مندرجات کا رخ کریں

"محمد مؤرخان (کتاب)" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
 
سطر 75: سطر 75:


== متعلقہ تلاشیں ==
== متعلقہ تلاشیں ==
[[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]]
*[[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]]
[[اسلام]]
*[[اسلام]]
[[حدیث]]
*[[حدیث]]


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==

حالیہ نسخہ بمطابق 19:20، 21 دسمبر 2025ء

محمد مؤرخان (کتاب)
ناممحمدِ مورخان
مؤلفین/ مصنفینمحمد علی امیرمعزی، جان وکٹر تولان
زبانفارسی
ناشرانتشارات سرف (CERF)، پیرس

محمدِ مورخان (فرانسیسی: Le Mahomet des historiens) ایک کتاب کا عنوان ہے جو حال ہی میں فرانس میں انتشارات سرف (CERF) نے شائع کی ہے۔ یہ کتاب محمد علی امیرمعزی اور جان وکٹر تولان کے اشتراک سے مرتب کی گئی ہے اور اس کا حجم 2200 صفحات سے زائد ہے۔ یہ کتاب ایک سابقہ مجموعے "قرآنِ مورخان" کے تسلسل میں شائع ہوئی ہے جو اس سے قبل منظرِ عام پر آ چکا تھا۔ یہ تصنیف پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کے بارے میں جدید ترین تاریخی، لسانی اور دینی تحقیقات پر مشتمل ہے۔ کتاب اسلامی قدیم مصادر کے ساتھ ساتھ ظہورِ اسلام کے دور کے غیر مسلم متون کا بھی تجزیاتی مطالعہ پیش کرتی ہے اور اس کا مقصد پیغمبر اسلام کی ایک کثیرالجہتی تصویر پیش کرنا ہے۔ اس کتاب کی تدوین میں پچاس بین الاقوامی محققین نے حصہ لیا ہے۔

امیرمعزی کا فرانسیسی جریدے لو پوئن کے ساتھ انٹرویو

محمد علی امیرمعزی نے فرانسیسی جریدے لو پوئن (Le Point) کے ساتھ ایک انٹرویو میں اپنے کام کے چند پہلوؤں کی وضاحت کی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ موجودہ اسلامی مصادر اور سیرت کی کتابیں تاریخی اعتبار سے زیادہ قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔ انیسویں صدی کے آخر میں ارنسٹ رینان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پیغمبر اسلام وہ واحد پیغمبر ہیں جن کی ایک واضح تاریخی شخصیت ہے اور جن کی زندگی کی تفصیلات ہمارے علم میں ہیں۔

رینان کا اشارہ غالباً ابنِ ہشام کی سیرت کی طرف تھا، مگر یہ سیرت پیغمبر کے زمانے سے خاصے فاصلے پر اور عباسی خلفاء کے حکم پر مرتب کی گئی، جس میں پہلے سیرت نگاروں کے متضاد اور غیر ہم آہنگ بیانات کو یکساں اور ہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔

غیر عربی اور غیر اسلامی متون کی طرف رجوع ہمیں پیغمبر اسلام کی تصویر بہتر طور پر ترسیم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ پیغمبر اسلام کی شبیہ تاریخِ اسلام میں مختلف ادوار میں مختلف انداز سے تفسیر اور بازنمائی کا شکار رہی ہے۔ مختلف علاقوں اور فرقوں کے صوفیوں نے پیغمبر کی اپنی مخصوص تصویر پیش کی؛ نیز عام تصور کے برخلاف، اسلام میں ایک تصویری روایت (شمایل) بھی موجود ہے جس میں پیغمبر اور اولیاء کی تصاویر بنائی گئی ہیں۔

مسلمانوں کے ہاں پیغمبر اسلام کی بازنمائی

کتاب کا ایک اہم حصہ مختلف حالات میں مسلمانوں کے ہاں پیغمبر اسلام ﷺ کی بازنمائی کے طریقوں کے لیے وقف ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ مختلف سیاق و سباق میں پیغمبر کو کس طرح پیش کیا گیا ہے:

قرآن سے لے کر مختلف علاقوں کے عرفانی متون تک، کلاسیکی ادب سے جدید ادب تک، یہودی مصادر سے لے کر معاصر سینما تک۔ اسی طرح مغربی دنیا میں مختلف تاریخی ادوار (قرونِ وسطیٰ سے بیسویں صدی تک) میں پیغمبر اسلام کی شبیہ کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ محمدِ مورخان ایک طرف کلاسیکی اسلامی مصادر کی صحت پر ازسرِنو غور کرتا ہے اور دوسری طرف مختلف گروہوں کے ہاں پیغمبر کی تصویر کو بیان کرتا ہے۔

