مندرجات کا رخ کریں

"القاعده" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«القاعده ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہے جو ایک سنی اسلامی تحریک کے طور پر سرگرم ہے اور اپنا مقصد غیر مسلموں کے اثرات اور مداخلت کے خلاف دنیائے اسلام کا دفاع اور دنیا بھر میں اسلام کی نشر و اشاعت کو قرار دیتی ہے۔ تأسیس القاعدہ ایک بین الاقو...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:القاعده کو القاعده کی جانب منتقل کیا
 
(2 صارفین 6 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
القاعده ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہے جو ایک سنی اسلامی تحریک کے طور پر سرگرم ہے اور اپنا مقصد غیر مسلموں کے اثرات اور مداخلت کے خلاف دنیائے [[اسلام]] کا دفاع اور دنیا بھر میں اسلام کی نشر و اشاعت کو قرار دیتی ہے۔
{{خانہ معلومات پارٹی
| عنوان = القاعدہ
| تصویر = تبریک القاعده به جبهة النصره.jpg
| نام = قاعدة الجهاد
| قیام کی تاریخ = 1988 ء
| بانی = اسامه بن لادن
| رہنما = ایمن الظواہری
| مقاصد = {{hlist |غیر مسلموں کی مداخلت اور اثرات کے خلاف دنیائے اسلام کا دفاع اور دنیا بھر میں اسلام کو پھیلانا}}
}}


تأسیس
'''القاعده'''، ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہے جو ایک [[اہل السنۃ والجماعت|سنی]] اسلامی تحریک کے طور پر سرگرم ہے اور اپنا مقصد غیر مسلموں کے اثرات اور مداخلت کے خلاف دنیائے [[اسلام]] کا دفاع اور دنیا بھر میں اسلام کی نشر و اشاعت کو قرار دیتی ہے۔
القاعدہ ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہے جو سوویت یونین کی افغانستان جنگ کے دوران [[پیشاور]] شہر میں «[[اسامہ بن لادن]]» کے ذریعے قائم کی گئی۔ یہ تنظیم مختلف ماورائے سرحد عسکری نیٹ ورکوں کی صورت میں ایک سنی اسلامی تحریک کے طور پر سرگرم عمل ہے اور اپنا مقصد غیر مسلموں کی مداخلت اور اثرات کے خلاف دنیائے اسلام کا دفاع اور دنیا بھر میں اسلام کو پھیلانا قرار دیتی ہے۔ القاعدہ کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، نیٹو، یورپی یونین اور امریکہ سمیت متعدد ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔


بن لادن کی ہلاکت
== تأسیس ==
[[اسامہ بن لادن]]، جو القاعدہ کا سربراہ تھا، سن 2011 میں پاکستان میں امریکی فوج کی ایک فوجی کارروائی میں ہلاک ہوا، اور اس کے بعد [[ایمن الظواہری]] نے اس نیٹ ورک کی قیادت سنبھال لی۔ اس تنظیم کی مختلف شاخیں متعدد ملکوں اور علاقوں میں سرگرم ہیں۔ شام میں “جبهة النصرہ” اور یمن میں “انسار الشریعہ” القاعدہ کی ایسی شاخیں ہیں جو ان دونوں ممالک کے بعض حصوں پر کنٹرول رکھتی تھیں، البتہ جولائی 2016 کے اواخر میں جبهة النصره القاعدہ سے علیحدہ ہو گئی۔
القاعدہ ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہے جو سوویت یونین کی افغانستان جنگ کے دوران پیشاور شہر میں «اسامہ بن لادن» کے ذریعے قائم کی گئی۔ یہ تنظیم مختلف ماورائے سرحد عسکری نیٹ ورکوں کی صورت میں ایک سنی اسلامی تحریک کے طور پر سرگرم عمل ہے اور اپنا مقصد غیر مسلموں کی مداخلت اور اثرات کے خلاف دنیائے اسلام کا دفاع اور دنیا بھر میں اسلام کو پھیلانا قرار دیتی ہے۔ القاعدہ کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، نیٹو، یورپی یونین اور امریکہ سمیت متعدد ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔


دہشت گردانہ سرگرمیاں
== بن لادن کی ہلاکت ==
القاعدہ نے مختلف ممالک میں فوجی اور غیر فوجی اہداف کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں سب سے اہم 11 ستمبر کے حملے تھے جن کے جواب میں امریکہ نے افغانستان پر حملے کے ذریعے “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کا آغاز کیا۔
اسامہ بن لادن، جو القاعدہ کا سربراہ تھا، سن 2011ء میں [[پاکستان]] میں [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکی]] فوج کی ایک فوجی کارروائی میں ہلاک ہوا، اور اس کے بعد ایمن الظواہری نے اس نیٹ ورک کی قیادت سنبھال لی۔ اس تنظیم کی مختلف شاخیں متعدد ملکوں اور علاقوں میں سرگرم ہیں۔ [[شام]] میں “جبهة النصرہ” اور [[یمن]] میں “انسار الشریعہ” القاعدہ کی ایسی شاخیں ہیں جو ان دونوں ممالک کے بعض حصوں پر کنٹرول رکھتی تھیں، البتہ جولائی 2016ء کے اواخر میں جبهة النصره القاعدہ سے علیحدہ ہو گئی۔


