸۶ ہجری میں بصرہ کے رہنے والوں نے کچھ واقعات کے بعد، زبیر کی قبر پر مسجد، گنبد اور بارگاه بنایا اور وہاں بہت سا مال وقف کیا[22]»۔
حوالہ جات
- ↑ المقدسی٬ البدء و التاریخ، مکتبة الثقافة الدینیة٬ ج۵ ٬ ص ۸۳
- ↑ ابن قتیبه دینوری، المعارف، ۱۹۹۲م، ص۲۱۹
- ↑ مقدسی، البدء والتاریخ، مکتبة الثقافة الدینیة، ج۵، ص۸۳
- ↑ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۴۰۴ق، ج۱۱، ص۶۷
- ↑ سمعانی، عبدالکریم بن محمد، الانساب، ج۱، ص۲۱۷، تحقیق عبدالرحمن بن یحیی المعلمی الیمانی، حیدر آباد، مجلس دائرة المعارف العثمانیة، ط الأولی، ۱۳۸۲/۱۹۶۲.
- ↑ مقدسی، ابو نصر بن مطهر بن طاهر، البدء و التاریخ، ج۵، ص۸۳
- ↑ ابن عبدالبر، أبو عمر یوسف بن عبدالله بن محمد (م ۴۶۳)، الاستیعاب فی معرفة الأصحاب، ج۲، ص۵۱۰، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دار الجیل، ط الأولی، ۱۴۱۲/۱۹۹۲
- ↑ ابن اثیر، علی، اسدالغابہ، ج۲، ص۹۸
- ↑ ابن عبدالبر، أبو عمر یوسف بن عبدالله بن محمد (م ۴۶۳)، الاستیعاب فی معرفة الأصحاب، ج۲، ص۵۱۱، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دار الجیل، ط الأولی، ۱۴۱۲/۱۹۹۲.
- ↑ ابن سعد بغدادی، محمد، طبقات الکبری، ج۳، ص۷۵
- ↑ تاریخ ابن خلدون، ج ۲، ص ۴۱۵
- ↑ تاریخ ابن خلدون، ج ۲، ص ۴۱۵
- ↑ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۳، ص۷۵
- ↑ تاریخ ابن خلدون، ج ۲، ص۴۲۳
- ↑ سمعانی، الأنساب، ج ۱، ص ۲۱۶؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۳، ص ۷۷
- ↑ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۳، ص ۷۷
- ↑ دانش نامہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) بر پایه قرآن، حدیث و تاریخ، محمد محمدی ری شهری، سازمان چاپ و نشر دارالحدیث، قم، 1386، ج5،ص 167
- ↑ طبری، تاریخ، ج۴، ص۵۱۱
- ↑ بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۲۵۴
- ↑ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۸، ص۴۲۱
- ↑ ابن سعد، طبقات کبری، ج۳، ص ۷۸
- ↑ ابن جوزی، المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم، ج ۱۴، ص۳۸۳
