<?xml version="1.0"?>
<feed xmlns="http://www.w3.org/2005/Atom" xml:lang="ur">
	<id>https://ur.wikivahdat.com/w/api.php?hidebots=1&amp;hideWikibase=1&amp;urlversion=1&amp;days=7&amp;limit=50&amp;action=feedrecentchanges&amp;feedformat=atom</id>
	<title>ویکی‌وحدت  - حالیہ تبدیلیاں [ur]</title>
	<link rel="self" type="application/atom+xml" href="https://ur.wikivahdat.com/w/api.php?hidebots=1&amp;hideWikibase=1&amp;urlversion=1&amp;days=7&amp;limit=50&amp;action=feedrecentchanges&amp;feedformat=atom"/>
	<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/wiki/%D8%AE%D8%A7%D8%B5:%D8%AD%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%A8%D8%AF%DB%8C%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA"/>
	<updated>2026-09-04T20:13:11Z</updated>
	<subtitle>اس فیڈ میں ویکی پر ہونے والی تازہ تریں تبدیلیوں کا مشاہدہ کریں۔</subtitle>
	<generator>MediaWiki 1.43.1</generator>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D9%81%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%92&amp;diff=29813&amp;oldid=29798</id>
		<title>مسودہ:فرشتے</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D9%81%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%92&amp;diff=29813&amp;oldid=29798"/>
		<updated>2026-09-04T10:21:11Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;&lt;/p&gt;
&lt;a href=&quot;https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D9%81%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%92&amp;amp;diff=29813&amp;amp;oldid=29798&quot;&gt;تبدیلیاں دکھائیں&lt;/a&gt;</summary>
		<author><name>Sajedi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D9%81%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%92&amp;diff=29798&amp;oldid=0</id>
		<title>مسودہ:فرشتے</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D9%81%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%92&amp;diff=29798&amp;oldid=0"/>
		<updated>2026-09-04T10:08:39Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;« &lt;a href=&quot;/wiki/%D9%81%D8%A7%D8%A6%D9%84:%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%A6%DA%A9%D9%87.jpg&quot; title=&quot;فائل:ملائکه.jpg&quot;&gt;تصغیر|بائیں&lt;/a&gt;  &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;ملائکہ&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;، &lt;a href=&quot;/w/index.php?title=%D8%AE%D8%AF%D8%A7&amp;amp;action=edit&amp;amp;redlink=1&quot; class=&quot;new&quot; title=&quot;خدا (صفحہ موجود نہیں)&quot;&gt;اللہ تعالیٰ&lt;/a&gt; کی مخلوقات کا ایک گروہ ہیں جو &lt;a href=&quot;/w/index.php?title=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%BA%DB%8C%D8%A8&amp;amp;action=edit&amp;amp;redlink=1&quot; class=&quot;new&quot; title=&quot;عالم غیب (صفحہ موجود نہیں)&quot;&gt;عالم غیب&lt;/a&gt; کا حصہ ہیں۔ ان ہستیوں کو مختلف ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور اسی بنیاد پر ان کے درجات و مراتب متعین ہوتے ہیں۔ ان کا واضح اور جامع خاکہ اسلامی حد...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;b&gt;نیا صفحہ&lt;/b&gt;&lt;/p&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;
[[فائل:ملائکه.jpg|تصغیر|بائیں]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;ملائکہ&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;، [[خدا|اللہ تعالیٰ]] کی مخلوقات کا ایک گروہ ہیں جو [[عالم غیب]] کا حصہ ہیں۔ ان ہستیوں کو مختلف ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور اسی بنیاد پر ان کے درجات و مراتب متعین ہوتے ہیں۔ ان کا واضح اور جامع خاکہ اسلامی [[حدیث|روایات]] اور [[آیت|قرآنی آیات]] سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ملائکہ (فرشتہ) کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لفظِ «ملائکہ» عربی زبان سے ماخوذ ہے۔ [[ملائکہ|فرشتے]]، مَلَک (فرشتہ) کی جمع ہے۔ اصل میں یہ لفظ «ملائک» تھا، جس کے آخر میں جمع کے معنی میں تاکید پیدا کرنے کے لیے «تاء» کا اضافہ کیا گیا ہے۔ [[فلسفہ|فلسفیوں]] کی اصطلاح میں ملائکہ سے مراد عقولِ مجردہ، نفوسِ فلکیہ اور ارواحِ مجردہ ہیں جو مادی و عنصری کائنات میں تصرف کرتے ہیں۔ «ملائکۂ روحانیہ» سے مراد ارواحِ مجردہ، «ملائکۂ طباعِ ارضیہ» سے مراد طبائعِ کلیہ اور «ملائکۂ موکلہ» سے مراد عقول ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;لغت نامۂ دہخدا، ذیل لفظِ «ملائکہ»۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مَلَک (میم اور لام کے زبر کے ساتھ) کے معنی فرشتہ کے ہیں اور اس کی جمع «ملائکہ» ہے۔ اکثر علمائے لغت کا ماننا ہے کہ یہ «ألوک» سے مشتق ہے، اور ألوک کے معنی پیغام رسانی یا [[رسالت]] کے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;قاموسِ قرآن، ذیل لفظِ «ملک»۔&amp;lt;/ref&amp;gt; [[مفردات راغب (کتاب)|مفرداتِ راغب]] میں درج ہے&amp;lt;ref&amp;gt;المفردات فی غریب القرآن، ذیل لفظِ «ملک»۔&amp;lt;/ref&amp;gt; کہ ہر ملک، ملائکہ میں سے ہے لیکن ہر ملائکہ ملک نہیں ہے؛ بلکہ ملک وہ ہے جس کی طرف قرآن کی ان آیات میں اشارہ ہوا ہے:&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;{{قرآنی متن |فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا |سورہ = نازعات |آیت = 5 }}&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛ «پھر جو معاملات کی تدبیر کرتے ہیں»۔&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;{{قرآنی متن |فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا |سورہ = ذاریات |آیت = 4 }}&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛ «اور [[قسم|قسم]] ہے امور تقسیم کرنے والے فرشتوں کی»۔