مندرجات کا رخ کریں

"ابو عمر الشیشانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:ابو عمر الشیشانی کو ابو عمر الشیشانی کی جانب منتقل کیا
 
(ایک ہی صارف کا 3 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{جعبہ معلومات شخصیت
 
| عنوان = ابو عمر الشیشانی
{{خانہ معلومات شخصیت
| تصویر = ابوعمر شیشانی.jpg
| title =   ابو عمر الشیشانی
| نام = تارخان تیمورازوویچ باتیراشویلی
| image = ابوعمر شیشانی.jpg
| نام‌های دیگر = ابو عُمَر الشیشانی، عمر چچنی
| name = تارخان تیمورازوویچ باتیراشویلی  
| سال تولد = 1986 ع
| other names = ابو عُمَر الشیشانی، عمر چچنی  
| تاریخ تولد =  
| brith year  = 1986 ء
| محل تولد = جارجیا
| brith date =  
| سال درگذشت =  
| birth place = جارجیا  
| تاریخ درگذشت = ۲۰۱۶ ع
| death year = ۲۰۱۶ ء
| محل درگذشت = موصل
| death date =
| استادان =
| death place = موصل  
| شاگردان =  
| teachers = محفوظ نحناح
| دین =
| students =  
| مذهب =  
| religion = [[اسلام]]
| آثار =  
| faith =  
| فعالیت‌ها = سابق وزیر جنگ [[داعش]]
| works = وزیر جنگ [[داعش]]
| وبگاه =  
| known for =
}}
}}
'''تارخان تیمورازوویچ باتیراشویلی''' (جارجیائی زبان میں: თარხან ბათირაშვიلی) معروف بہ ابو عُمَر الشیشانی (فارسی میں: عمر چچنی) (پیدائش ۱۹۸۶ء بیرکیانی میں – وفات ۱۰ جولائی ۲۰۱۶ء موصل میں) [[داعش]] کے سابق وزیر جنگ اور [[جارجیا]] کے جہادی نیم فوجی دستوں کے کمانڈر تھے، جو ابوعبدالرحمان البیلاوی الانباری کی ہلاکت کے بعد داعش کے فوجی کمانڈر منتخب ہوئے۔ اس سے قبل وہ جہادی گروہ "جیش المهاجرین و الانصار" کے رہنما تھے، جس کے زیادہ تر ارکان شمالی [[قفقاز]] کے جنگجو تھے۔
'''تارخان تیمورازوویچ باتیراشویلی''' (جارجیائی زبان میں: თარხან ბათირაშვიلی) معروف بہ ابو عُمَر الشیشانی (فارسی میں: عمر چچنی) (پیدائش ۱۹۸۶ء بیرکیانی میں – وفات ۱۰ جولائی ۲۰۱۶ء موصل میں) [[داعش]] کے سابق وزیر جنگ اور [[جارجیا]] کے جہادی نیم فوجی دستوں کے کمانڈر تھے، جو ابوعبدالرحمان البیلاوی الانباری کی ہلاکت کے بعد داعش کے فوجی کمانڈر منتخب ہوئے۔ اس سے قبل وہ جہادی گروہ "جیش المهاجرین و الانصار" کے رہنما تھے، جس کے زیادہ تر ارکان شمالی [[قفقاز]] کے جنگجو تھے۔


== زندگی==
عمر شیشانی کا خاندان [[چچنیا]] کے ایک غریب نشین علاقے میں، جارجیا کی سرحد کے قریب رہتا ہے۔ عمر نے چھ سال قبل طبی وجوہات کی بنا پر جارجیا کی فوج چھوڑ دی تھی۔ عمر کے والد تیمور باتیراشویلی کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا عیسوی تربیت پر پلا بڑھا ہے اور ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے انتہا پسند [[اسلام]] کی طرف مائل ہو گیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس علاقے کے انتہا پسند [[مسلمان]] مذہبی رہنماؤں نے ان کے بیٹے کا برین واش کیا ہے۔