آغازِ فعالیت
== دہشت گردانہ سرگرمیاں ==
القاعدہ کا نام اس تنظیم کے پہلے عسکری اڈے «قاعدة الجهاد» سے اخذ کیا گیا ہے۔ ابتدا میں اس تنظیم کے زیادہ تر ارکان اسے «بین الاقوامی محاذِ جہاد بر ضد یہودیوں و صلیبیوں» کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اسی تناظر میں القاعدہ کی تنظیمی ساخت 1988 میں سعودی ارب پتی اسامہ بن لادن کے ذریعے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کی خاطر قائم کی گئی۔ القاعدہ، «مکتب الخدمة» نامی تنظیم سے پھلی پھولی، جس کا مقصد سوویت یونین کے خلاف جنگ کے لیے رضاکار مجاہدین کو مسلح کرنا اور انہیں تربیت دینا تھا۔ اس تنظیم کو پاکستان اور ساتھ ہی ساتھ امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔
القاعدہ نے مختلف ممالک میں فوجی اور غیر فوجی اہداف کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں سب سے اہم 11 ستمبر کے حملے تھے جن کے جواب میں [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] نے [[افغانستان]] پر حملے کے ذریعے “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کا آغاز کیا۔


ایمن الظواہری کا القاعدہ سے رابطہ
== آغازِ فعالیت ==
سن 2000 میں مصری چشم کے ڈاکٹر ایمن الظواہری نے «مصر کی اسلامی جہاد تنظیم» کو القاعدہ کے ساتھ ضم کر دیا اور اس طرح وہ اس نیٹ ورک کی دوسری اہم شخصیت بن گیا۔
القاعدہ کا نام اس تنظیم کے پہلے عسکری اڈے «قاعدة الجهاد» سے اخذ کیا گیا ہے۔ ابتدا میں اس تنظیم کے زیادہ تر ارکان اسے «بین الاقوامی محاذِ جہاد بر ضد یہودیوں و صلیبیوں» کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اسی تناظر میں القاعدہ کی تنظیمی ساخت 1988ء میں سعودی ارب پتی اسامہ بن لادن کے ذریعے [[افغانستان]] میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کی خاطر قائم کی گئی۔ القاعدہ، «مکتب الخدمة» نامی تنظیم سے پھلی پھولی، جس کا مقصد سوویت یونین کے خلاف جنگ کے لیے رضاکار مجاہدین کو مسلح کرنا اور انہیں تربیت دینا تھا۔ اس تنظیم کو پاکستان اور ساتھ ہی ساتھ امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔


سرگرمیوں کی جغرافیائی وسعت
== ایمن الظواہری کا القاعدہ سے رابطہ ==
القاعدہ تقریباً تمام ان اسلامی ممالک میں جہاں سنی آبادی موجود ہے، اپنے حامیوں یا ارکان رکھتی ہے۔ تاہم غیر اسلامی ملکوں میں بھی، جہاں مسلمان، مسلمان نژاد یا عرب نژاد آبادی رہتی ہے، القاعدہ اور سلفی جہادیوں کے حامی موجود ہیں، جن میں برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں۔ القاعدہ کے زیادہ تر افراد مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
سن 2000ء میں مصری آنکھ کے ڈاکٹر ایمن الظواہری نے «[[مصر]] کی اسلامی جہاد تنظیم» کو القاعدہ کے ساتھ ضم کر دیا اور اس طرح وہ اس نیٹ ورک کی دوسری اہم شخصیت بن گیا۔


شام میں فعالیت
== سرگرمیوں کی جغرافیائی وسعت ==
شام کی خانہ جنگی کے آغاز، یعنی سن 2011 سے پہلے، القاعدہ کی شام میں کوئی قابلِ ذکر موجودگی نہیں تھی، لیکن جنگ شروع ہونے کے بعد تندرو گروہ تیزی سے منظم ہوئے اور شامی اپوزیشن کے اندر سب سے مؤثر جنگی قوت بن کر ابھرے۔ «جبهة النصره» اور «داعش» جیسے گروہوں نے اپنی جنگی کاروائیوں اور اپنے کارکنوں کی عسکری تربیت کے لیے بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجوؤں کو بھی بھرتی کیا۔
القاعدہ تقریباً تمام ان اسلامی ممالک میں جہاں [[اہل السنۃ والجماعت|سنی]] آبادی موجود ہے، اپنے حامیوں یا ارکان رکھتی ہے۔ تاہم غیر اسلامی ملکوں میں بھی، جہاں [[مسلمان]]، مسلمان نژاد یا عرب نژاد آبادی رہتی ہے، القاعدہ اور سلفی جہادیوں کے حامی موجود ہیں، جن میں برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں۔ القاعدہ کے زیادہ تر افراد [[مشرق وسطی|مشرقِ وسطیٰ]] کے عرب ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔


اپریل 2013 میں «عراق کی اسلامی امارت» نے اعلان کیا کہ وہ جبهة النصره کے ساتھ متحد ہو کر «دولتِ اسلامی عراق و شام» کے نام سے ایک متحد ریاست قائم کرے گی، لیکن جبهة النصره اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت نے اس انضمام کو مسترد کر دیا۔
== شام میں فعالیت ==
[[شام]] کی خانہ جنگی کے آغاز، یعنی سن 2011ء‏‏ سے پہلے، القاعدہ کی شام میں کوئی قابلِ ذکر موجودگی نہیں تھی، لیکن جنگ شروع ہونے کے بعد تندرو گروہ تیزی سے منظم ہوئے اور شامی اپوزیشن کے اندر سب سے مؤثر جنگی قوت بن کر ابھرے۔ «جبهة النصره» اور «داعش» جیسے گروہوں نے اپنی جنگی کاروائیوں اور اپنے کارکنوں کی عسکری تربیت کے لیے بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجوؤں کو بھی بھرتی کیا۔