&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;{{قرآنی متن |وَ النَّازِعَاتِ غَرْقًا |سورہ = نازعات |آیت = 1 }}&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛ «قسم ہے ان فرشتوں کی جو (مجرموں کی روحیں) سختی سے کھینچ نکالتے ہیں» وغیرہ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسی طرح قرآن میں [[عزرائیل|ملک الموت]] اور دیگر فرشتوں کے بارے میں وارد ہوا ہے:&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;{{قرآنی متن |وَ الْمَلَکُ عَلَی أَرْجَائِهَا |سورہ = الحاقہ |آیت = 17 }}&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛ «اور فرشتے آسمان کے کناروں پر ہوں گے (اور احکامات کی بجا آوری کے لیے تیار ہوں گے)»۔&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;{{قرآنی متن |وَ مَا أُنزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَ مَارُوتَ |سورہ = بقرہ |آیت = 102 }}&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛ «اور اس چیز کی پیروی کی جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر نازل کی گئی تھی»۔&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;{{قرآنی متن |قُلْ یَتَوَفَّاکُم مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِی وُکِّلَ بِکُمْ |سورہ = سجدہ |آیت = 11 }}&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛ «کہہ دیجیے: موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، تمہاری [[روح|روحیں]] قبض کر لے گا»۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;الصحاح&amp;#039;&amp;#039; میں [[کسائی]] سے نقل کیا گیا ہے کہ «مَلَک» کی اصل «مَأْلَک» ہے جو «ألوک» (بمعنی [[رسالت]]) سے ماخوذ ہے۔ بعد ازاں ہمزہ کی جگہ لام آ گیا اور یہ «ملائک» بن گیا، پھر کثرتِ استعمال کی وجہ سے ہمزہ گر گیا اور لفظ «مَلَک» رہ گیا۔ جمع بناتے وقت ہمزہ واپس لا کر «ملائکہ» کہا گیا؛ لہٰذا اس کی میم زائد ہے۔ دوسری جانب &amp;#039;&amp;#039;مجمع&amp;#039;&amp;#039; میں [[ابن کیسان]] سے منقول ہے کہ اس کی اصل «مُلک» سے ہے؛ بنا بریں اس کی میم زائد نہیں ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہرحال، لفظِ «مَلَک» مفرد، تثنیہ اور جمع کی شکل میں [[قرآن|قرآنِ مجید]] میں تقریباً اسی (80) بار وارد ہوا ہے اور اس سے مراد ہر جگہ فرشتہ اور فرشتے ہی ہیں۔ اگر اس کا اشتقاق «ألوک» ہی سے مانا جائے تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر فرشتے کے ذمے ایک مخصوص رسالت اور فریضہ سونپا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;قاموسِ قرآن، ذیل لفظِ «ملائکہ»۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ملائکہ: عالمِ غیب کے مکین ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ملائکہ، عالمِ غیب کے مکین ہیں اور عالمِ [[غیب]] کے رہنے والے ہماری آنکھوں سے اوجھل ہیں، جبکہ ہم ان کے وجود پر ایمان لانے کے [[مکلف]] اور مامور ہیں۔ قرآنی آیات اور روایات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض فرشتے [[انسان]] کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔ [[قرآن|قرآنِ کریم]]&amp;lt;ref&amp;gt;سورۂ ہود (11)، آیت 69 کے بعد۔&amp;lt;/ref&amp;gt; میں [[قوم لوط]] پر عذاب نازل ہونے سے قبل [[حضرت ابراہیم|حضرت ابراہیم (علیہ السلام)]] کے گھر فرشتوں کی آمد کے واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس کی تفصیل [[جعفر بن محمد (صادق)|امام جعفر صادق (علیہ السلام)]] سے منقول ایک روایت میں بیان ہوئی ہے اور شائقین اس کے لیے اصل ماخذ کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;بحار الانوار، ج 56، ص 256۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مجموعی روایات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ بظاہر بعض فرشتوں، جیسے [[جبرائیل]]، [[میکائیل]] اور [[عزرائیل]]، نیز چند دیگر محدود فرشتوں کے دیکھے جانے کے امکان کا جائزہ لیا جا سکتا ہے؛ اور بعض شخصیات اور اولیائے الٰہی، جیسے [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)|رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)]]، [[ائمہ|ائمہ (علیہم السلام)]] یا [[انبیاء]] و رسل (علیہم السلام)، اور بعض عظیم عرفاء جیسے مرحوم [[سید محمد حسین طباطبائی|سید محمد حسین طباطبائی]] کے لیے ان ہستیوں کے مشاہدے اور دیدار کی صلاحیت و امکان موجود رہا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دوسرے الفاظ میں، قطعیت کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ تمام عام انسان فرشتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ البتہ یہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ فرشتوں سے رابطے کے اکثر مدعی، درحقیقت گروہِ [[جن]] سے رابطہ قائم کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک نہایت اہم نکتہ یہ مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ فرشتے اوامرِ الٰہی کی بجا آوری پر مامور ہیں اور کائنات میں ان میں سے ہر ایک کی ایک معین ذمہ داری اور فریضہ ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس بنیاد پر بعض افراد کے اس قول کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ «[[ملائکہ|فرشتے]] بھی [[ساحر|جادوگروں]] کے تابع ہو جاتے ہیں تاکہ انہیں غیب کی خبریں فراہم کریں»۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر زمین اور عالمِ مادّہ کے اندر فرشتوں کے مجسم ہونے اور مادی مشاہدے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، جب [[علی بن ابی طالب|امیر المؤمنین (علیہ السلام)]] سے [[خدا|اللہ تعالیٰ]] کی قدرت اور شایانِ شان حمد و ثنا کے امکان کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے عظمتِ خلقت کو بعض فرشتوں کے اوصاف کے ذریعے اس طرح بیان فرمایا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;blockquote&amp;gt;&lt;br /&gt;