== شام اور عراق میں موجودگی==
الشیشانی [[شام]] میں جنگجو گروہوں میں سے ایک کے کمانڈر تھے، جنہوں نے پہلی بار اپنی حملہ آور لائن کو [[عراق]] کی طرف منتقل کیا اور دونوں ممالک کی سرحدیں ختم کر دیں۔ عراق کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے ایک ویڈیو میں اعلان کیا کہ "ہمارا مقصد واضح ہے اور سب جانتے ہیں کہ ہم یہاں کیوں لڑ رہے ہیں۔


== زندگی==
ہمارا راستہ [[خلافت]] یا اسلامی ریاست کے قیام کی طرف جاتا ہے۔ ہم خلافت کو بحال کریں گے اور اگر [[خدا]] نے یہ نہیں چاہا تو ہمیں شہادت عطا فرمائے گا"۔ بروکنگز تھنک ٹینک کے ماہر چارلس لسٹر نے اس حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: داعش اپنے آزاد افراد پر شدید انحصار کرتا ہے۔  
عمر شیشانی کا خاندان [[چچنیا]] کے ایک غریب نشین علاقے میں، جارجیا کی سرحد کے قریب رہتا ہے۔ عمر نے چھ سال قبل طبی وجوہات کی بنا پر جارجیا کی فوج چھوڑ دی تھی۔ عمر کے والد تیمور باتیراشویلی کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا عیسوی تربیت پر پلا بڑھا ہے اور ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے انتہا پسند [[اسلام]] کی طرف مائل ہو گیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس علاقے کے انتہا پسند [[مسلمان]] مذہبی رہنماؤں نے ان کے بیٹے کا دماغ شستشو دیا ہے۔


یہ روابط اور فرد پر مبنی پیچیدہ تعلقات اس بات کا باعث بنتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اس فورس میں شامل ہو کر اچانک فوجی خلاقیت یا چھوٹی یا بڑی محاذ پر فتح کے ذریعے کسی علاقے کا فوجی کمانڈر یا بعد میں پورے گروہ کا فوجی کمانڈر بن سکتا ہے۔ مغربی میڈیا نے انہیں داعش کا ستارہ کا لقب دیا ہے۔


مغربی میڈیا ہمیشہ یہ سمجھتا رہا ہے کہ عرب آپس میں لڑ رہے ہیں، لیکن اس جوان چچن کی موجودگی نے داعش کے جنگجوؤں کے بارے میں ان کے تصور کو بدل دیا۔ اور اس کے بعد داعش مکمل طور پر بکھر گیا<ref>[https://www.seratnews.com/fa/news/185923/%D8%B4%DB%8C%D8%B7%D8%A7%D9%86-%D8%AE%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%D9%87-%D8%A8%D8%A7-%D9%85%D9%88%D9%87%D8%A7%DB%8C-%D9%82%D8%B1%D9%85%D8%B2-%D8%B9%DA%A9%D8%B3 سایت صراط]</ref>۔


