"ابراہیم الصدیقی" کے نسخوں کے درمیان فرق
ترجمه خودکار از ویکی فارسی |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:ابراہیم الصدیقی کو ابراہیم الصدیقی کی جانب منتقل کیا |
||
| (2 صارفین 4 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{ | {{خانہ معلومات شخصیت | ||
| | | title = ابراہیم الصدیقی | ||
| | | image = | ||
| | | name = ابراہیم الصدیقی | ||
| | | other names = | ||
| | | brith year = ۱۹۱۵ ق | ||
| | | brith date = | ||
| | | birth place = جرمنی، ماربورگ | ||
| | | death year = 1310 ق | ||
| | | death date = | ||
| | | death place = | ||
| | | teachers = محمد بن مانع النجدی | ||
| | | students = | ||
| | | religion = [[اسلام]] | ||
| | | faith = [[اہل سنت]] | ||
| | | works = | ||
| | | known for = [[سعودی عرب|سعودی]]-بحرینی مصنف، شاعر اور مدرس اور کئی قلمی اثار من جمله: حیاة القائد الأعظم محمد وتصحیح القاموس اور تنبیه العام والخاص کے مولف تهے }} | ||
| | |||
'''ابراہیم الصدیقی''' (۱۹۱۵ ہجری قمری - ۱۹۸۹ عیسوی) [[سعودی عرب|سعودی]]-بحرینی مصنف، شاعر اور مدرس تھے۔ وہ الجبیل [[سعودی عرب]] میں پیدا ہوئے اور شیخ محمد بن مانع النجدی سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے تعلیم، خطابت، وعظ و نصیحت اور دین کی تبلیغ میں مسلسل کوششیں کیں۔ ان کی کئی قلمی نسخے اور اشعار باقی رہ گئے ہیں۔<ref>إميل يعقوب (2004)، معجم الشعراء منذ بدء عصر النهضة (ط. الأولی)، بيروت: دار صادر، ج. المجلد الأول، ص. 27.</ref><ref>كامل سلمان الجبوري (2003)، معجم الأدباء من العصر الجاهلي حتی سنة 2002، بيروت، لبنان: دار الكتب العلمية، ج. المجلد الأول، ص. 42، مؤرشف من الأصل في 28 سبتمبر 2020.</ref>. | |||
== پیدائش اور تعلیم == | == پیدائش اور تعلیم == | ||
ابراہیم الصدیقی سن ۱۳۳۴ ہجری قمری بمطابق ۱۹۱۵ عیسوی میں الجبیل میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مکتب خانے میں روایتی طریقہ تعلیم حاصل کیا۔ وہ بطور معلم کام کرتے تھے اور واعظ و مربی بھی تھے۔ | ابراہیم الصدیقی سن ۱۳۳۴ ہجری قمری بمطابق ۱۹۱۵ عیسوی میں الجبیل میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مکتب خانے میں روایتی طریقہ تعلیم حاصل کیا۔ وہ بطور معلم کام کرتے تھے اور واعظ و مربی بھی تھے۔ | ||
انہوں نے محمد بن مانع النجدی سے درس لیا۔ بحرین کے شہزادوں سے ان کے تعلقات نے ان کی سماجی حیثیت پر گہرا اثر ڈالا۔ شہزادے ان کا احترام کرتے تھے اور اپنی محفلوں اور ادبی مباحث میں انہیں مقدم رکھتے تھے۔<ref>موسوعة التراجم والأعلام - الصديقي نسخة محفوظة 2020-06-11 علی موقع واي باك مشين.</ref>. | |||
وہ دینی علوم اور عربی ادب سے بخوبی واقف تھے۔ انہیں عربوں کے اخبارات، تاریخ اور عربی بازاروں کے بارے میں وسیع معلومات حاصل تھیں۔ وہ اپنا تمام وقت گھر میں گزارتے تھے جہاں وہ دوستوں کی میزبانی کرتے، ادیبوں سے بحث و گفتگو کرتے، مختلف کتابوں کا مطالعہ کرتے اور ان پر بحث کرتے تھے۔<ref>محمد خير رمضان يوسف، كتاب تكملة معجم المؤلفين، مؤرشف من الأصل في 28 سبتمبر 2020.</ref>. | |||