«اللہ تبارک و تعالیٰ کے ایسے فرشتے ہیں جن میں سے بعض اتنے عظیم الجثہ ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک زمین پر اتر آئے تو اپنی وسعت اور کثرتِ پر و بال کے باعث زمین میں سما نہ سکے گا۔ بعض اس قدر ہیبت ناک اور خوبصورت ہیں کہ اگر تمام جن و انس مل کر بھی ان کی توصیف کرنا چاہیں تو نہ کر سکیں گے۔ بعض فرشتے ایسے ہیں جن کے دونوں کندھوں یا کان کی لو کے درمیان سات سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ بعض اپنے ایک ہی پر سے پورے افق کو ڈھانپ سکتے ہیں، علاوہ ازیں ان کے جسمانی حجم کی کیفیت یہ ہے کہ بعض کا قد اس قدر طویل ہے کہ آسمان ان کی ناف سے نیچے ہیں؛ بعض ایسے ہیں جنہوں نے کسی سہارے کے بغیر زمین کے نچلے طبقے کی فضا کی گہرائی میں قدم جما رکھے ہیں اور تمام زمینیں ان کے گھٹنوں تک آتی ہیں؛ اور بعض ایسے ہیں کہ اگر تمام سمندروں کا پانی ان کے انگوٹھے کے ناخن کی پشت پر انڈیل دیا جائے تو وہ سب سما جائے؛ اور بعض وہ ہیں کہ اگر ان کی آنکھ کے آنسو میں کشتیاں ڈال دی جائیں تو وہ ابد تک تیرتی رہیں۔ &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;«فَتَبارَکَ اللهُ أَحْسَنُ الْخالِقِینَ»&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;۔»&lt;br /&gt;
&amp;lt;/blockquote&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;ref&amp;gt;الخصال، ج 2، ص 401۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآنِ کریم میں [[حضرت مریم|حضرت مریم (سلام اللہ علیہا)]] کے بارے میں بھی وارد ہوا ہے:&lt;br /&gt;
&amp;lt;blockquote&amp;gt;&lt;br /&gt;
«فرشتہ انسان کی صورت میں مریم کے سامنے آیا۔ مریم ڈر گئیں کہ مبادا وہ نوجوان کوئی برا ارادہ رکھتا ہو، چنانچہ انہوں نے کہا: میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ فرشتے نے کہا: &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;{{قرآنی متن |إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّکِ لِأَهَبَ لَکِ غُلاماً زَکِیًّا |سورہ = مریم (19) |آیت = 19 }}&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛ یعنی: میں تو محض تیرے پروردگار کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں تاکہ تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں۔»&lt;br /&gt;
&amp;lt;/blockquote&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ملائکہ کی خصوصیات ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== عصمت اور امرِ الٰہی کی اطاعت ===&lt;br /&gt;
خداوندِ متعال نے قرآن میں تین مقامات پر اس بات پر زور دیا ہے کہ فرشتے اوامرِ الٰہی سے سرتابی نہیں کرتے اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے، اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورۂ نحل (16)، آیات 49–50؛ سورۂ انبیاء (21)، آیت 26؛ سورۂ تحریم (66)، آیت 6۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تخلیقِ [[حضرت آدم|حضرت آدم (علیہ السلام)]] کے واقعے میں [[سورۂ بقرہ]] کی مذکورہ آیات کے پیشِ نظر شاید یہ کہا جا سکے کہ فرشتوں کا اختیار، انبیاء اور اوصیاء کے اختیار کا ہی ایک ادنیٰ درجہ ہے؛ اگرچہ وہ گناہ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں، لیکن اپنی معرفت اور شناخت کی بدولت [[گناہ]]، [[معصیت]] اور لغزش سے پاک اور مبرا ہیں۔ واقعۂ تخلیق میں فرشتوں کے اعتراض کے علاوہ، بعض فرشتوں کے بارے میں تفویض کردہ ذمہ داریوں میں کوتاہی کا تذکرہ بھی ملتا ہے؛ اس سلسلے میں [[فطرس]] کے واقعے کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ فطرس وہ فرشتہ تھا جس کے پر کسی مہم میں تاخیر یا کوتاہی کے سبب ٹوٹ گئے اور اسے ایک جزیرے میں جلاوطن کر دیا گیا، اور پھر [[حسین بن علی (سید الشہداء)|سید الشہداء (علیہ السلام)]] کی ولادتِ باسعادت کے بعد آپؑ کے توسل و شفاعت سے اسے اس کا سابقہ مقام اور نیا منصب عطا ہوا۔&amp;lt;ref&amp;gt;امالی صدوق، ص 137؛ الخرائج و الجرائح، ج 1، ص 252؛ بحار الانوار، ج 43، ص 244۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== علم ===&lt;br /&gt;
ملائکہ کی ایک اہم اور نمایاں خصوصیت ان کا علم ہے۔ فرشتے [[انبیاء]] اور [[اوصیاء]] کی مانند اپنا علم [[لوح محفوظ]] سے حاصل کرتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;اطیب البیان فی تفسیر القرآن، ج 1، ص 244۔&amp;lt;/ref&amp;gt; مجموعۂ آیات، روایات اور دینی بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کو جو علم عطا کیا گیا ہے وہ متعدد امور میں عام انسانوں سے کہیں زیادہ ہے، لیکن ان انبیاء کے مقابلے میں بھی جنہیں [[انبیائے اولوالعزم]] کا بلند مقام حاصل نہیں ہے اور جن کا قرآن میں عدمِ عزم کے ساتھ ذکر آیا ہے&amp;lt;ref&amp;gt;سورۂ طہ (20)، آیت 115۔&amp;lt;/ref&amp;gt;، ان کی علمی وسعت اور گنجائش کم تر ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== قرب اور کرامتِ الٰہی ===&lt;br /&gt;
اللہ کے حضور [[مقرب]] ہونے کا وصف تمام فرشتوں میں مشترک ہے اور ان کے مابین فرق صرف اس قرب کے درجات کا ہے۔ ملائکہ کے قربِ الٰہی کی مقدار ان کے مراتب اور ان معین فرائض کی بنیاد پر ہے جو ان کے سپرد کیے گئے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورۂ انبیاء (21)، آیات 26–27۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== عبادت ===&lt;br /&gt;
قرآنِ مجید کی آیات میں ملائکہ کی بیان کردہ صفات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی [[عبادت]] سے تکبر اور روگردانی نہیں کرتے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورۂ اعراف (7)، آیت 206۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== فرض شناسی ===&lt;br /&gt;
متعدد آیات اور روایات کے مطابق، ہر فرشتہ کسی خاص مقصد اور ذمہ داری کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہ اپنی پوری حیات میں اسی فریضے کی انجام دہی میں سرگرم رہتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== ملائکہ کے پر و بال ===&lt;br /&gt;