== شام اور عراق میں موجودگی==
== شیشانی کی موت کا دعویٰ==
الشیشانی [[شام]] میں جنگجو گروہوں میں سے ایک کے کمانڈر تھے، جنہوں نے پہلی بار اپنی حملہ آور لائن کو [[عراق]] کی طرف منتقل کیا اور دونوں ممالک کی سرحدیں ختم کر دیں۔ عراق کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے ایک ویڈیو میں اعلان کیا کہ "ہمارا مقصد واضح ہے اور سب جانتے ہیں کہ ہم یہاں کیوں لڑ رہے ہیں۔ ہمارا راستہ [[خلافت]] یا اسلامی ریاست کے قیام کی طرف جاتا ہے۔ ہم خلافت کو بحال کریں گے اور اگر [[خدا]] نے یہ نہیں چاہا تو ہمیں شہادت عطا فرمائے گا"۔ بروکنگز تھنک ٹینک کے ماہر چارلس لسٹر نے اس حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: داعش اپنے آزاد افراد پر شدید انحصار کرتا ہے۔ یہ روابط اور فرد پر مبنی پیچیدہ تعلقات اس بات کا باعث بنتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اس فورس میں شامل ہو کر اچانک فوجی خلاقیت یا چھوٹی یا بڑی محاذ پر فتح کے ذریعے کسی علاقے کا فوجی کمانڈر یا بعد میں پورے گروہ کا فوجی کمانڈر بن سکتا ہے۔ مغربی میڈیا نے انہیں داعش کا ستارہ کا لقب دیا ہے۔ مغربی میڈیا ہمیشہ یہ سمجھتا رہا ہے کہ عرب آپس میں لڑ رہے ہیں، لیکن اس جوان چچن کی موجودگی نے داعش کے جنگجوؤں کے بارے میں ان کے تصور کو بدل دیا۔ اور اس کے بعد داعش مکمل طور پر بکھر گیا<ref>[https://www.seratnews.com/fa/news/185923/%D8%B4%DB%8C%D8%B7%D8%A7%D9%86-%D8%AE%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%D9%87-%D8%A8%D8%A7-%D9%85%D9%88%D9%87%D8%A7%DB%8C-%D9%82%D8%B1%D9%85%D8%B2-%D8%B9%DA%A9%D8%B3 سایت صراط]</ref>۔
اردیبہشت ۱۳۹۳ ہجری شمسی کے آخری ہفتے میں بہت سے میڈیا ذرائع نے دعویٰ کیا کہ عمر شیشانی [[جبهة النصره|جبهةالنصرہ]] کی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارا گیا ہے <ref>[https://www.yjc.news/fa/news/4847026/%D8%A7%D8%A8%D9%88%D8%B9%D9%85%D8%B1-%DA%86%DA%86%D9%86%DB%8C-%D8%A8%D9%87-%D9%87%D9%84%D8%A7%DA%A9%D8%AA-%D8%B1%D8%B3%DB%8C%D8%AF باشگاه خبرنگاران جوان]</ref>۔  


لیکن تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد، ایسوسی ایٹڈ پریس نے الشیشانی کے عراق میں داخل ہونے کی خبر دی اور ان کی تقریر کی ایک ویڈیو شائع کر کے ثابت کیا کہ شیشانی کی موت کی خبر جھوٹی تھی۔


ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس رپورٹ میں ان کی تصاویر شائع کرتے ہوئے ان کی سوانح عمری بھی جاری کی اور بتایا کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور عراقی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں شیشانی کو داعش کے جنگجوؤں میں سے ایک کے طور پر یاد کیا گیا ہے اور شام میں ان کی سرگرمیوں کی تاریخ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔


== شیشانی کی موت کا دعویٰ==
اسی لیے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ انہیں داعش کا چیف فوجی کمانڈر منتخب کیا گیا ہے۔ البتہ داعش گروہ نے اب تک باضابطہ طور پر ایسی کوئی خبر جاری نہیں کی ہے <ref>[https://www.yjc.news/fa/news/4898984/%D8%B4%DB%8C%D8%B7%D8%A7%D9%86-%D9%85%D9%88%D9%82%D8%B1%D9%85%D8%B1%D8%B2-%D8%AE%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%D9%87 شیطان خاورمیانه]</ref>۔  
اردیبہشت ۱۳۹۳ ہجری شمسی کے آخری ہفتے میں بہت سے میڈیا ذرائع نے دعویٰ کیا کہ عمر شیشانی [[جبهة النصره|جبهةالنصرہ]] کی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارا گیا ہے <ref>[https://www.yjc.news/fa/news/4847026/%D8%A7%D8%A8%D9%88%D8%B9%D9%85%D8%B1-%DA%86%DA%86%D9%86%DB%8C-%D8%A8%D9%87-%D9%87%D9%84%D8%A7%DA%A9%D8%AA-%D8%B1%D8%B3%DB%8C%D8%AF باشگاه خبرنگاران جوان]</ref>۔ لیکن تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد، ایسوسی ایٹڈ پریس نے الشیشانی کے عراق میں داخل ہونے کی خبر دی اور ان کی تقریر کی ایک ویڈیو شائع کر کے ثابت کیا کہ شیشانی کی موت کی خبر جھوٹی تھی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس رپورٹ میں ان کی تصاویر شائع کرتے ہوئے ان کی سوانح عمری بھی جاری کی اور بتایا کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور عراقی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں شیشانی کو داعش کے جنگجوؤں میں سے ایک کے طور پر یاد کیا گیا ہے اور شام میں ان کی سرگرمیوں کی تاریخ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اسی لیے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ انہیں داعش کا چیف فوجی کمانڈر منتخب کیا گیا ہے۔ البتہ داعش گروہ نے اب تک باضابطہ طور پر ایسی کوئی خبر جاری نہیں کی ہے <ref>[https://www.yjc.news/fa/news/4898984/%D8%B4%DB%8C%D8%B7%D8%A7%D9%86-%D9%85%D9%88%D9%82%D8%B1%D9%85%D8%B1%D8%B2-%D8%AE%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%D9%87 شیطان خاورمیانه]</ref>۔
 