== تالیفات == | == تالیفات == | ||
کئی قلمی اثار من جمله: حیاة القائد الأعظم محمد وتصحیح القاموس اور تنبیه العام والخاص کے مولف تهے: | |||
*1964 – النبراس – الطائف: المؤلف، 1384 هـ، 187 ص. | *1964 – النبراس – الطائف: المؤلف، 1384 هـ، 187 ص. | ||
*1965 – سلافة الأدب – الطائف: المؤلف، 1385 هـ، 216 ص. أعید طبعه سنة 1995م☃☃ | *1965 – سلافة الأدب – الطائف: المؤلف، 1385 هـ، 216 ص. أعید طبعه سنة 1995م☃☃ | ||
| سطر 42: | سطر 39: | ||
* ملتقطات الدرر من منتخبات الفکر | * ملتقطات الدرر من منتخبات الفکر | ||
* ضالة الأدباء وبغیة الشعراء والخطباء | * ضالة الأدباء وبغیة الشعراء والخطباء | ||
انہوں نے کتاب "الدوری" کی نگرانی کی جو طائف کے ادبی کلب کی جانب سے شائع ہونے والی جدید سعودی شاعری کے نمونوں پر مشتمل تھی۔ | انہوں نے کتاب "الدوری" کی نگرانی کی جو طائف کے ادبی کلب کی جانب سے شائع ہونے والی جدید سعودی شاعری کے نمونوں پر مشتمل تھی۔ | ||
== وفات == | == وفات == | ||
ان کا انتقال ۲۲ صفر ۱۴۱۰ ہجری قمری بمطابق ۱۹۸۹ عیسوی کو طائف میں ہوا۔ ایک اور ماخذ کے مطابق ان کا انتقال ماہ جمادی الاولی میں ہوا۔<ref> من أدباء الطانف المعاصرين ص 271 - 274</ref> | ان کا انتقال ۲۲ صفر ۱۴۱۰ ہجری قمری بمطابق ۱۹۸۹ عیسوی کو طائف میں ہوا۔ ایک اور ماخذ کے مطابق ان کا انتقال ماہ جمادی الاولی میں ہوا۔<ref> من أدباء الطانف المعاصرين ص 271 - 274</ref> <ref>القرني, علی خضران (2011)، من ادباء الطائف المعاصرين، نادی الطائف الادبی، ص. 271 - 274، مؤرشف من الأصل في 28 سبتمبر 2020.</ref>. | ||
<ref> القرني, علی خضران (2011)، من ادباء الطائف المعاصرين، نادی الطائف الادبی، ص. 271 - 274، | |||
== متعلقہ تلاشیں == | |||
* [[بحرین]] | |||
* [[سعودی عرب]] | |||
* [[اخوان المسلمین]] | |||
* [[ایران]] | |||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
{{ | {{حوالہ جات}} | ||
[[ | [[زمرہ:شخصیات]] | ||
[[ | [[زمرہ: سعودی عرب]] | ||
[[fa: ابراہیم الصدیقی]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 11:42، 13 مئی 2026ء
| ابراہیم الصدیقی | |
|---|---|
| پورا نام | ابراہیم الصدیقی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | ۱۹۱۵ ق |
| پیدائش کی جگہ | جرمنی، ماربورگ |
| وفات | 1310 ق |
| اساتذہ | محمد بن مانع النجدی |
| مذہب | اسلام، اہل سنت |
| مناصب | سعودی-بحرینی مصنف، شاعر اور مدرس اور کئی قلمی اثار من جمله: حیاة القائد الأعظم محمد وتصحیح القاموس اور تنبیه العام والخاص کے مولف تهے |
ابراہیم الصدیقی (۱۹۱۵ ہجری قمری - ۱۹۸۹ عیسوی) سعودی-بحرینی مصنف، شاعر اور مدرس تھے۔ وہ الجبیل سعودی عرب میں پیدا ہوئے اور شیخ محمد بن مانع النجدی سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے تعلیم، خطابت، وعظ و نصیحت اور دین کی تبلیغ میں مسلسل کوششیں کیں۔ ان کی کئی قلمی نسخے اور اشعار باقی رہ گئے ہیں۔[1][2].