[[سورۂ فاطر]] کی پہلی آیت میں قرآنِ مجید نے ملائکہ کو پروں والی مخلوق (اُولیٰ اَجنِحَة) کے طور پر بیان کیا ہے جن کے پروں کی تعداد مختلف ہے، جو بظاہر خود فرشتوں کے درجات اور مراتب کے فرق کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== ملائکہ کا مقام اور مسکن ===&lt;br /&gt;
یہ بات مشہور ہے کہ ملائکہ کی جائے رہائش آسمان ہے، اور مختلف سماجی طبقات میں یہ تصور عام ہے۔ تاہم ان کے سپرد کردہ ذمہ داریوں کی نوعیت کے مطابق، انہیں کائنات کے ہر گوشے میں محسوس اور مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ وہ تجرد کے حامل ہیں اور مادی جسم سے پاک ہیں، اس لیے وہ دیگر موجودات کے لیے کسی قسم کی رکاوٹ یا مزاحمت کا باعث نہیں بنتے اور ان کی موجودگی کی کیفیت مادی کائنات کے مکینوں سے بالکل مختلف ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دوسرے لفظوں میں آسمان، زمین، سمندر، اور کائنات کے ظاہر و باطن میں فرشتے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔ [[علی بن الحسین (زین العابدین)|امام زین العابدین (علیہ السلام)]] نے [[صحیفہ سجادیہ (کتاب)|صحیفۂ سجادیہ]] کی تیسری دعا کے ایک حصے میں فرشتوں کی مختلف اقسام کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ اس دعا میں کائنات کے اندر فرشتوں کے مختلف مناصب، ذمہ داریوں اور ان کی حیثیتوں کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== متعلقہ مضامین ==&lt;br /&gt;
* [[روح]]&lt;br /&gt;
* [[انسان]]&lt;br /&gt;
* [[جن]]&lt;br /&gt;
* [[گناہ]]&lt;br /&gt;
* [[عبادت]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{حوالہ جات}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:مفاہیم اور اصطلاحات]]&lt;br /&gt;
[[زمرہ:دینی مفاہیم اور اصطلاحات]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Sajedi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%AC%D8%A8%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D9%84&amp;diff=29797&amp;oldid=29786</id>
		<title>مسودہ:جبرئیل</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%AC%D8%A8%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D9%84&amp;diff=29797&amp;oldid=29786"/>
		<updated>2026-09-04T09:57:27Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;&lt;span class=&quot;autocomment&quot;&gt;مسیحیت کی نظر میں جبرئیل&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;a href=&quot;https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%AC%D8%A8%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D9%84&amp;amp;diff=29797&amp;amp;oldid=29786&quot;&gt;تبدیلیاں دکھائیں&lt;/a&gt;</summary>
		<author><name>Sajedi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%AC%D8%A8%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D9%84&amp;diff=29786&amp;oldid=0</id>
		<title>مسودہ:جبرئیل</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%AC%D8%A8%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D9%84&amp;diff=29786&amp;oldid=0"/>
		<updated>2026-09-04T09:45:27Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;« &lt;a href=&quot;/w/index.php?title=%D9%81%D8%A7%D8%A6%D9%84:%D8%AC%D8%A8%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D9%84.jpg&amp;amp;action=edit&amp;amp;redlink=1&quot; class=&quot;new&quot; title=&quot;فائل:جبرئیل.jpg (صفحہ موجود نہیں)&quot;&gt;تصغیر|بائیں&lt;/a&gt; &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جبرئیل&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; &lt;a href=&quot;/w/index.php?title=%D8%B9%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86&amp;amp;action=edit&amp;amp;redlink=1&quot; class=&quot;new&quot; title=&quot;عبرانی زبان (صفحہ موجود نہیں)&quot;&gt;عبرانی زبان&lt;/a&gt; میں &amp;quot;مردِ خدا&amp;quot; کے معنی میں ہے۔ وہ چار مقرب فرشتوں میں سے ایک اور ان میں سب سے برتر ہے، اور &lt;a href=&quot;/w/index.php?title=%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%D9%85%DB%8C&amp;amp;action=edit&amp;amp;redlink=1&quot; class=&quot;new&quot; title=&quot;ادیان ابراہیمی (صفحہ موجود نہیں)&quot;&gt;ادیان ابراہیمی&lt;/a&gt; میں &lt;a href=&quot;/w/index.php?title=%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D9%88%D9%86%D8%AF&amp;amp;action=edit&amp;amp;redlink=1&quot; class=&quot;new&quot; title=&quot;خداوند (صفحہ موجود نہیں)&quot;&gt;خداوند&lt;/a&gt; اور &lt;a href=&quot;/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A1&quot; title=&quot;انبیاء&quot;&gt;انبیاء&lt;/a&gt; کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔  اس نام کا تلفظ &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جبرائیل&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; ا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;b&gt;نیا صفحہ&lt;/b&gt;&lt;/p&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;
