مندرجات کا رخ کریں

"تمل کاراملا اوغلو" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:تمل کاراملا اوغلو کو تمل کاراملا اوغلو کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف 2 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{سانچہ:معلومات شخصیت
{{Infobox person
| عنوان = Temel.jpg
| title =  
| تصویر = Temel.jpg
| image = Temel.jpg
| نام = تمل کاراملا اوغلو
| name = تمل کاراملا اوغلو
| دیگر نام =  
| other names =
| سال پیدائش = 1941ء
| brith year = 1941 ء
| تاریخ پیدائش =  
| brith date =
| محل پیدائش = [[ترکیہ]]
| birth place = [[ترکی]]
| سال وفات =  
| death year =  
| تاریخ وفات =
| death dat 
| محل وفات =  
| death place =  
| اساتذہ =  
| teachers =  
| شاگرد =  
| students =  
| مذہب = اسلام
| religion = [[اسلام]]
| مکتب فکر = اہل سنت
| faith = [[اہل سنت]]
| آثار =  
| works =  
| پیشہ = صدر حزب سعادت ترکیہ
| known for = حزب سعادت ترکی کے سربراہ۔
| ویب سائٹ =
}}
}}
'''تمل کاراملا اوغلو''' (Temel Karamollaoğlu) پیدائش 7 جون 1941ء، ایک ترک سیاست دان، انجینئر اور [[حزب سعادت]] کے صدر ہیں۔ انہیں 30 اکتوبر 2016 کو منعقدہ [[حزب سعادت ترکیہ|حزب سعادت]] کی چھٹی معمولی کانگریس میں حزب کا صدر منتخب کیا گیا۔ وہ 1977ء سے 1980ء اور 1996ء سے 2002ء کے درمیان رکن اسمبلی کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ 1989ء سے 1995ء تک وہ سیواس کے میئر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ ملک کی منصوبہ بندی تنظیم میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ماہر کے طور پر کام کرتے تھے۔ وہ 2018 کے ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں حزب سعادت کے صدارتی امیدوار بنے۔


'''تمل کاراملا اوغلو'''، (Temel Karamollaoğlu) پیدائش 7 جون 1941ء، ایک ترک سیاست دان، انجینئر اور حزب سعادت کے صدر ہیں۔ انہیں 30 اکتوبر 2016 کو منعقدہ حزب سعادت [[ترکی]] کی چھٹی معمولی کانگریس میں حزب کا صدر منتخب کیا گیا۔ وہ 1977ء سے 1980ء اور 1996ء سے 2002ء کے درمیان رکن اسمبلی کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ 1989ء سے 1995ء تک وہ سیواس کے میئر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ ملک کی منصوبہ بندی تنظیم میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ماہر کے طور پر کام کرتے تھے۔ وہ 2018 کے ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں حزب سعادت کے صدارتی امیدوار بنے۔


== سوانح حیات ==
== سوانح حیات ==
تمل کاراملا اوغلو، اصلاً روستای گوبکورن (Göbekören) جو علاقہ گورون سیواس کے دیہاتوں میں سے ایک ہے، کے رہنے والے ہیں۔ ان کی پیدائش 7 جون 1941 کو اوزییر اور منیرہ کارامولاوغلو کے سات بچوں میں سے ایک کے طور پر ہوئی۔
تمل کاراملا اوغلو، اصلاً روستای گوبکورن (Göbekören) جو علاقہ گورون سیواس کے دیہاتوں میں سے ایک ہے، کے رہنے والے ہیں۔ ان کی پیدائش 7 جون 1941 کو اوزییر اور منیرہ کارامولاوغلو کے سات بچوں میں سے ایک کے طور پر ہوئی۔


== تعلیم ==
== تعلیم ==
والد کی معلمی کی وجہ سے مختلف شہروں میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، انہیں 1960 میں یونیورسٹی آف مانچسٹر سے اسکالرشپ ملی اور وہ انگلینڈ چلے گئے، جہاں انہوں نے 1964 میں اپنا انڈرگریجویٹ کورس مکمل کیا اور 1967 میں یونیورسٹی آف مانچسٹر سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
والد کی معلمی کی وجہ سے مختلف شہروں میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، انہیں 1960 میں یونیورسٹی آف مانچسٹر سے اسکالرشپ ملی اور وہ انگلینڈ چلے گئے، جہاں انہوں نے 1964 میں اپنا انڈرگریجویٹ کورس مکمل کیا اور 1967 میں یونیورسٹی آف مانچسٹر سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔


== شادی ==
== شادی ==
کاراملا اوغلو نے 1965 میں عائشہ یاسمین سے شادی کی اور ان کے 5 بچے ہیں۔
کاراملا اوغلو نے 1965 میں عائشہ یاسمین سے شادی کی اور ان کے 5 بچے ہیں۔


== پیشہ ورانہ سرگرمیاں ==
== پیشہ ورانہ سرگرمیاں ==
کاراملا اوغلو 1967 میں ترکیہ واپس آئے اور ملک کی منصوبہ بندی تنظیم میں ماہر کے طور پر کام کرنے لگے۔ نیز 1967 سے 1972 کے درمیان انہوں نے اسی تنظیم میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ماہر کے طور پر کام کیا۔
کاراملا اوغلو 1967 میں ترکیہ واپس آئے اور ملک کی منصوبہ بندی تنظیم میں ماہر کے طور پر کام کرنے لگے۔ نیز 1967 سے 1972 کے درمیان انہوں نے اسی تنظیم میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ماہر کے طور پر کام کیا۔


== سیاسی اور سماجی سرگرمیاں ==
== سیاسی اور سماجی سرگرمیاں ==
وہ 1977 میں حزب نجات ملی سے سیواس کے نمائندے کے طور پر منتخب ہوئے اور کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی میں [[ترکیہ]] کے نمائندے بنے۔ وہ 1978 میں حزب کی جنرل اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
وہ 1977 میں حزب نجات ملی سے سیواس کے نمائندے کے طور پر منتخب ہوئے اور کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی میں [[ترکی]] کے نمائندے بنے۔ وہ 1978 میں حزب کی جنرل اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
 
کاراملا اوغلو 1989 میں حزب رفاه سے سیواس کے میئر منتخب ہوئے۔ وہ 1995 کے عام انتخابات میں حزب رفاه کے نمائندے کے طور پر سیواس سے اسمبلی میں داخل ہوئے۔ اسی دورانیے میں انہیں حزب رفاح گروپ کے نائب صدر کے طور پر منتخب کیا گیا اور یہ ذمہ داری حزب رفاح کے تحلیل ہونے تک ان کے پاس رہی، اور آئینی عدالت द्वारा حزب رفاح کے تحلیل ہونے کے بعد وہ حزب فضیلت میں شامل ہو گئے اور 1999 کے انتخابات میں دوبارہ سیواس سے نمائندے کے طور پر منتخب ہوئے۔
کاراملا اوغلو مئی 2000 میں منعقدہ حزب سعادت کی کانگریس میں جنرل ایگزیکٹو بورڈ کے رکن منتخب ہوئے اور صدر کے معاون برائے خارجہ تعلقات مقرر ہوئے۔
 


کاراملا اوغلو 1989‏ء میں حزب رفاه سے سیواس کے میئر منتخب ہوئے۔ وہ 1995ء کے عام انتخابات میں حزب رفاه کے نمائندے کے طور پر سیواس سے اسمبلی میں داخل ہوئے۔ اسی دورانیے میں انہیں حزب رفاح گروپ کے نائب صدر کے طور پر منتخب کیا گیا اور یہ ذمہ داری حزب رفاح کے تحلیل ہونے تک ان کے پاس رہی، اور آئینی عدالت نے حزب رفاح کے تحلیل ہونے کے بعد وہ حزب فضیلت میں شامل ہو گئے اور 1999ء کے انتخابات میں دوبارہ سیواس سے نمائندے کے طور پر منتخب ہوئے۔
کاراملا اوغلو مئی 2000ء میں منعقدہ حزب سعادت کی کانگریس میں جنرل ایگزیکٹو بورڈ کے رکن منتخب ہوئے اور صدر کے معاون برائے خارجہ تعلقات مقرر ہوئے۔