عمر شیشانی (20 اسفند 94) میں داعش کے خلاف اتحادی فضائی حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہو گئے تھے اور 25 اسفند کو امریکی حکام نے ان کی موت کے قوی امکان کی اطلاع دی تھی۔ 10 فروری کو داعش کے اندرونی میڈیا نے عمر شیشانی کی نئی تصاویر شائع کر کے ان کے زندہ ہونے کی خبر دی۔ جولائی 1395 ہجری شمسی میں اسلامی حکومت گروہ سے وابستہ ایک میڈیا (اعماق نیوز نیٹ ورک) نے ان کی موت کا پردہ فاش کیا اور کہا کہ ابو عمر الشیشانی [[موصل]] کے قریب الشرقاط شہر پر حملے کو ناکام بناتے ہوئے مارا گیا ہے <ref>[https://www.mashreghnews.ir/news/550650/%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4-%D8%B9%D9%85%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%B4%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%B2%D9%86%D8%AF%D9%87-%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%D8%B9%DA%A9%D8%B3 سایت مشرق]</ref>۔


عمر شیشانی (20 اسفند 94) میں داعش کے خلاف اتحادی فضائی حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہو گئے تھے اور 25 اسفند کو امریکی حکام نے ان کی موت کے قوی امکان کی اطلاع دی تھی۔


10 فروری کو داعش کے اندرونی میڈیا نے عمر شیشانی کی نئی تصاویر شائع کر کے ان کے زندہ ہونے کی خبر دی۔ جولائی 1395 ہجری شمسی میں اسلامی حکومت گروہ سے وابستہ ایک میڈیا (اعماق نیوز نیٹ ورک) نے ان کی موت کا پردہ فاش کیا اور کہا کہ ابو عمر الشیشانی [[موصل]] کے قریب الشرقاط شہر پر حملے کو ناکام بناتے ہوئے مارا گیا ہے <ref>[https://www.mashreghnews.ir/news/550650/%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4-%D8%B9%D9%85%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%B4%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%B2%D9%86%D8%AF%D9%87-%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%D8%B9%DA%A9%D8%B3 سایت مشرق]</ref>۔


== موت==
== موت==
13 جولائی 2016 کو میڈیا میں یہ افواہ پھیلی کہ شیشانی داعش مخالف اتحادی فورسز کے حملے سے ہونے والی شدید چوٹوں کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ داعش نے 14 جولائی کو ان کی موت کی تصدیق کی۔
13 جولائی 2016 کو میڈیا میں یہ افواہ پھیلی کہ شیشانی داعش مخالف اتحادی فورسز کے حملے سے ہونے والی شدید چوٹوں کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ داعش نے 14 جولائی کو ان کی موت کی تصدیق کی۔