[[فائل:جبرئیل.jpg|تصغیر|بائیں]]&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جبرئیل&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; [[عبرانی زبان]] میں &amp;quot;مردِ خدا&amp;quot; کے معنی میں ہے۔ وہ چار مقرب فرشتوں میں سے ایک اور ان میں سب سے برتر ہے، اور [[ادیان ابراہیمی]] میں [[خداوند]] اور [[انبیاء]] کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس نام کا تلفظ &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جبرائیل&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; اور &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جبریل&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; بھی کیا جاتا ہے۔ جبرئیل کو فرشتہ [[وحی]]، امینِ وحی، عقلِ اول، ناموسِ اکبر، روحِ اعظم وغیرہ جیسے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ [[یہودیت]]، [[عیسائیت]] اور [[اسلام]] کی تاریخ میں جبرئیل کے کردار کا بہت ذکر ملتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== لغوی مفہوم ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جبرئیل&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; نام کی اصل [[عبرانی]] ہے؛ جو دو حصوں سے مرکب ہے: &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جبر&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; جس کے معنی قوت اور طاقت کے ہیں اور &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;ئیل&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; جس کا مطلب خدا ہے، یوں اس کا مجموعی مطلب &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;قوۃ اللہ&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; (خدا کی طاقت) بنتا ہے۔ جیسا کہ سورہ نجم میں فرمایا گیا: «عَلَّمَهُ شَدِیدُ الْقُوَیٰ» (اسے شدید القویٰ نے سکھایا ہے)۔ جبرئیل ہی ہمارے پیغمبر پر وحی لاتا تھا: &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;«فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَیٰ قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللَّهِ»&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; (پس اس نے اسے اللہ کے حکم سے تیرے قلب پر نازل کیا ہے)۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورہ بقرہ، آیت ۹۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&amp;lt;ref&amp;gt;نثر طوبیٰ، جلد ۱، صفحہ ۱۲۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ بھی کہا گیا ہے کہ &amp;quot;جبرئیل&amp;quot; ایک عجمی (غیر عربی) نام ہے جو عربی زبان میں داخل ہوا ہے، جس میں &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جبر&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; کا [[سریانی]] زبان میں مطلب بندہ اور &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;ایل&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; کا مطلب خدا ہے؛&amp;lt;ref&amp;gt;فضل بن حسن طبرسی، مجمع البیان، جلد ۱، صفحہ ۳۲۴۔&amp;lt;/ref&amp;gt; جس کی رو سے جبرئیل کا مطلب &amp;quot;بندہ خدا&amp;quot; ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس لفظ کے دو مشہور تلفظ ہیں: &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جبرئیل&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; (ہمزہ کے ساتھ) اور &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جبریل&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; (بغیر ہمزہ کے)۔ [[علی بن ابی‌طالب (علیہ السلام)]] کے کلام میں اسے «جبرائیل» بھی ذکر کیا گیا ہے؛&amp;lt;ref&amp;gt;نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۰۔&amp;lt;/ref&amp;gt; تاہم [[قرآن کریم]] میں اس فرشتہ کا نام صرف تین بار &amp;quot;جِبریل&amp;quot; کے طور پر آیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورہ بقرہ، آیات ۹۷ و ۹۸؛ سورہ تحریم، آیت ۴۔&amp;lt;/ref&amp;gt; البتہ دیگر آیات میں اسے «روح‌القدس»، «روح الامین» وغیرہ جیسے القاب سے بھی یاد کیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== جبرئیل کے فرائض ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[قرآن]] کریم میں &amp;quot;جبرئیل&amp;quot; کے لیے متعدد فرائض بیان ہوئے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== ابلاغِ وحی ===&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;quot;وحی&amp;quot;، جو بشر کے ساتھ خدا کے کلام اور رابطے کا واحد راستہ ہے، مندرجہ ذیل آیت کے مطابق تین طریقوں سے انجام پاتی ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;«وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَن یُکَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْیًا أَوْ مِن وَرَاء حِجَابٍ أَوْ یُرْسِلَ رَسُولًا فَیُوحِیَ بِإِذْنِهِ مَا یَشَاء...»&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛&amp;lt;ref&amp;gt;سورہ شوریٰ، آیت ۵۱۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اور کسی انسان کی یہ شان نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے سوائے وحی کے یا پردے کے پیچھے سے، یا وہ کوئی رسول بھیجتا ہے جو اس کے حکم سے جو وہ چاہتا ہے وحی کرتا ہے...&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تیسری قسم میں وحی کا پیغام اللہ کے رسول کی طرف سے ہوتا ہے، اور وہ رسول &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جبرئیل امین&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; ہیں جو اللہ کی طرف سے انبیاء کے لیے پیغامبر ہیں۔ یعنی خدا کا پیغام پہلے فرشتہ وحی کو دیا جاتا ہے اور وہ، جس کی خدائے سبحان اجازت دے، اسے اللہ کے نبی تک پہنچا دیتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;علامہ طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، جلد ۱۸، صفحات ۷۳ و ۷۴۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن، یہود کے اس بہانے کا جواب دیتے ہوئے کہ وہ جبرئیل کو فرشتہ وحی ماننے سے انکار کرتے تھے، فرماتا ہے: &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;«قُلْ مَن کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللّهِ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ...»&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛&amp;lt;ref&amp;gt;سورہ بقرہ، آیت ۹۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt; کہہ دیجیے کہ جو کوئی جبرئیل کا دشمن ہے (تو وہ درحقیقت خدا کا دشمن ہے) کیونکہ اس نے خدا کے حکم سے قرآن کو تیرے قلب پر نازل کیا ہے؛ اس حال میں کہ وہ گزشتہ [[آسمانی کتب]] کی تصدیق کرنے والا ہے...