== صدارت حزب سعادت ==
== صدارت حزب سعادت ==
انہیں 24 اکتوبر 2016 کو سپریم ایڈوائزری کونسل द्वारा [[حزب سعادت]] کا نگراں منتخب کیا گیا اور 30 اکتوبر 2016 کو منعقدہ حزب سعادت کی چھٹی عمومی کانگریس میں کل 891 نمائندوں میں سے 871 ووٹ حاصل کر کے [[حزب سعادت]] کا صدر منتخب ہوئے۔ نیز 3 نومبر 2019 کو منعقدہ [[حزب سعادت]] کی ساتویں عمومی کانگریس میں انہیں دوبارہ صدر منتخب کیا گیا。
انہیں 24 اکتوبر 2016ء کو سپریم ایڈوائزری کونسل نے حزب سعادت کا نگراں منتخب کیا گیا اور 30 اکتوبر 2016‏ء کو منعقدہ حزب سعادت کی چھٹی عمومی کانگریس میں کل 891 نمائندوں میں سے 871 ووٹ حاصل کر کے حزب سعادت کا صدر منتخب ہوئے۔ نیز 3 نومبر 2019 کو منعقدہ حزب سعادت کی ساتویں عمومی کانگریس میں انہیں دوبارہ صدر منتخب کیا گیا。
 
 


== صدارتی امیدواری ==
== صدارتی امیدواری ==
کاراملا اوغلو نے 2018 میں ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا اور کل ووٹوں کا 0.89 فیصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے。
کاراملا اوغلو نے 2018ء میں ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا اور کل ووٹوں کا 0.89 فیصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے。
 
 


== مزاحمت کی حمایت ==
== مزاحمت کی حمایت ==
کاراملا اوغلو جبهہ مزاحمت کے حامی رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ عالم اسلام کو غاصب اسرائیلی رژیم کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے: اسرائیل ایک ایسی رژیم ہے جس نے دہشت اور ظلم کو پالیسی بنا لیا ہے، اس لیے اس رژیم کے ساتھ صرف زور اور طاقت کی زبان میں بات کرنی چاہیے، کیونکہ یہ انسانیت اور انصاف کی زبان نہیں سمجھتی، اگر آپ کے پاس طاقت ہو تو آپ اسرائیل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، ورنہ یہ صرف باتیں ہیں اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ <ref>[https://www.isna.ir/news/99030200646/%D8%B1%D9%87%D8%A8%D8%B1-%D8%AD%D8%B2%D8%A8-%D8%B3%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA-%D8%AA%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D9%87-%D8%AA%D9%86%D9%87%D8%A7-%D8%B1%D8%A7%D9%87-%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84%D9%87-%D8%A8%D8%A7-%D8%A7%D8%B3%D8%B1 بحوالہ خبرگزاری ایسنا]</ref>
کاراملا اوغلو جبهہ مزاحمت کے حامی رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ عالم اسلام کو غاصب اسرائیلی رژیم کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے: اسرائیل ایک ایسی رژیم ہے جس نے دہشت اور ظلم کو پالیسی بنا لیا ہے، اس لیے اس رژیم کے ساتھ صرف زور اور طاقت کی زبان میں بات کرنی چاہیے، کیونکہ یہ انسانیت اور انصاف کی زبان نہیں سمجھتی، اگر آپ کے پاس طاقت ہو تو آپ اسرائیل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، ورنہ یہ صرف باتیں ہیں اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ <ref>[https://www.isna.ir/news/99030200646/%D8%B1%D9%87%D8%A8%D8%B1-%D8%AD%D8%B2%D8%A8-%D8%B3%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA-%D8%AA%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D9%87-%D8%AA%D9%86%D9%87%D8%A7-%D8%B1%D8%A7%D9%87-%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84%D9%87-%D8%A8%D8%A7-%D8%A7%D8%B3%D8%B1 بحوالہ خبرگزاری ایسنا]</ref>
صهیونیستی رژیم کے سربراہ "اسحاق ہرتزوگ" کے انقرہ دورے کے ردعمل میں، انہوں نے ملک کے 81 صوبوں میں مسلمانوں کو اس معاملے پر احتجاج کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ایک ٹویٹ جاری کرتے ہوئے ترکیہ کے لوگوں سے اس دورے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی درخواست کی。
صهیونیستی رژیم کے سربراہ "اسحاق ہرتزوگ" کے انقرہ دورے کے ردعمل میں، انہوں نے ملک کے 81 صوبوں میں مسلمانوں کو اس معاملے پر احتجاج کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ایک ٹویٹ جاری کرتے ہوئے ترکیہ کے لوگوں سے اس دورے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی درخواست کی。
کاراملا اوغلو نے "رجب طیب اردوغان" کی "شیمون پیریز" سے احتجاجی موضوع کی یاد دہانی کراتے ہوئے ہیش ٹیگ #OneMinuteErdoğan کو ٹرینڈ کرایا اور کہا کہ ترکیہ میں ظالم کیا کر رہے ہیں! <ref>[https://www.taghribnews.com/fa/news/541385/%D9%88%D8%A7%DA%A9%D9%86%D8%B4-%D8%AD%D8%B2%D8%A8-%D8%B3%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA-%D8%B3%D9%81%D8%B1-%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D8%B3-%D8%B1%DA%98%DB%8C%D9%85-%D8%B5%D9%87%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%8C%D8%B3%D8%AA%DB%8C-%D8%AA% بحوالہ خبرگزاری تقریب]</ref>
کاراملا اوغلو نے "رجب طیب اردوغان" کی "شیمون پیریز" سے احتجاجی موضوع کی یاد دہانی کراتے ہوئے ہیش ٹیگ #OneMinuteErdoğan کو ٹرینڈ کرایا اور کہا کہ ترکیہ میں ظالم کیا کر رہے ہیں! <ref>[https://www.taghribnews.com/fa/news/541385/%D9%88%D8%A7%DA%A9%D9%86%D8%B4-%D8%AD%D8%B2%D8%A8-%D8%B3%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA-%D8%B3%D9%81%D8%B1-%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D8%B3-%D8%B1%DA%98%DB%8C%D9%85-%D8%B5%D9%87%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%8C%D8%B3%D8%AA%DB%8C-%D8%AA% بحوالہ خبرگزاری تقریب]</ref>