پیدائش اور تعلیم
ابراہیم الصدیقی سن ۱۳۳۴ ہجری قمری بمطابق ۱۹۱۵ عیسوی میں الجبیل میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مکتب خانے میں روایتی طریقہ تعلیم حاصل کیا۔ وہ بطور معلم کام کرتے تھے اور واعظ و مربی بھی تھے۔
انہوں نے محمد بن مانع النجدی سے درس لیا۔ بحرین کے شہزادوں سے ان کے تعلقات نے ان کی سماجی حیثیت پر گہرا اثر ڈالا۔ شہزادے ان کا احترام کرتے تھے اور اپنی محفلوں اور ادبی مباحث میں انہیں مقدم رکھتے تھے۔[3].
وہ دینی علوم اور عربی ادب سے بخوبی واقف تھے۔ انہیں عربوں کے اخبارات، تاریخ اور عربی بازاروں کے بارے میں وسیع معلومات حاصل تھیں۔ وہ اپنا تمام وقت گھر میں گزارتے تھے جہاں وہ دوستوں کی میزبانی کرتے، ادیبوں سے بحث و گفتگو کرتے، مختلف کتابوں کا مطالعہ کرتے اور ان پر بحث کرتے تھے۔[4].
تالیفات
کئی قلمی اثار من جمله: حیاة القائد الأعظم محمد وتصحیح القاموس اور تنبیه العام والخاص کے مولف تهے:
- 1964 – النبراس – الطائف: المؤلف، 1384 هـ، 187 ص.
- 1965 – سلافة الأدب – الطائف: المؤلف، 1385 هـ، 216 ص. أعید طبعه سنة 1995م☃☃
- حیاة القائد الأعظم محمد
- تصحیح القاموس
- تنبیه العام والخاص
- معلوماتی العامة عن البلدان العربیة
- ورع العلماء
- نقع الأریج من أشعار أدباء الخلیج
- خیر الطراز من أشعار عباقرة نجد والحجاز
- ملتقطات الدرر من منتخبات الفکر
- ضالة الأدباء وبغیة الشعراء والخطباء
انہوں نے کتاب "الدوری" کی نگرانی کی جو طائف کے ادبی کلب کی جانب سے شائع ہونے والی جدید سعودی شاعری کے نمونوں پر مشتمل تھی۔
وفات
ان کا انتقال ۲۲ صفر ۱۴۱۰ ہجری قمری بمطابق ۱۹۸۹ عیسوی کو طائف میں ہوا۔ ایک اور ماخذ کے مطابق ان کا انتقال ماہ جمادی الاولی میں ہوا۔[5] [6].
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ إميل يعقوب (2004)، معجم الشعراء منذ بدء عصر النهضة (ط. الأولی)، بيروت: دار صادر، ج. المجلد الأول، ص. 27.
- ↑ كامل سلمان الجبوري (2003)، معجم الأدباء من العصر الجاهلي حتی سنة 2002، بيروت، لبنان: دار الكتب العلمية، ج. المجلد الأول، ص. 42، مؤرشف من الأصل في 28 سبتمبر 2020.
- ↑ موسوعة التراجم والأعلام - الصديقي نسخة محفوظة 2020-06-11 علی موقع واي باك مشين.
- ↑ محمد خير رمضان يوسف، كتاب تكملة معجم المؤلفين، مؤرشف من الأصل في 28 سبتمبر 2020.
- ↑ من أدباء الطانف المعاصرين ص 271 - 274
- ↑ القرني, علی خضران (2011)، من ادباء الطائف المعاصرين، نادی الطائف الادبی، ص. 271 - 274، مؤرشف من الأصل في 28 سبتمبر 2020.