کتاب کے بعض ابواب

  • قرآنی پیکر:قرآن کی تاریخی ساخت، مکی و مدنی ادوار، اور جدید قرآنی مطالعات میں پیغمبر کی بازنمائی؛
  • سنی روایت: اہلِ سنت کے مصادر میں پیغمبر کی ابتدائی سوانح، اموی سے عباسی دور تک؛
  • سیرت کے تضادات:سیرت میں روایتی ناسازگاریوں اور پیغمبر کی “متوازی زندگیاں” کے تصور کا تجزیہ؛
  • میثاقِ مدینہ:اس دستاویز کی اصالت اور ساخت کا تنقیدی مطالعہ؛
  • ابتدائی اسلامی صدیوں کے مستند مصادر:کتبوں، پاپیروس اور قدیم دستاویزات کا تجزیہ؛
  • پیغمبر اور اسلامی قانون:ابتدائی فقہ میں پیغمبر کی قانونی حیثیت، وراثت، نسب اور منہ بولے بیٹے کا مسئلہ؛
  • اسراء و معراج:سنی و شیعی مصادر میں معراج کی روایتوں کا ارتقاء اور بین الثقافتی تقابل؛
  • قدیم اثنا عشری تشیع میں پیغمبر کا تصور: اوائلِ امامیہ کے علمِ الٰہیات اور ادبیات میں محمد ﷺ کی بازنمائی؛
  • غالی شیعہ اور نصیری تعلیمات:نبوت، الوہیت اور کائنات شناسی میں محمد ﷺ کا مقام؛
  • اباضی روایت میں پیغمبر:اباضی روایت میں پیغمبر کی تصویر اور اس تحریک کی دینی مشروعیت اور تاریخی شناخت میں ان کا کردار؛
  • عربی صوفی ادب:پیغمبر بطور “کامل ولی”؛
  • فارسی عرفان: نبوی شاعری اور ایرانی تصوف میں پیغمبر کا کردار؛
  • ترکی تصوف:مولانا اور ترک عبادتی متون میں پیغمبر کی شبیہ؛
  • افریقی عرفان:افریقی اسلامی تحریکوں میں محمد ﷺ کا مقام؛
  • اسلامی فلسفۂ کلاسیک:معرفت شناسی اور سیاسی فلسفے میں پیغمبر؛
  • اسماعیلیہ:فاطمی و نزاری باطنیت میں محمد ﷺ اور علیؑ کا دوہرا کردار؛
  • وحی کی علامت شناسی اور امامی تاریخ نگاری:امامی روایتوں میں محمد ﷺ کی زندگی کا تجزیہ اور علیؑ و اہلِ بیت کے ساتھ ان کا تعلق؛
  • اسلامی فنونِ تصویری: مغولی و صفوی دور تک پیغمبر کی تصویرگری؛
  • معاصر تجسمی فنون:جمالیات اور ایمان کے درمیان کشمکش؛
  • سینما اور میڈیا:فلم اور ٹی وی میں پیغمبر کی بازنمائی؛
  • عربی کلاسیکی ادب: مدحِ نبوی کی ادبی روایت؛
  • جدید ادبی بازخوانیاں:جدید عربی شاعری و ناول میں محمد ﷺ؛
  • قازان کے تاتاروں کی تاریخ و ثقافت: روس میں پیغمبر کی جدید تفہیم۔

کتاب پر وارد ہونے والی تنقیدیں

اس کتاب پر، جو ایک جدید اور مستشرقانہ ظاہر رکھتی ہے، متعدد تنقیدیں کی گئی ہیں۔ مناسب ہے کہ عالمِ اسلام کے مفکرین اور علماء اس کے علمی جوابات پیش کریں۔ یہاں اختصار کے ساتھ چند بنیادی نکات بیان کیے جاتے ہیں:

“دوسرے” کو اصل ماننا اور “خود” پر شک

مصنفین عیسائی راہبوں اور غیر مسلم متون کی متاخر اور بعض اوقات معاندانہ روایات کو “غیر جانبدار اسناد” کے طور پر قبول کرتے ہیں، مگر شیعہ و سنی حدیثی ورثے کو “ایمان پر مبنی” کہہ کر نظرانداز کرتے ہیں۔ شیعہ نقطۂ نظر سے یہ امت کی متواتر اجتماعی یادداشت کو رد کرنے کے مترادف ہے۔

وحی کو ثقافتی اقتباس تک محدود کرنا

کتاب پیغمبر ﷺ کو خدا کا رسول نہیں بلکہ ایک مذہبی مصلح کے طور پر پیش کرتی ہے، جس کی تعلیمات یہودی-مسیحی روایات سے ماخوذ سمجھی جاتی ہیں۔ شیعہ علماء کے نزدیک ادیان کی مماثلت وحی کے واحد سرچشمے کا نتیجہ ہے، نہ کہ انسانی نقل۔

عترت اور علمِ لدنی کا نظرانداز ہونا

اگرچہ امیرمعزی خود کو تشیع کا ماہر کہتے ہیں، مگر اس کتاب میں ائمہ اہلِ بیت کو سیرتِ نبوی کے اصل محافظ کے طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ شیعہ کے نزدیک علیؑ اور ان کے جانشین محمد ﷺ کی شناخت کا سب سے مستند ذریعہ ہیں۔

عصمت اور معجزات پر تاریخی تشکیک

معراج جیسے ماورائی واقعات کو “افسانوی تعمیرات” قرار دینا ایک “منہجی الحاد” پر مبنی ہے، جس میں غیب کو پہلے ہی ناممکن فرض کر لیا جاتا ہے۔

اہلِ بیت کے کردار کو کم رنگ کرنا

حدیثِ ثقلین کے مطابق قرآن اور عترت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ان کے بغیر سیرت کی کوئی بھی تحقیق ادھوری اور مسخ شدہ ہوگی۔

قرآن میں تحریف کا مفروضہ

امیرمعزی بعض ضعیف روایات کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ موجودہ قرآن اموی دور کی سیاسی سنسرشپ کا نتیجہ ہے، جبکہ شیعہ علماء کا اجماع قرآن کی عدمِ تحریف پر ہے۔ اس نظریے سے قرآن کی حجیت مجروح ہوتی ہے[1]۔

بیرونی ربط

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. محمدِ (ص) مورخان کتاب ایران کی ویب سائٹ- شائع شدہ از:22دسمبر 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 22 دسمبر 2025ء