اس کے بعد القاعدہ نے شام میں اپنی واحد سرکاری شاخ کے طور پر جبهة النصره کی حمایت جاری رکھتے ہوئے داعش کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ جبهة النصره نے 24 مارچ 2015 کو شمالی شام میں دیگر باغی گروہوں کے ساتھ اتحاد کر کے «جیش الفتح» نامی گروہ قائم کیا اور بعد ازاں ادلب صوبے میں نمایاں فوجی کامیابیاں حاصل کیں؛ تاہم 28 جولائی 2016 کو جبهة النصره نے اپنا نام تبدیل کر کے «جبهة فتح الشام» رکھ لیا اور القاعدہ سے رسمی طور پر الگ ہو گئی۔
اپریل 2013ء میں «[[عراق]] کی اسلامی امارت» نے اعلان کیا کہ وہ جبهة النصره کے ساتھ متحد ہو کر «دولتِ اسلامی عراق و شام» کے نام سے ایک متحد ریاست قائم کرے گی، لیکن جبهة النصره اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت نے اس انضمام کو مسترد کر دیا۔


یمن میں موجودگی
اس کے بعد القاعدہ نے [[شام]] میں اپنی واحد سرکاری شاخ کے طور پر جبهة النصره کی حمایت جاری رکھتے ہوئے داعش کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ جبهة النصره نے 24 مارچ 2015 کو شمالی شام میں دیگر باغی گروہوں کے ساتھ اتحاد کر کے «جیش الفتح» نامی گروہ قائم کیا اور بعد ازاں ادلب صوبے میں نمایاں فوجی کامیابیاں حاصل کیں؛ تاہم 28 جولائی 2016 کو جبهة النصره نے اپنا نام تبدیل کر کے «جبهة فتح الشام» رکھ لیا اور القاعدہ سے رسمی طور پر الگ ہو گئی۔
القاعدہ کی یمنی شاخ [[یمن]] میں جنوری 2009 میں قائم ہوئی۔ یمن میں قائم یہ شاخ، جنوری 2009 میں دو علاقائی دہشت گرد نیٹ ورکوں کے انضمام کے نتیجے میں وجود میں آئی، جو یمن اور ایران میں موجود بین الاقوامی حوثی نیٹ ورک سے منسلک تھے۔ اس گروہ کا ہدف سعودی عرب کی بادشاہت اور یمن کی حکومت کو گرا کر ایک «اسلامی خلافت» قائم کرنا ہے، اور اس نے عہد کیا ہے کہ وہ تیل کی تنصیبات، غیر ملکیوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے جاری رکھے گا۔


== یمن میں موجودگی ==
القاعدہ کی یمنی شاخ [[یمن]] میں جنوری 2009ء میں قائم ہوئی۔ یمن میں قائم یہ شاخ، جنوری 2009ء میں دو علاقائی دہشت گرد نیٹ ورکوں کے انضمام کے نتیجے میں وجود میں آئی، جو یمن اور [[ایران]] میں موجود بین الاقوامی حوثی نیٹ ورک سے منسلک تھے۔ اس گروہ کا ہدف [[سعودی عرب]] کی بادشاہت اور یمن کی حکومت کو گرا کر ایک «اسلامی خلافت» قائم کرنا ہے، اور اس نے عہد کیا ہے کہ وہ تیل کی تنصیبات، غیر ملکیوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے جاری رکھے گا۔


## دہشت گردانہ حملے
== دہشت گردانہ حملے ==
25 جون 1996ء کو سعودی عرب کے شہر الخبر میں امریکی فوج کے اڈے پر ایک ٹرک بم دھماکے کے نتیجے میں 19 امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً 400 زخمی ہوئے۔ ابتدا میں ایف بی آئی (FBI) نے اس بم دھماکے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا؛ لیکن بل کلنٹن کے دورِ حکومت میں امریکی وزیر دفاع ولیم پیری نے 2007ء میں اعلان کیا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ بم دھماکہ ایران نے نہیں بلکہ القاعدہ نے کیا تھا۔
25 جون 1996ء کو [[سعودی عرب]] کے شہر الخبر میں [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکی]] فوج کے اڈے پر ایک ٹرک بم دھماکے کے نتیجے میں 19 امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً 400 زخمی ہوئے۔ ابتدا میں ایف بی آئی (FBI) نے اس بم دھماکے کا ذمہ دار [[ایران]] کو ٹھہرایا؛ لیکن بل کلنٹن کے دورِ حکومت میں [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکی]] وزیر دفاع ولیم پیری نے 2007ء میں اعلان کیا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ بم دھماکہ ایران نے نہیں بلکہ القاعدہ نے کیا تھا۔


"یو ایس ایس کول" (USS Cole) دھماکہ 12 اکتوبر 2000ء کو امریکی بحریہ کے تباہ کن بحری جہاز کے خلاف ایک دہشت گردانہ حملہ تھا، جو اس وقت پیش آیا جب یہ جہاز یمن کی بندرگاہ عدن میں ایندھن بھروا رہا تھا۔ 1987ء میں "یو ایس ایس سٹارک" (USS Stark) کے واقعے کے بعد امریکی بحریہ کے جہاز پر ہونے والے اس سب سے مہلک حملے میں 17 امریکی ملاح ہلاک اور 39 زخمی ہوئے۔ القاعدہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
"یو ایس ایس کول" (USS Cole) دھماکہ 12 اکتوبر 2000ء کو امریکی بحریہ کے تباہ کن بحری جہاز کے خلاف ایک دہشت گردانہ حملہ تھا، جو اس وقت پیش آیا جب یہ جہاز [[یمن]] کی بندرگاہ عدن میں ایندھن بھروا رہا تھا۔ 1987ء میں "یو ایس ایس سٹارک" (USS Stark) کے واقعے کے بعد امریکی بحریہ کے جہاز پر ہونے والے اس سب سے مہلک حملے میں 17 امریکی ملاح ہلاک اور 39 زخمی ہوئے۔ القاعدہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔


11 ستمبر کے حملے خودکش حملوں کا ایک سلسلہ تھے جو 11 ستمبر 2001ء کو القاعدہ کی جانب سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سرزمین پر کیے گئے۔ اس صبح، القاعدہ کے 19 ارکان نے چار تجارتی مسافر بردار طیارے اغوا کیے۔ اغوا کاروں نے جان بوجھ کر دو طیارے نیویارک شہر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز سے ٹکرا دیے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں تمام مسافر اور عمارتوں میں موجود بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے۔ دونوں عمارتیں دو گھنٹے کے اندر مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور آس پاس کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اغوا کاروں کے گروپ نے تیسرا طیارہ ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں واقع پینٹاگون سے ٹکرایا۔ تاہم، چوتھا طیارہ پنسلوانیا کے شہر شنکسویل کے قریب ایک کھیت میں گر کر تباہ ہوا۔ یہ اس وقت ہوا جب کچھ مسافروں اور عملے کے ارکان نے طیارے کے گرنے سے قبل اغوا کاروں سے کنٹرول چھیننے کی کوشش کی، جو اسے واشنگٹن ڈی سی کی طرف لے جا رہے تھے۔ لیکن اس پرواز اور دیگر تینوں پروازوں میں سے کوئی بھی مسافر زندہ نہیں بچا۔ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2,974 تھی، اور اگر 19 اغوا کاروں کو بھی شامل کیا جائے تو کل ہلاکتیں 2,993 بنتی ہیں۔ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، جن کا تعلق دنیا کے 90 مختلف ممالک سے تھا۔ اس کے علاوہ، دونوں ٹاورز کے گرنے سے پیدا ہونے والی دھول کے باعث کم از کم ایک شخص کی موت کی بھی اطلاع ملی۔
11 ستمبر کے حملے خودکش حملوں کا ایک سلسلہ تھے جو 11 ستمبر 2001ء کو القاعدہ کی جانب سے [[ریاستہائے متحدہ امریکا|ریاستہائے متحدہ امریکہ]] کی سرزمین پر کیے گئے۔ اس صبح، القاعدہ کے 19 ارکان نے چار تجارتی مسافر بردار طیارے اغوا کیے۔ اغوا کاروں نے جان بوجھ کر دو طیارے نیویارک شہر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز سے ٹکرا دیے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں تمام مسافر اور عمارتوں میں موجود بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے۔ دونوں عمارتیں دو گھنٹے کے اندر مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور آس پاس کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اغوا کاروں کے گروپ نے تیسرا طیارہ ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں واقع پینٹاگون سے ٹکرایا۔ تاہم، چوتھا طیارہ پنسلوانیا کے شہر شنکسویل کے قریب ایک کھیت میں گر کر تباہ ہوا۔  


2004ء کا عاشورہ بم دھماکہ بغداد میں سلسلہ وار بم دھماکوں کا ایک مجموعہ تھا، جس کے نتیجے میں عاشورہ کے دن سیکڑوں شیعہ زائرین ہلاک و زخمی ہوئے۔ یہ دھماکے امریکہ کے زیرِ قبضہ عراق کے دوران سب سے شدید تھے۔ القاعدہ عراق پر اس بم دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔
یہ اس وقت ہوا جب کچھ مسافروں اور عملے کے ارکان نے طیارے کے گرنے سے قبل اغوا کاروں سے کنٹرول چھیننے کی کوشش کی، جو اسے واشنگٹن ڈی سی کی طرف لے جا رہے تھے۔ لیکن اس پرواز اور دیگر تینوں پروازوں میں سے کوئی بھی مسافر زندہ نہیں بچا۔ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2,974 تھی، اور اگر 19 اغوا کاروں کو بھی شامل کیا جائے تو کل ہلاکتیں 2,993 بنتی ہیں۔ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، جن کا تعلق دنیا کے 90 مختلف ممالک سے تھا۔ اس کے علاوہ، دونوں ٹاورز کے گرنے سے پیدا ہونے والی دھول کے باعث کم از کم ایک شخص کی موت کی بھی اطلاع ملی۔
 
2004ء کا عاشورہ بم دھماکہ بغداد میں سلسلہ وار بم دھماکوں کا ایک مجموعہ تھا، جس کے نتیجے میں عاشورہ کے دن سیکڑوں [[شیعہ]] زائرین ہلاک و زخمی ہوئے۔ یہ دھماکے امریکہ کے زیرِ قبضہ [[عراق]] کے دوران سب سے شدید تھے۔ القاعدہ عراق پر اس بم دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔


جمعرات 11 مارچ 2004ء (21 اسفند 1382ھ ش) کی صبح اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں مصروف ترین اوقات میں ٹرین کے تین اسٹیشنوں پر دس بم دھماکے ہوئے جس سے مسافروں سے بھری ٹرینیں تباہ ہو گئیں۔ ان بم دھماکوں میں 191 افراد ہلاک اور 2,050 زخمی ہوئے۔
جمعرات 11 مارچ 2004ء (21 اسفند 1382ھ ش) کی صبح اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں مصروف ترین اوقات میں ٹرین کے تین اسٹیشنوں پر دس بم دھماکے ہوئے جس سے مسافروں سے بھری ٹرینیں تباہ ہو گئیں۔ ان بم دھماکوں میں 191 افراد ہلاک اور 2,050 زخمی ہوئے۔