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
سطر 71: سطر 54:


[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:ترکیہ]]
[[زمرہ:ترکی]]
[[fa: تمل کاراملا اوغلو]]

حالیہ نسخہ بمطابق 15:38، 4 جون 2026ء

تمل کاراملا اوغلو
پورا نامتمل کاراملا اوغلو
ذاتی معلومات
پیدائش1941 ء
پیدائش کی جگہترکی
مذہباسلام، اہل سنت
مناصبحزب سعادت ترکی کے سربراہ۔

تمل کاراملا اوغلو، (Temel Karamollaoğlu) پیدائش 7 جون 1941ء، ایک ترک سیاست دان، انجینئر اور حزب سعادت کے صدر ہیں۔ انہیں 30 اکتوبر 2016 کو منعقدہ حزب سعادت ترکی کی چھٹی معمولی کانگریس میں حزب کا صدر منتخب کیا گیا۔ وہ 1977ء سے 1980ء اور 1996ء سے 2002ء کے درمیان رکن اسمبلی کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ 1989ء سے 1995ء تک وہ سیواس کے میئر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ ملک کی منصوبہ بندی تنظیم میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ماہر کے طور پر کام کرتے تھے۔ وہ 2018 کے ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں حزب سعادت کے صدارتی امیدوار بنے۔

سوانح حیات

تمل کاراملا اوغلو، اصلاً روستای گوبکورن (Göbekören) جو علاقہ گورون سیواس کے دیہاتوں میں سے ایک ہے، کے رہنے والے ہیں۔ ان کی پیدائش 7 جون 1941 کو اوزییر اور منیرہ کارامولاوغلو کے سات بچوں میں سے ایک کے طور پر ہوئی۔

تعلیم

والد کی معلمی کی وجہ سے مختلف شہروں میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، انہیں 1960 میں یونیورسٹی آف مانچسٹر سے اسکالرشپ ملی اور وہ انگلینڈ چلے گئے، جہاں انہوں نے 1964 میں اپنا انڈرگریجویٹ کورس مکمل کیا اور 1967 میں یونیورسٹی آف مانچسٹر سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