&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== انبیاء کی مدد اور حمایت ===&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک اور کردار جو قرآن میں جبرئیل کے لیے بیان ہوا ہے، وہ انبیاء الہی کی حمایت اور مدد کرنا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;«...وَآتَیْنَا عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنَاتِ وَأَیَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ»&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛&amp;lt;ref&amp;gt;سورہ بقرہ، آیت ۸۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt; ...اور ہم نے [[حضرت عیسی|عیسیٰ بن مریم]] کو واضح دلائل دیے اور ان کی [[روح القدس|روح‌القدس]] کے ذریعے تائید کی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس آیت میں جبرئیل کو &amp;quot;روح‌القدس&amp;quot; سے تعبیر کیا گیا ہے؛ یعنی وہ روح جو خطا اور مادی پلیدیوں سے پاک اور منزہ ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;المیزان فی تفسیر القرآن، جلد ۱۲، صفحہ ۳۴۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جبرئیل نے عیسیٰ بن مریم کی زندگی کے مختلف مراحل میں ان کی مدد کی؛ پہلے جب وہ ان کی والدہ پر ظاہر ہوئے اور [[مریم]] کو ان کی پیدائش کی بشارت دی، پھر ان کی زندگی بھر انہیں دشمنوں کے خطرات سے محفوظ رکھا یہاں تک کہ خداوند نے عیسائے مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اسی طرح [[سورہ تحریم]] میں جبرئیل کے ذریعے پیامبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کا ذکر ہے: &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;«...وَإِن تَظَاهَرَا عَلَیْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِیلُ...»&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛&amp;lt;ref&amp;gt;سورہ تحریم، آیت ۴۔&amp;lt;/ref&amp;gt; ...اور اگر تم دونوں اس کے خلاف دست بہ دست ہو جاؤ تو (کچھ نہیں کر پاؤ گے) کیونکہ خدا اس کا مددگار ہے اور جبرئیل بھی...&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== خصوصیات ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں جبرئیلِ امین کو بلند و بالا اوصاف اور مقامات کے ساتھ یاد کیا ہے، جن کی تفصیل ذیل میں پیش کی جا رہی ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== امانت‌داری ===&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[قرآن|قرآنِ کریم]] اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے جو جبرئیلِ امین کے ذریعے قلبِ مبارکِ [[محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)|پیامبرِ اکرم]] (صلّی‌الله علیه وآله) پر نازل ہوا ہے۔ جبرئیل اللہ کے فرشتۂ امین ہیں جو الٰہی پیغام میں ذرہ برابر بھی تبدیلی یا تغیر پیدا نہیں کرتے۔ پروردگارِ عالم نے رسولانِ الٰہی تک رسالت اور وحی پہنچانے میں جبرئیل کے مقامِ صدق اور امانت داری کی گواہی دی ہے:&amp;lt;ref&amp;gt;حسینی ہمدانی، انوار درخشان، جلد ۱۸، صفحہ ۱۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;«نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِینُ»&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛&amp;lt;ref&amp;gt;سورہ شعراء، آیت ۱۹۳۔&amp;lt;/ref&amp;gt; روحِ امین اسے لے کر نازل ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ان کی ساحت ہر قسم کی غفلت اور اشتباہ سے منزہ ہے۔ وہ نہ تو قصداً اور نہ ہی سہواً الٰہی پیغام میں کوئی تبدیلی یا تحریف کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر نسیان طاری ہوتا ہے؛ بلکہ قرآنی آیات کو اسی شکل و ہیئت میں، جو وہ بارگاہِ ربوبی سے حاصل کرتے ہیں، بلا کم و کاست رسولِ اللہ (ص) کے پاکیزہ قلب اور بلند روح پر القا کرتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;انوار درخشان، جلد ۱۲، صفحہ ۸۴؛ المیزان فی تفسیر القرآن، جلد ۱۵، صفحہ ۳۱۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اسی وجہ سے یہ صفتِ فاضلہ جبرئیل کی دیگر کریمانہ صفات پر فوقیت رکھتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[علی بن الحسین (زین العابدین)|امام زین العابدین (علیہ السلام)]] کے نورانی کلام میں انہیں &amp;quot;جبرئیلِ امین&amp;quot; سے تعبیر کیا گیا ہے جو وحیِ الٰہی کے امانت دار ہیں، آسمان والے ان کی اطاعت کرتے ہیں، اور وہ خدا کے مقربین میں سے ہیں جو بلند اور خصوصی مقام و عزت کے حامل ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ سجادیہ، دعائے سوم۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== طہارت ===&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآنِ کریم میں جبرئیل کا ایک اور وصف ان کی طہارت و پاکیزگی ہے جس کی طرف &amp;quot;روحُ القُدس&amp;quot; کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;«قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّکَ بِالْحَقِّ...»&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛&amp;lt;ref&amp;gt;سورہ نحل، آیت ۱۰۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt; کہہ دیجیے کہ اسے روحُ القُدس نے حق کے ساتھ تیرے پروردگار کی طرف سے نازل کیا ہے...&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;quot;روحُ القُدس&amp;quot; سے مراد جبرئیلِ امین ہیں؛ وہ روح جو مادی آلائشوں سے پاک اور طہارت کے مقام پر فائز ہے۔ ایسی روح جو ہر قسم کے عیب، نقص، معصیت اور خطا سے منزہ ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;المیزان فی تفسیر القرآن، جلد ۱۲، صفحہ ۳۴۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اگرچہ تمام فرشتے منزہ ہیں، لیکن ان کے درجات مختلف ہیں اور جبرئیل سردارِ ملائکہ (سیدِ ملائکہ) ہیں اور خدا و انبیاء کے درمیان واسطہ ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سید عبدالحسین طیب، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، جلد ۲، صفحہ ۹۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== رسالت، کرامت اور منزلت ===&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض مفسرین نے سورہ تکویر کی آیات ۱۹ تا ۲۱ کی تفسیر جبرئیل کے بارے میں کی ہے۔ ان آیات میں، جو کئی قسموں کا جواب ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;«إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ کَرِیمٍ × ذِی قُوَّةٍ عِندَ ذِی الْعَرْشِ مَکِینٍ × مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِینٍ»&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛&amp;lt;ref&amp;gt;سورہ تکویر، آیات ۱۹–۲۱۔&amp;lt;/ref&amp;gt; کہ یہ (قرآن) ایک بزرگ رسول (جبرئیل) کا کلام ہے جو صاحبِ قوت ہے اور (خداوندِ) صاحبِ عرش کے نزدیک بلند مرتبہ ہے! وہاں فرمانروا اور امین ہے!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہاں رسول سے مراد جبرئیل ہیں، یعنی قرآن خدا کی طرف سے ان کی زبان پر نازل ہوا اور رسولِ اکرم (ص) نے یہ کلام جبرئیل سے سنا ہے۔ &amp;quot;قول&amp;quot; کو جبرئیل کی طرف نسبت دینے کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت میں کلام تو خدا کا ہے، لیکن اس کی نسبت جبرئیل کی طرف رسالت کے ناطے دی گئی ہے۔ اس مقام پر خدا نے جبرئیل کو چھ اوصاف سے متصف کیا ہے:&amp;lt;ref&amp;gt;المیزان فی تفسیر القرآن، جلد ۲۰، صفحہ ۲۱۸۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;رسول:&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; وہ جو قرآن کو پیغمبرِ اعظم (ص) تک پہنچاتا ہے۔&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;کریم:&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; کیونکہ وہ بارگاہِ الٰہی میں کرامت، احترام اور عزت کا حامل ہے۔&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;صاحبِ قوت (ذی قوۃ):&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; وہ جو اپنی علمی، عملی اور تبلیغِ رسالت پر مبنی ماموریت میں زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔ &amp;quot;ذی قوۃ&amp;quot; کا حقیقی مفہوم بڑے کاموں کو انجام دینے کی ذاتی صلاحیت ہے، اور مجازی مفہوم فیصلہ سازی میں استقامت، دلیری اور اعتمادِ نفس ہے۔&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;بلند مرتبہ (مکین):&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; &amp;quot;مکین&amp;quot; یعنی وہ جو صاحبِ عرشِ الٰہی کے نزدیک بلند مقام رکھتا ہے۔ یہ تعبیر ان کی عظمتِ مقام کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;فرمانروا (مُطاعٍ ثَمَّ):&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; &amp;quot;مطاع&amp;quot; وہ جس کی اطاعت کی جائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ بارگاہِ الٰہی میں ایسا حکم دینے والا ہے جس کے ماتحت فرشتے اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;امین:&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; جیسا کہ ذکر ہوا، وہ وحی اور پیغامِ خدا کو انبیاء تک پہنچانے میں امانت دار ہے اور کسی قسم کا دخل یا خیانت نہیں کرتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== تعلیم دہندہ، صاحبِ قوت و درایت ===&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دوسرا مقام جہاں مفسرین کے درمیان اختلافِ نظر ہے اور بعض نے اسے جبرئیلِ امین کے لیے [[تفسیر]] کیا ہے، وہ سورہ نجم کی ابتدائی آیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ &amp;quot;نجم&amp;quot; کی قسم کھانے کے بعد نبیِ مکرم کے اوصاف کے بیان میں فرماتا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;«عَلَّمَهُ شَدِیدُ الْقُوی‌؛ ذُو مِرَّةٍ...»&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;؛&amp;lt;ref&amp;gt;سورہ نجم، آیات ۵–۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اسے (پیغمبر کو) عظیم طاقت والے (جبرئیل) نے تعلیم دی ہے؛ وہی جس کے پاس فوق العادہ قوت ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;quot;شدیدُ القویٰ&amp;quot; فرشتوں کے اوصاف میں سے ایک ہے اور اس آیت میں یہ جبرئیل کا وصف ہے، جس سے مراد ان کی عظیم جسمانی اور روحانی طاقت ہے، یعنی جبرئیل نے ہی خدا کی طرف سے وحیِ الٰہی (قرآن) کو رسولِ خدا کو سکھایا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;التحریر والتنویر، جلد ۲۷، صفحہ ۱۰۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;quot;ذُو مِرَّةٍ&amp;quot; اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کمالِ عقل اور درایت کا مالک ہو۔&amp;lt;ref&amp;gt;زمخشری، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، جلد ۴، صفحہ ۴۱۹۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اگرچہ بعض مفسرین نے اس کا مفہوم قوت و طاقت لیا ہے، لیکن چونکہ اس سے پہلے &amp;quot;شدید القویٰ&amp;quot; کے ذریعے اس خصوصیت کا ذکر آ چکا ہے، اس لیے &amp;quot;ذُو مِرَّة&amp;quot; سے مراد جبرئیل کی استواریِ فکر اور بصیرت ہے۔ پس، جبرئیل کے فضائل میں سے ایک ان کی عقلانی قوت اور بلند فہم و ادراک ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== افسانۂ خان الامین ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض [[اہل سنت و جماعت|اہلِ سنت]] نے شیعہ پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق وحی پہنچانے کے دوران جبرئیل نے خیانت کی، اور رسالت علی بن ابی طالب (علیہ السلام) تک پہنچانے کے بجائے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا دی۔ اسی وجہ سے وہ نماز کے سلام کے بعد تین مرتبہ ہاتھ اٹھا کر کہتے ہیں: &amp;#039;&amp;#039;خانَ الأمینُ&amp;#039;&amp;#039;؛ یعنی امانتِ وحی کے امین نے خیانت کی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[ابن تیمیہ]]، جو [[وہابیت|وہابی]] علما میں شمار ہوتے ہیں، کہتے ہیں:&lt;br /&gt;