30 جولائی 2004ء بروز جمعہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشکند میں تین خودکش بم دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں نے اسرائیل اور امریکہ کے سفارت خانوں اور ازبکستان کے اٹارنی جنرل کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی سفارت خانے کے داخلی راستے پر ازبکستان کے دو سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوئے اور دیگر نو افراد زخمی ہوئے۔
30 جولائی 2004ء بروز جمعہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشکند میں تین خودکش بم دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں نے [[اسرائیل]] اور امریکہ کے سفارت خانوں اور ازبکستان کے اٹارنی جنرل کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی سفارت خانے کے داخلی راستے پر ازبکستان کے دو سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوئے اور دیگر نو افراد زخمی ہوئے۔


23 اگست 2003ء کو حضرت علی بن ابی طالب (ع) کے حرم میں بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں محمد باقر الحکیم سمیت 95 افراد جاں بحق اور 500 سے زائد زخمی ہوئے، اس حملے کی نسبت القاعدہ کی طرف دی گئی تھی۔
23 اگست 2003ء کو [[علی ابن ابی طالب|حضرت علی بن ابی طالب]] (ع) کے حرم میں بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں محمد باقر الحکیم سمیت 95 افراد جاں بحق اور 500 سے زائد زخمی ہوئے، اس حملے کی نسبت القاعدہ کی طرف دی گئی تھی۔


7 جولائی 2005ء (16 تیر 1384ھ ش) کے بم دھماکے لندن کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے 7 جولائی 2005ء کی صبح ہونے والے خودکش حملوں کا ایک سلسلہ تھے۔ اس دن 4 خودکش بمباروں نے 3 میٹرو اسٹیشنوں اور ایک سٹی بس میں بم دھماکے کیے جس کے نتیجے میں 52 عام شہری اور چاروں حملہ آور ہلاک ہوئے، جبکہ 700 افراد زخمی ہوئے۔
7 جولائی 2005ء (16 تیر 1384ھ ش) کے بم دھماکے لندن کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے 7 جولائی 2005ء کی صبح ہونے والے خودکش حملوں کا ایک سلسلہ تھے۔ اس دن 4 خودکش بمباروں نے 3 میٹرو اسٹیشنوں اور ایک سٹی بس میں بم دھماکے کیے جس کے نتیجے میں 52 عام شہری اور چاروں حملہ آور ہلاک ہوئے، جبکہ 700 افراد زخمی ہوئے۔
سطر 49: سطر 60:
بدھ کی صبح، 3 اسفند 1384ھ ش (22 فروری 2006ء) کو مسلح افراد نے سامراء شہر میں "حرمین عسکریین" کے محافظوں پر حملہ کیا اور اس مقدس مقام میں داخل ہو کر مختلف مقامات پر بم نصب کر کے اسے دھماکے سے اڑا دیا۔ اس طرح حرم کا ایک حصہ تباہ ہو گیا اور اس کے سنہری گنبد کو شدید نقصان پہنچا۔ اس واقعے کے بعد عراق کے سکیورٹی حکام نے حملہ آوروں کو القاعدہ کے سات ارکان پر مشتمل گروہ قرار دیا۔
بدھ کی صبح، 3 اسفند 1384ھ ش (22 فروری 2006ء) کو مسلح افراد نے سامراء شہر میں "حرمین عسکریین" کے محافظوں پر حملہ کیا اور اس مقدس مقام میں داخل ہو کر مختلف مقامات پر بم نصب کر کے اسے دھماکے سے اڑا دیا۔ اس طرح حرم کا ایک حصہ تباہ ہو گیا اور اس کے سنہری گنبد کو شدید نقصان پہنچا۔ اس واقعے کے بعد عراق کے سکیورٹی حکام نے حملہ آوروں کو القاعدہ کے سات ارکان پر مشتمل گروہ قرار دیا۔


19 نومبر 2013ء کا بیروت بم دھماکہ، بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے سامنے دو خودکش بم دھماکوں کے ذریعے کیا گیا جس کے نتیجے میں بیروت میں ایران کے کلچرل اتاشی سمیت 23 افراد ہلاک ہوئے۔ القاعدہ سے منسلک سلفی جہادی گروپ "عبداللہ عزام بریگیڈ" نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔
19 نومبر 2013ء کا بیروت بم دھماکہ، بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے سامنے دو خودکش بم دھماکوں کے ذریعے کیا گیا جس کے نتیجے میں بیروت میں [[ایران]] کے کلچرل اتاشی سمیت 23 افراد ہلاک ہوئے۔ القاعدہ سے منسلک سلفی جہادی گروپ "عبداللہ عزام بریگیڈ" نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔
 
20 نومبر 2015ء کو مالی کے دارالحکومت باماکو میں ریڈیسن بلو ہوٹل میں فائرنگ اور یرغمال بنانے کا واقعہ پیش آیا جس میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوئے۔ یرغمال بنائے جانے کے بعد اسپیشل فورسز نے ہوٹل پر حملہ کر کے مغویوں کو بازیاب کرایا۔ القاعدہ کے ساتھ مل کر "مرابطون" گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ اس حملے کے بعد مالی کی حکومت نے دس دن کے لیے ہنگامی حالت اور ہلاک ہونے والوں کے لیے تین دن کے سوگ کا اعلان کیا<ref>[https://www.tabnak.ir/fa/tags/2452/1/%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%B9%D8%AF%D9%87 تابناک ویب سایٹ](زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۱۹/ جنوری /۲۰۲۴ء اخذشده تاریخ:۱۹/ مئی /2026ء</ref>۔
 
