مندرجات کا رخ کریں

"مدینه" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:مدینه کو مدینه کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 74: سطر 74:
=== کوہ اُحد ===
=== کوہ اُحد ===
مدینہ کے اطراف کے مشہور مقامات میں سے ایک کوہ اُحد ہے۔ اسے اُحد اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ پہاڑ مدینہ کے دیگر پہاڑوں سے جدا اور منفرد ہے، اور جغرافیائی لحاظ سے یہ شہر کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔
مدینہ کے اطراف کے مشہور مقامات میں سے ایک کوہ اُحد ہے۔ اسے اُحد اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ پہاڑ مدینہ کے دیگر پہاڑوں سے جدا اور منفرد ہے، اور جغرافیائی لحاظ سے یہ شہر کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔
== متعلقه مضامین ==
* [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم]]
* [[مکه]]
* [[مسجد]]
* [[مسجد الحرام]]


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==

حالیہ نسخہ بمطابق 20:29، 20 مئی 2026ء

مدینہ مکہ کے بعد اسلامی سرزمین کی جغرافیہ میں سب سے اہم اور مشہور شہر ہے[1]۔ رسولِ اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی قبر مبارک اسی شہر میں واقع ہے۔ مشہور قبرستان بقیع بھی اسی شہر میں ہے جہاں شیعہ ائمہ میں سے چار حضرات یعنی امام حسن، علی بن الحسین (زین العابدین)، امام باقر اور جعفر بن محمد (صادق) (علیہم السّلام) مدفون ہیں، اور ایک روایت کے مطابق حضرت فاطمہ دخترِ گرامیِ پیامبر سلام اللہ علیہما بھی وہاں مدفون ہیں۔

مدینہ کا سابقہ نام

اس شہر کا پرانا نام یثرب تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پیامبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) نے ہجرت فرمائی اور اسے اپنی رہائش اور اسلامی حکومت کے قیام کا مرکز بنایا۔ اس کے بعد اس مقام کا نام مدینہ رکھا گیا۔ روایات اور تاریخی مصادر میں بیان ہوا ہے کہ پیامبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) مدینہ کے بارے میں لفظ یثرب استعمال کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ براء بن عازب نے حضرت سے نقل کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جو شخص مدینہ کے بجائے یثرب کا لفظ استعمال کرے اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے۔ البتہ پیامبر کی اس ممانعت کی وجہ منافقین کے طرزِ عمل میں تلاش کی جا سکتی ہے، کیونکہ وہ مدینہ کے بجائے یثرب کا لفظ استعمال کیا کرتے تھے[2]۔

مدینہ کے نام کی وجہ

مدینہ کے معنی ایسے مقام کے ہیں جہاں لوگ رہائش اور سکونت کے مقصد سے جمع ہوں، یعنی آبادی اور اجتماع کا مرکز۔ شہر مدینہ بھی اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ علی بن ابی طالب (علیہ السّلام) نے نہج البلاغہ کے خطبہ 180 میں اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے: «اَینَ الَّذینَ... مَدَّنُوا الْمَداِئنَ» یعنی کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے شہروں کو آباد کیا[3]۔

مدینہ کا جغرافیائی محلِ وقوع

مدینہ سعودی عرب کے اہم علاقوں میں سے ہے جو مکہ کے شمال مشرق میں اور علاقے حجاز میں واقع ہے، اور مکہ سے اس کا فاصلہ تقریباً ۴۵۰ کلومیٹر ہے[4]۔

قرآن میں مدینہ

قرآن میں لفظ مدینہ بعض اوقات مطلق شہر کے معنی میں آیا ہے، جیسے: «إِنَّ هذا لَمَکرٌ مَکرْتُمُوهُ فِی الْمَدِینَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْها أَهْلَها»[5] «وَ قالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِینَةِ امْرَأَتُ الْعَزِیزِ تُراوِدُ فَتاها عَنْ نَفْسِهِ»[6]

اور بعض اوقات اس سے مراد پیامبر کا شہر یعنی مدینة الرسول ہوتا ہے، جیسے: «ما کانَ لِأَهْلِ الْمَدِینَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْأَعْرابِ أَنْ یتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ»[7] «یقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنا إِلَى الْمَدِینَةِ لَیخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ...»[8]۔

مدینہ کی اہمیت

اس شہر کی اہمیت کو اس کی تاریخ میں تلاش کرنا چاہیے۔ اسی بنا پر مدینہ کی تاریخ کو دو حصوں میں بررسی کیا جا سکتا ہے: 1. اس شہر کی ابتدائی پیدائش کی تاریخ واضح نہیں ہے اور اس بارے میں تاریخی منابع میں کوئی قابلِ اعتماد مستند معلومات دستیاب نہیں۔ 2. رسولِ خدا صلوات اللہ علیہ کی ہجرت کے بعد اور آپؐ کے یہاں قیام نیز اس سرزمین میں اسلامی حکومت کی بنیادوں کے قیام کے بعد مدینہ نے ایک نئی زندگی حاصل کی اور ایسا شہر بن گیا جو دنیا بھر کے مسلمانوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

ہجرت کے بعد رسولِ خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے اقدامات

رسولِ خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) نے مدینہ میں داخل ہونے کے بعد چند اہم اقدامات انجام دیے:

1. مدینہ میں پیامبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کا پہلا کام مسجد کی تعمیر تھا؛ ایسا مقام جو عبادت، ثقافت کے فروغ اور سیاسی ہدایات کے مرکز کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ مسجد ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان اسلام کا بنیادی سہارا رہی ہے۔

2. تمام مسلمانوں کی طرف سے ایک عمومی معاہدہ کی توثیق اور اس پر عمل کرنے کا عہد۔ اس معاہدے میں حاکمیت کو خدا اور اس کے رسول کے لیے قرار دیا گیا اور اس کے ساتھ اسلامی حقوقی اور جزائی قوانین کے بعض اصولوں کو بھی قانون کے طور پر قبول کیا گیا۔

3. پیامبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کا تیسرا اقدام مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم کرنا اور بھائی چارہ (مواخات) کا عقد کرنا تھا، جس سے باہمی محبت اور جذباتی تعلقات مضبوط ہوئے[9]۔

مدینہ کے مقدس مقامات

مدینہ مسلمانوں کی موجودگی کا مرکز اور تاریخِ اسلام کا اہم موڑ ہے۔ اسی وجہ سے پیامبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی موجودگی کے زمانے میں اس شہر میں متعدد مقدس مقامات تعمیر ہوئے جن کا محور مسجد تھی۔

مسجد النبی (صلّی اللہ علیہ وآلہ)

اس مسجد کی تعمیر مدینہ کے اندر رسولِ خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کا پہلا اقدام تھا۔ البتہ اس سے پہلے قبا کے علاقے میں، جو مدینہ شہر سے باہر ہے، پیامبر اور آپؐ کے اصحاب کے ہاتھوں پہلی مسجد ایک اسلامی مرکز کے طور پر تعمیر ہو چکی تھی۔ مسجد النبی مسجد الحرام کے بعد دوسری عظیم اور مقدس مسجد ہے۔ پیامبر سے روایت نقل ہوئی ہے کہ: میری مسجد میں پڑھی جانے والی نماز اللہ کے نزدیک دوسری مساجد کی دس ہزار نمازوں کے برابر ہے، سوائے مسجد الحرام کے، کیونکہ وہاں ایک نماز ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے[10]۔

قبرستان بقیع

بقیع اسلامی جغرافیہ کے مشہور اور قابلِ احترام قبرستانوں میں سے ایک ہے، جہاں پیامبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے زمانے میں بہت سے صحابہ دفن ہوئے۔ پیامبر کی رحلت کے بعد شیعہ ائمہ میں سے چار حضرات، نیز بعض بزرگ تابعین اور بعد میں مدینہ میں وفات پانے والے بہت سے معروف مسلمان بھی اسی مقام پر دفن کیے گئے۔ رسولِ خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) جب بھی اس قبرستان کے پاس سے گزرتے تو فرماتے: تم پر سلام ہو ان مؤمنوں کی طرف سے جو اپنے گھروں میں مقیم ہیں، اور ہم بھی ان شاء اللہ جلد تم سے آ ملیں گے[11]۔

مدینہ کی دیگر مساجد کے نام

مدینہ میں بہت سی مساجد موجود ہیں جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں:

1. مسجد قبا؛ قبا کا علاقہ مسجد النبی سے تقریباً چھ کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہ مدینہ کی اہم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ 2. مسجد شجره؛ یہ مسجد مدینہ سے باہر واقع ہے اور ذوالحُلَیفہ اور ابیار علی کے ناموں سے بھی مشہور ہے اور احرام باندھنے کے اہم مقامات میں سے ایک ہے۔

دیگر مساجد کے نام درج ذیل ہیں: 3. مسجد ذوقبلتین 4. مسجد جمعہ 5. مسجد فضیخ 6. مسجد فتح 7. مسجد علی 8. مسجد غمامه 9. مسجد الاجابه (مباهله) 10. مسجد فاطمة الزہرا 11. مسجد امام علی بن ابی طالب 12. مسجد سلمان 13. مسجد معرس 14. مسجد ثنیة الوداع 15. مسجد ابوذر 16. مسجد سقیا 17. مسجد و مشربه ام ابراہیم[12]۔

کوہ اُحد

مدینہ کے اطراف کے مشہور مقامات میں سے ایک کوہ اُحد ہے۔ اسے اُحد اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ پہاڑ مدینہ کے دیگر پہاڑوں سے جدا اور منفرد ہے، اور جغرافیائی لحاظ سے یہ شہر کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔

متعلقه مضامین

حوالہ جات

  1. قاموس قرآن، ج ۶، ص: ۲۴۴.
  2. مکہ و مدینہ، کردی عبیدالله محمدامین، ص 212، با تصرف اندک در عبارت.
  3. قاموس قرآن، ج 6، ص 244
  4. حجة التفاسیر و بلاغ الإکسیر، جلد دوم، مقدمه، ص: ۱۰۶۴
  5. سوره اعراف، آیه 123
  6. سوره یوسف، آیه 30
  7. سوره توبه، آیه 120
  8. سوره منافقون، آیه 8
  9. جعفریان رسول، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص ۳۶ با تصرف اندک در عبارت
  10. مسجد النبی، انتشارات مرکز تحقیقات حج، ص ۳.
  11. بقیع: نوشته مرکز تحقیقات حج، ص ۳
  12. مکه و مدینه، نشر مرکز تحقیقات حج، ص ۲۸.