شادی

کاراملا اوغلو نے 1965 میں عائشہ یاسمین سے شادی کی اور ان کے 5 بچے ہیں۔

پیشہ ورانہ سرگرمیاں

کاراملا اوغلو 1967 میں ترکیہ واپس آئے اور ملک کی منصوبہ بندی تنظیم میں ماہر کے طور پر کام کرنے لگے۔ نیز 1967 سے 1972 کے درمیان انہوں نے اسی تنظیم میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ماہر کے طور پر کام کیا۔

سیاسی اور سماجی سرگرمیاں

وہ 1977 میں حزب نجات ملی سے سیواس کے نمائندے کے طور پر منتخب ہوئے اور کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی میں ترکی کے نمائندے بنے۔ وہ 1978 میں حزب کی جنرل اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

کاراملا اوغلو 1989‏ء میں حزب رفاه سے سیواس کے میئر منتخب ہوئے۔ وہ 1995ء کے عام انتخابات میں حزب رفاه کے نمائندے کے طور پر سیواس سے اسمبلی میں داخل ہوئے۔ اسی دورانیے میں انہیں حزب رفاح گروپ کے نائب صدر کے طور پر منتخب کیا گیا اور یہ ذمہ داری حزب رفاح کے تحلیل ہونے تک ان کے پاس رہی، اور آئینی عدالت نے حزب رفاح کے تحلیل ہونے کے بعد وہ حزب فضیلت میں شامل ہو گئے اور 1999ء کے انتخابات میں دوبارہ سیواس سے نمائندے کے طور پر منتخب ہوئے۔ کاراملا اوغلو مئی 2000ء میں منعقدہ حزب سعادت کی کانگریس میں جنرل ایگزیکٹو بورڈ کے رکن منتخب ہوئے اور صدر کے معاون برائے خارجہ تعلقات مقرر ہوئے۔

صدارت حزب سعادت

انہیں 24 اکتوبر 2016ء کو سپریم ایڈوائزری کونسل نے حزب سعادت کا نگراں منتخب کیا گیا اور 30 اکتوبر 2016‏ء کو منعقدہ حزب سعادت کی چھٹی عمومی کانگریس میں کل 891 نمائندوں میں سے 871 ووٹ حاصل کر کے حزب سعادت کا صدر منتخب ہوئے۔ نیز 3 نومبر 2019 کو منعقدہ حزب سعادت کی ساتویں عمومی کانگریس میں انہیں دوبارہ صدر منتخب کیا گیا。

صدارتی امیدواری

کاراملا اوغلو نے 2018ء میں ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا اور کل ووٹوں کا 0.89 فیصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے。

مزاحمت کی حمایت

کاراملا اوغلو جبهہ مزاحمت کے حامی رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ عالم اسلام کو غاصب اسرائیلی رژیم کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے: اسرائیل ایک ایسی رژیم ہے جس نے دہشت اور ظلم کو پالیسی بنا لیا ہے، اس لیے اس رژیم کے ساتھ صرف زور اور طاقت کی زبان میں بات کرنی چاہیے، کیونکہ یہ انسانیت اور انصاف کی زبان نہیں سمجھتی، اگر آپ کے پاس طاقت ہو تو آپ اسرائیل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، ورنہ یہ صرف باتیں ہیں اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ [1]

صهیونیستی رژیم کے سربراہ "اسحاق ہرتزوگ" کے انقرہ دورے کے ردعمل میں، انہوں نے ملک کے 81 صوبوں میں مسلمانوں کو اس معاملے پر احتجاج کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ایک ٹویٹ جاری کرتے ہوئے ترکیہ کے لوگوں سے اس دورے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی درخواست کی。 کاراملا اوغلو نے "رجب طیب اردوغان" کی "شیمون پیریز" سے احتجاجی موضوع کی یاد دہانی کراتے ہوئے ہیش ٹیگ #OneMinuteErdoğan کو ٹرینڈ کرایا اور کہا کہ ترکیہ میں ظالم کیا کر رہے ہیں! [2]

حوالہ جات