جبهة النصره کی حمایت
تکفیری دہشت گردوں کی شورش اور [[شام پر حملہ 2004ء|شمال مغربی شام پر حملے]] کے بعد، القاعدہ نے جبهة النصره کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔


20 نومبر 2015ء کو مالی کے دارالحکومت باماکو میں ریڈیسن بلو ہوٹل میں فائرنگ اور یرغمال بنانے کا واقعہ پیش آیا جس میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوئے۔ یرغمال بنائے جانے کے بعد اسپیشل فورسز نے ہوٹل پر حملہ کر کے مغویوں کو بازیاب کرایا۔ القاعدہ کے ساتھ مل کر "مرابطون" گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ اس حملے کے بعد مالی کی حکومت نے دس دن کے لیے ہنگامی حالت اور ہلاک ہونے والوں کے لیے تین دن کے سوگ کا اعلان کیا<ref>[https://www.tabnak.ir/fa/tags/2452/1/%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%B9%D8%AF%D9%87 تابناک]</ref>۔
== متعلقہ موضوعات ==
* [[افغانستان]]
* [[پاکستان]]
* [[شام پر حملہ 2004ء]]


## جبهة النصره کی حمایت
== حوالہ جات ==
تکفیری دہشت گردوں کی شورش اور [[شام پر 2024 کا حملہ|شمال مغربی شام پر حملے]] کے بعد، القاعدہ نے [[جبهة النصره]] کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔
{{حوالہ جات}}


## متعلقہ موضوعات
[[زمرہ:تنظیم]]
* [[داعش]]
[[زمرہ:افغانستان]]
* [[جبهة النصره]]
* [[اسامہ بن لادن]]
* [[شام پر 2024 کا حملہ]]


```sources
[[fa:القاعده]]
[[جبهة النصره]]
[[شام پر 2024 کا حملہ]]
[[داعش]]
[[اسامه بن لادن]]
```

حالیہ نسخہ بمطابق 14:26، 19 مئی 2026ء

القاعدہ
پارٹی کا نامقاعدة الجهاد
قیام کی تاریخ1988 ء، 1366 ش، 1408 ق
بانی پارٹیاسامه بن لادن
پارٹی رہنماایمن الظواہری
مقاصد و مبانی
  • غیر مسلموں کی مداخلت اور اثرات کے خلاف دنیائے اسلام کا دفاع اور دنیا بھر میں اسلام کو پھیلانا

القاعده، ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہے جو ایک سنی اسلامی تحریک کے طور پر سرگرم ہے اور اپنا مقصد غیر مسلموں کے اثرات اور مداخلت کے خلاف دنیائے اسلام کا دفاع اور دنیا بھر میں اسلام کی نشر و اشاعت کو قرار دیتی ہے۔

تأسیس

القاعدہ ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہے جو سوویت یونین کی افغانستان جنگ کے دوران پیشاور شہر میں «اسامہ بن لادن» کے ذریعے قائم کی گئی۔ یہ تنظیم مختلف ماورائے سرحد عسکری نیٹ ورکوں کی صورت میں ایک سنی اسلامی تحریک کے طور پر سرگرم عمل ہے اور اپنا مقصد غیر مسلموں کی مداخلت اور اثرات کے خلاف دنیائے اسلام کا دفاع اور دنیا بھر میں اسلام کو پھیلانا قرار دیتی ہے۔ القاعدہ کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، نیٹو، یورپی یونین اور امریکہ سمیت متعدد ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

بن لادن کی ہلاکت

اسامہ بن لادن، جو القاعدہ کا سربراہ تھا، سن 2011ء میں پاکستان میں امریکی فوج کی ایک فوجی کارروائی میں ہلاک ہوا، اور اس کے بعد ایمن الظواہری نے اس نیٹ ورک کی قیادت سنبھال لی۔ اس تنظیم کی مختلف شاخیں متعدد ملکوں اور علاقوں میں سرگرم ہیں۔ شام میں “جبهة النصرہ” اور یمن میں “انسار الشریعہ” القاعدہ کی ایسی شاخیں ہیں جو ان دونوں ممالک کے بعض حصوں پر کنٹرول رکھتی تھیں، البتہ جولائی 2016ء کے اواخر میں جبهة النصره القاعدہ سے علیحدہ ہو گئی۔

دہشت گردانہ سرگرمیاں

القاعدہ نے مختلف ممالک میں فوجی اور غیر فوجی اہداف کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں سب سے اہم 11 ستمبر کے حملے تھے جن کے جواب میں امریکہ نے افغانستان پر حملے کے ذریعے “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کا آغاز کیا۔

آغازِ فعالیت

القاعدہ کا نام اس تنظیم کے پہلے عسکری اڈے «قاعدة الجهاد» سے اخذ کیا گیا ہے۔ ابتدا میں اس تنظیم کے زیادہ تر ارکان اسے «بین الاقوامی محاذِ جہاد بر ضد یہودیوں و صلیبیوں» کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اسی تناظر میں القاعدہ کی تنظیمی ساخت 1988ء میں سعودی ارب پتی اسامہ بن لادن کے ذریعے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کی خاطر قائم کی گئی۔ القاعدہ، «مکتب الخدمة» نامی تنظیم سے پھلی پھولی، جس کا مقصد سوویت یونین کے خلاف جنگ کے لیے رضاکار مجاہدین کو مسلح کرنا اور انہیں تربیت دینا تھا۔ اس تنظیم کو پاکستان اور ساتھ ہی ساتھ امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔

ایمن الظواہری کا القاعدہ سے رابطہ

سن 2000ء میں مصری آنکھ کے ڈاکٹر ایمن الظواہری نے «مصر کی اسلامی جہاد تنظیم» کو القاعدہ کے ساتھ ضم کر دیا اور اس طرح وہ اس نیٹ ورک کی دوسری اہم شخصیت بن گیا۔

سرگرمیوں کی جغرافیائی وسعت

القاعدہ تقریباً تمام ان اسلامی ممالک میں جہاں سنی آبادی موجود ہے، اپنے حامیوں یا ارکان رکھتی ہے۔ تاہم غیر اسلامی ملکوں میں بھی، جہاں مسلمان، مسلمان نژاد یا عرب نژاد آبادی رہتی ہے، القاعدہ اور سلفی جہادیوں کے حامی موجود ہیں، جن میں برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں۔ القاعدہ کے زیادہ تر افراد مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

شام میں فعالیت

شام کی خانہ جنگی کے آغاز، یعنی سن 2011ء‏‏ سے پہلے، القاعدہ کی شام میں کوئی قابلِ ذکر موجودگی نہیں تھی، لیکن جنگ شروع ہونے کے بعد تندرو گروہ تیزی سے منظم ہوئے اور شامی اپوزیشن کے اندر سب سے مؤثر جنگی قوت بن کر ابھرے۔ «جبهة النصره» اور «داعش» جیسے گروہوں نے اپنی جنگی کاروائیوں اور اپنے کارکنوں کی عسکری تربیت کے لیے بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجوؤں کو بھی بھرتی کیا۔

اپریل 2013ء میں «عراق کی اسلامی امارت» نے اعلان کیا کہ وہ جبهة النصره کے ساتھ متحد ہو کر «دولتِ اسلامی عراق و شام» کے نام سے ایک متحد ریاست قائم کرے گی، لیکن جبهة النصره اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت نے اس انضمام کو مسترد کر دیا۔

اس کے بعد القاعدہ نے شام میں اپنی واحد سرکاری شاخ کے طور پر جبهة النصره کی حمایت جاری رکھتے ہوئے داعش کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ جبهة النصره نے 24 مارچ 2015 کو شمالی شام میں دیگر باغی گروہوں کے ساتھ اتحاد کر کے «جیش الفتح» نامی گروہ قائم کیا اور بعد ازاں ادلب صوبے میں نمایاں فوجی کامیابیاں حاصل کیں؛ تاہم 28 جولائی 2016 کو جبهة النصره نے اپنا نام تبدیل کر کے «جبهة فتح الشام» رکھ لیا اور القاعدہ سے رسمی طور پر الگ ہو گئی۔

یمن میں موجودگی

القاعدہ کی یمنی شاخ یمن میں جنوری 2009ء میں قائم ہوئی۔ یمن میں قائم یہ شاخ، جنوری 2009ء میں دو علاقائی دہشت گرد نیٹ ورکوں کے انضمام کے نتیجے میں وجود میں آئی، جو یمن اور ایران میں موجود بین الاقوامی حوثی نیٹ ورک سے منسلک تھے۔ اس گروہ کا ہدف سعودی عرب کی بادشاہت اور یمن کی حکومت کو گرا کر ایک «اسلامی خلافت» قائم کرنا ہے، اور اس نے عہد کیا ہے کہ وہ تیل کی تنصیبات، غیر ملکیوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے جاری رکھے گا۔

دہشت گردانہ حملے

25 جون 1996ء کو سعودی عرب کے شہر الخبر میں امریکی فوج کے اڈے پر ایک ٹرک بم دھماکے کے نتیجے میں 19 امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً 400 زخمی ہوئے۔ ابتدا میں ایف بی آئی (FBI) نے اس بم دھماکے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا؛ لیکن بل کلنٹن کے دورِ حکومت میں امریکی وزیر دفاع ولیم پیری نے 2007ء میں اعلان کیا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ بم دھماکہ ایران نے نہیں بلکہ القاعدہ نے کیا تھا۔

"یو ایس ایس کول" (USS Cole) دھماکہ 12 اکتوبر 2000ء کو امریکی بحریہ کے تباہ کن بحری جہاز کے خلاف ایک دہشت گردانہ حملہ تھا، جو اس وقت پیش آیا جب یہ جہاز یمن کی بندرگاہ عدن میں ایندھن بھروا رہا تھا۔ 1987ء میں "یو ایس ایس سٹارک" (USS Stark) کے واقعے کے بعد امریکی بحریہ کے جہاز پر ہونے والے اس سب سے مہلک حملے میں 17 امریکی ملاح ہلاک اور 39 زخمی ہوئے۔ القاعدہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