== فلم 'بحوقت شام'==
== فلم 'بحوقت شام'==
اس شخصیت کو فلم 'بحوقت شام' میں داعشیوں کے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ 'بحوقت شام' میں ان کا کردار جوزف سلامہ نامی ایک لبنانی اداکار نے ادا کیا ہے، اور ابو عمر شیشانی کے کردار کا ایک مکالمہ ("کیا حال ہے ایرانی؟!") فلم 'بحوقت شام' کے ناظرین اور سوشل میڈیا میں مشہور ہو گیا ہے <ref>[https://www.mashreghnews.ir/news/843781/%D9%86%D9%85%DB%8C-%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D9%85-%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%AF-%DA%86%D8%B7%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF-%D8%A8%D9%85%D8%A8-%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D9%86%D8%AF-%D8%B9%DA%A9%D8%B3-%D9%88-%D9%81%DB%8C%D9%84%D9%85 ابوعمر شیشانی]</ref>۔
اس شخصیت کو فلم 'بحوقت شام' میں داعشیوں کے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ 'بحوقت شام' میں ان کا کردار جوزف سلامہ نامی ایک لبنانی اداکار نے ادا کیا ہے، اور ابو عمر شیشانی کے کردار کا ایک مکالمہ ("کیا حال ہے ایرانی؟!") فلم 'بحوقت شام' کے ناظرین اور سوشل میڈیا میں مشہور ہو گیا ہے <ref>[https://www.mashreghnews.ir/news/843781/%D9%86%D9%85%DB%8C-%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D9%85-%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%AF-%DA%86%D8%B7%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF-%D8%A8%D9%85%D8%A8-%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D9%86%D8%AF-%D8%B9%DA%A9%D8%B3-%D9%88-%D9%81%DB%8C%D9%84%D9%85 ابوعمر شیشانی]</ref>۔


=حوالہ جات=
{{حوالہ جات}}


== حوالہ جات==
{{حوالہ جات}}
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:داعش]]

حالیہ نسخہ بمطابق 21:12، 17 مئی 2026ء

ابو عمر الشیشانی
پورا نامتارخان تیمورازوویچ باتیراشویلی
دوسرے نامابو عُمَر الشیشانی، عمر چچنی
ذاتی معلومات
پیدائش1986 ء
پیدائش کی جگہجارجیا
وفات۲۰۱۶ ء
وفات کی جگہموصل
اساتذہمحفوظ نحناح
مذہباسلام
اثراتوزیر جنگ داعش

تارخان تیمورازوویچ باتیراشویلی (جارجیائی زبان میں: თარხან ბათირაშვიلی) معروف بہ ابو عُمَر الشیشانی (فارسی میں: عمر چچنی) (پیدائش ۱۹۸۶ء بیرکیانی میں – وفات ۱۰ جولائی ۲۰۱۶ء موصل میں) داعش کے سابق وزیر جنگ اور جارجیا کے جہادی نیم فوجی دستوں کے کمانڈر تھے، جو ابوعبدالرحمان البیلاوی الانباری کی ہلاکت کے بعد داعش کے فوجی کمانڈر منتخب ہوئے۔ اس سے قبل وہ جہادی گروہ "جیش المهاجرین و الانصار" کے رہنما تھے، جس کے زیادہ تر ارکان شمالی قفقاز کے جنگجو تھے۔

زندگی

عمر شیشانی کا خاندان چچنیا کے ایک غریب نشین علاقے میں، جارجیا کی سرحد کے قریب رہتا ہے۔ عمر نے چھ سال قبل طبی وجوہات کی بنا پر جارجیا کی فوج چھوڑ دی تھی۔ عمر کے والد تیمور باتیراشویلی کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا عیسوی تربیت پر پلا بڑھا ہے اور ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے انتہا پسند اسلام کی طرف مائل ہو گیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس علاقے کے انتہا پسند مسلمان مذہبی رہنماؤں نے ان کے بیٹے کا برین واش کیا ہے۔

شام اور عراق میں موجودگی

الشیشانی شام میں جنگجو گروہوں میں سے ایک کے کمانڈر تھے، جنہوں نے پہلی بار اپنی حملہ آور لائن کو عراق کی طرف منتقل کیا اور دونوں ممالک کی سرحدیں ختم کر دیں۔ عراق کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے ایک ویڈیو میں اعلان کیا کہ "ہمارا مقصد واضح ہے اور سب جانتے ہیں کہ ہم یہاں کیوں لڑ رہے ہیں۔