11 ستمبر کے حملے خودکش حملوں کا ایک سلسلہ تھے جو 11 ستمبر 2001ء کو القاعدہ کی جانب سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سرزمین پر کیے گئے۔ اس صبح، القاعدہ کے 19 ارکان نے چار تجارتی مسافر بردار طیارے اغوا کیے۔ اغوا کاروں نے جان بوجھ کر دو طیارے نیویارک شہر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز سے ٹکرا دیے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں تمام مسافر اور عمارتوں میں موجود بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے۔ دونوں عمارتیں دو گھنٹے کے اندر مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور آس پاس کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اغوا کاروں کے گروپ نے تیسرا طیارہ ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں واقع پینٹاگون سے ٹکرایا۔ تاہم، چوتھا طیارہ پنسلوانیا کے شہر شنکسویل کے قریب ایک کھیت میں گر کر تباہ ہوا۔

یہ اس وقت ہوا جب کچھ مسافروں اور عملے کے ارکان نے طیارے کے گرنے سے قبل اغوا کاروں سے کنٹرول چھیننے کی کوشش کی، جو اسے واشنگٹن ڈی سی کی طرف لے جا رہے تھے۔ لیکن اس پرواز اور دیگر تینوں پروازوں میں سے کوئی بھی مسافر زندہ نہیں بچا۔ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2,974 تھی، اور اگر 19 اغوا کاروں کو بھی شامل کیا جائے تو کل ہلاکتیں 2,993 بنتی ہیں۔ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، جن کا تعلق دنیا کے 90 مختلف ممالک سے تھا۔ اس کے علاوہ، دونوں ٹاورز کے گرنے سے پیدا ہونے والی دھول کے باعث کم از کم ایک شخص کی موت کی بھی اطلاع ملی۔

2004ء کا عاشورہ بم دھماکہ بغداد میں سلسلہ وار بم دھماکوں کا ایک مجموعہ تھا، جس کے نتیجے میں عاشورہ کے دن سیکڑوں شیعہ زائرین ہلاک و زخمی ہوئے۔ یہ دھماکے امریکہ کے زیرِ قبضہ عراق کے دوران سب سے شدید تھے۔ القاعدہ عراق پر اس بم دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

جمعرات 11 مارچ 2004ء (21 اسفند 1382ھ ش) کی صبح اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں مصروف ترین اوقات میں ٹرین کے تین اسٹیشنوں پر دس بم دھماکے ہوئے جس سے مسافروں سے بھری ٹرینیں تباہ ہو گئیں۔ ان بم دھماکوں میں 191 افراد ہلاک اور 2,050 زخمی ہوئے۔

30 جولائی 2004ء بروز جمعہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشکند میں تین خودکش بم دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں نے اسرائیل اور امریکہ کے سفارت خانوں اور ازبکستان کے اٹارنی جنرل کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی سفارت خانے کے داخلی راستے پر ازبکستان کے دو سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوئے اور دیگر نو افراد زخمی ہوئے۔

23 اگست 2003ء کو حضرت علی بن ابی طالب (ع) کے حرم میں بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں محمد باقر الحکیم سمیت 95 افراد جاں بحق اور 500 سے زائد زخمی ہوئے، اس حملے کی نسبت القاعدہ کی طرف دی گئی تھی۔

7 جولائی 2005ء (16 تیر 1384ھ ش) کے بم دھماکے لندن کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے 7 جولائی 2005ء کی صبح ہونے والے خودکش حملوں کا ایک سلسلہ تھے۔ اس دن 4 خودکش بمباروں نے 3 میٹرو اسٹیشنوں اور ایک سٹی بس میں بم دھماکے کیے جس کے نتیجے میں 52 عام شہری اور چاروں حملہ آور ہلاک ہوئے، جبکہ 700 افراد زخمی ہوئے۔

بدھ کی صبح، 3 اسفند 1384ھ ش (22 فروری 2006ء) کو مسلح افراد نے سامراء شہر میں "حرمین عسکریین" کے محافظوں پر حملہ کیا اور اس مقدس مقام میں داخل ہو کر مختلف مقامات پر بم نصب کر کے اسے دھماکے سے اڑا دیا۔ اس طرح حرم کا ایک حصہ تباہ ہو گیا اور اس کے سنہری گنبد کو شدید نقصان پہنچا۔ اس واقعے کے بعد عراق کے سکیورٹی حکام نے حملہ آوروں کو القاعدہ کے سات ارکان پر مشتمل گروہ قرار دیا۔

19 نومبر 2013ء کا بیروت بم دھماکہ، بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے سامنے دو خودکش بم دھماکوں کے ذریعے کیا گیا جس کے نتیجے میں بیروت میں ایران کے کلچرل اتاشی سمیت 23 افراد ہلاک ہوئے۔ القاعدہ سے منسلک سلفی جہادی گروپ "عبداللہ عزام بریگیڈ" نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔

20 نومبر 2015ء کو مالی کے دارالحکومت باماکو میں ریڈیسن بلو ہوٹل میں فائرنگ اور یرغمال بنانے کا واقعہ پیش آیا جس میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوئے۔ یرغمال بنائے جانے کے بعد اسپیشل فورسز نے ہوٹل پر حملہ کر کے مغویوں کو بازیاب کرایا۔ القاعدہ کے ساتھ مل کر "مرابطون" گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ اس حملے کے بعد مالی کی حکومت نے دس دن کے لیے ہنگامی حالت اور ہلاک ہونے والوں کے لیے تین دن کے سوگ کا اعلان کیا[1]۔

جبهة النصره کی حمایت تکفیری دہشت گردوں کی شورش اور شمال مغربی شام پر حملے کے بعد، القاعدہ نے جبهة النصره کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔

متعلقہ موضوعات

حوالہ جات

  1. تابناک ویب سایٹ(زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۱۹/ جنوری /۲۰۲۴ء اخذشده تاریخ:۱۹/ مئی /2026ء