ہمارا راستہ خلافت یا اسلامی ریاست کے قیام کی طرف جاتا ہے۔ ہم خلافت کو بحال کریں گے اور اگر خدا نے یہ نہیں چاہا تو ہمیں شہادت عطا فرمائے گا"۔ بروکنگز تھنک ٹینک کے ماہر چارلس لسٹر نے اس حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: داعش اپنے آزاد افراد پر شدید انحصار کرتا ہے۔

یہ روابط اور فرد پر مبنی پیچیدہ تعلقات اس بات کا باعث بنتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اس فورس میں شامل ہو کر اچانک فوجی خلاقیت یا چھوٹی یا بڑی محاذ پر فتح کے ذریعے کسی علاقے کا فوجی کمانڈر یا بعد میں پورے گروہ کا فوجی کمانڈر بن سکتا ہے۔ مغربی میڈیا نے انہیں داعش کا ستارہ کا لقب دیا ہے۔

مغربی میڈیا ہمیشہ یہ سمجھتا رہا ہے کہ عرب آپس میں لڑ رہے ہیں، لیکن اس جوان چچن کی موجودگی نے داعش کے جنگجوؤں کے بارے میں ان کے تصور کو بدل دیا۔ اور اس کے بعد داعش مکمل طور پر بکھر گیا[1]۔

شیشانی کی موت کا دعویٰ

اردیبہشت ۱۳۹۳ ہجری شمسی کے آخری ہفتے میں بہت سے میڈیا ذرائع نے دعویٰ کیا کہ عمر شیشانی جبهةالنصرہ کی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارا گیا ہے [2]۔

لیکن تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد، ایسوسی ایٹڈ پریس نے الشیشانی کے عراق میں داخل ہونے کی خبر دی اور ان کی تقریر کی ایک ویڈیو شائع کر کے ثابت کیا کہ شیشانی کی موت کی خبر جھوٹی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس رپورٹ میں ان کی تصاویر شائع کرتے ہوئے ان کی سوانح عمری بھی جاری کی اور بتایا کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور عراقی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں شیشانی کو داعش کے جنگجوؤں میں سے ایک کے طور پر یاد کیا گیا ہے اور شام میں ان کی سرگرمیوں کی تاریخ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

اسی لیے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ انہیں داعش کا چیف فوجی کمانڈر منتخب کیا گیا ہے۔ البتہ داعش گروہ نے اب تک باضابطہ طور پر ایسی کوئی خبر جاری نہیں کی ہے [3]۔

عمر شیشانی (20 اسفند 94) میں داعش کے خلاف اتحادی فضائی حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہو گئے تھے اور 25 اسفند کو امریکی حکام نے ان کی موت کے قوی امکان کی اطلاع دی تھی۔

10 فروری کو داعش کے اندرونی میڈیا نے عمر شیشانی کی نئی تصاویر شائع کر کے ان کے زندہ ہونے کی خبر دی۔ جولائی 1395 ہجری شمسی میں اسلامی حکومت گروہ سے وابستہ ایک میڈیا (اعماق نیوز نیٹ ورک) نے ان کی موت کا پردہ فاش کیا اور کہا کہ ابو عمر الشیشانی موصل کے قریب الشرقاط شہر پر حملے کو ناکام بناتے ہوئے مارا گیا ہے [4]۔

موت

13 جولائی 2016 کو میڈیا میں یہ افواہ پھیلی کہ شیشانی داعش مخالف اتحادی فورسز کے حملے سے ہونے والی شدید چوٹوں کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ داعش نے 14 جولائی کو ان کی موت کی تصدیق کی۔

فلم 'بحوقت شام'

اس شخصیت کو فلم 'بحوقت شام' میں داعشیوں کے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ 'بحوقت شام' میں ان کا کردار جوزف سلامہ نامی ایک لبنانی اداکار نے ادا کیا ہے، اور ابو عمر شیشانی کے کردار کا ایک مکالمہ ("کیا حال ہے ایرانی؟!") فلم 'بحوقت شام' کے ناظرین اور سوشل میڈیا میں مشہور ہو گیا ہے [5]۔

حوالہ جات