&amp;lt;blockquote&amp;gt;&lt;br /&gt;
[[یہود]] نے جبرئیل میں نقص اور عیب داخل کرنے کی کوشش کی اور اسے فرشتوں میں اپنا دشمن سمجھا، جس طرح [[شیعہ]] کہتے ہیں کہ جبرئیل نے غلطی سے وحی محمد پر نازل کر دی۔&lt;br /&gt;
&amp;lt;/blockquote&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;ref&amp;gt;ابن تیمیہ، &amp;#039;&amp;#039;منہاج السنۃ النبویۃ&amp;#039;&amp;#039;، ج ۱، ص ۶–۸۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شیعہ علما نے اس نسبت کو بہتان قرار دیا ہے اور اس کا محرک، اہلِ سنت کے متعصب افراد کی جانب سے شیعہ مذہب کو یہودیت کے مشابہ قرار دینا بتایا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مثال کے طور پر دیکھیے: سبحانی، &amp;#039;&amp;#039;الفکر الخالد فی بیان العقائد&amp;#039;&amp;#039;، ۱۴۲۵ھ، ج ۲، ص ۲۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt; جبرئیل کی خیانت کا عقیدہ شیعہ عقائد سے ہم آہنگ نہیں؛&amp;lt;ref&amp;gt;سروش، &amp;#039;&amp;#039;شبهه خان الامین&amp;#039;&amp;#039;، ص ۱۴۸۔&amp;lt;/ref&amp;gt; کیونکہ شیعہ جبرئیل کو معصوم مانتے ہیں اور امام علی (علیہ السلام) کو نبی نہیں سمجھتے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مثال کے طور پر دیکھیے: سید مرتضیٰ، &amp;#039;&amp;#039;الشافی فی الإمامۃ&amp;#039;&amp;#039;، ج ۳، ص ۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== وحی کا نزول ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسلامی ماخذ میں موجود روایات کے مطابق، جبرئیل نے قرآن کی پہلی آیات&amp;lt;ref&amp;gt;العلق: ۱–۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt; [[غار حرا]] میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیں۔ اس کے بعد نبی اکرم [[خدیجہ بنت خویلد|حضرت خدیجہ]] (علیہما السلام) کے پاس واپس آئے اور انہیں اس اہم واقعے سے آگاہ کیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;دیکھیے: عاملی، ج ۱، ص ۲۳۳۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== اہلِ سنت کا نقطۂ نظر ===&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اہلِ سنت کے ماخذ میں متعدد روایات کے مطابق، رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی حاصل کرنے کے بعد اس بارے میں متردد ہوئے کہ آیا انہوں نے وحی کے فرشتے کو دیکھا ہے یا [[شیطان]] سے ملاقات کی ہے۔ اپنی اہلیہ کے مشورے پر وہ [[ورقہ بن نوفل|ورقہ بن نوفل]] کے پاس گئے، جو ایک نصرانی شخص تھا اور سابقہ آسمانی کتابوں سے واقف تھا۔ ورقہ نے انہیں یقین دلایا کہ وہ فرشتہ وہی ناموسِ اکبر ہے جو اس سے پہلے [[حضرت موسیٰ|موسیٰ]] (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;دیکھیے: ابن ہشام، ج ۱، ص ۱۵۵–۱۵۷؛ ابن سعد، ج ۱، ص ۱۹۴–۱۹۵؛ طبری، &amp;#039;&amp;#039;تاریخ&amp;#039;&amp;#039;، ج ۲، ص ۲۹۸–۳۰۳؛ نیز دیکھیے: طبری، &amp;#039;&amp;#039;جامع&amp;#039;&amp;#039;، ذیلِ سورۂ علق؛ اسی روایت کے لیے معمولی اختلاف کے ساتھ دیکھیے: ابن حنبل، ج ۱، ص ۳۱۲، ج ۶، ص ۲۲۳؛ بخاری، ج ۱، ص ۳، ج ۴، ص ۱۲۴، ج ۶، ص ۸۸۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عام سیرت نگاروں، [[:زمرہ:محدثین|محدثین]] اور [[:زمرہ:مفسرین|مفسرین]] نے اس داستان کو قبول کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مثال کے طور پر دیکھیے: قرطبی، ج ۱، ص ۱۱۵۱–۱۱۵۱۶؛ ابن کثیر، ج ۳، ص ۵–۶، ۱۳؛ ابن حجر عسقلانی، ج ۸، ص ۵۴۹–۵۵۴۔&amp;lt;/ref&amp;gt; حتیٰ کہ یہ احادیث شیعہ حدیثی اور تفسیری ماخذ میں بھی داخل ہو گئی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مثال کے طور پر دیکھیے: ابوالفتوح رازی؛ فضل بن حسن طبرسی، سورۂ علق کی ابتدائی آیات کی تفسیر؛ ابن شہر آشوب، ج ۱، ص ۴۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== شیعہ نقطۂ نظر ===&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شیعہ علما نے ان روایات کی سند اور متن پر تفصیل سے تنقید کی ہے۔ ان کے نزدیک، ان روایات میں سے کسی کی بھی سند متصل طور پر واقعے کے عینی شاہد تک نہیں پہنچتی؛ اس داستان کے مختلف طریقوں سے نقل کیے جانے سے بھی اس کے من گھڑت ہونے کا اندازہ ہوتا ہے، اور رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وحی کی حقیقت اور جبرئیل یا شیطان سے ملاقات کے بارے میں تردد کرنا، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقامِ عصمت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;دیکھیے: عاملی، ج ۱، ص ۲۲۰–۲۲۳؛ سبحانی، ج ۱، ص ۱۸۸–۱۹۰؛ دوانی، ص ۱۵۷–۲۰۶؛ شرف الدین، ص ۴۲۱؛ معرفت، ج ۱، ص ۸۰–۸۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ شیعہ روایات میں وحی کے آغاز کے بارے میں پیش کیا گیا بیان مذکورہ مشکلات سے پاک اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقام و منزلت سے ہم آہنگ ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;دیکھیے: ابن شہر آشوب، ج ۱، ص ۴۳؛ &amp;#039;&amp;#039;نہج البلاغہ&amp;#039;&amp;#039;، خطبہ ۱۹۲؛ بحرانی، ذیلِ سورۂ علق؛ مجلسی، ج ۱۷، ص ۳۰۹–۳۱۰۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مسیحیت کی نظر میں جبرئیل ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
موجودہ [[مسیحیت]] میں جبرئیل، [[عیسیٰ]] (علیہ السلام) کے لیے وحی لانے والا اور پیغام پہنچانے والا نہیں ہے، بلکہ عیسیٰ خود وحی ہیں؛ کیونکہ موجودہ مسیحیت کے مطابق عیسیٰ (علیہ السلام) خود مجسم خدا ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مسیحیت میں حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہ تصور ابتدا ہی سے موجود نہیں تھا، بلکہ اس نے ایک تدریجی ارتقائی مرحلہ طے کیا، جو بالآخر، خصوصاً نیقیہ اور آتاناسیوس کے اعتقادی اعلامیوں کی بنیاد پر، ایک کلیسیائی کونسل میں حضرت عیسیٰ کی الوہیت کے عقیدے کے غالب آنے پر منتج ہوا۔ مسیحیت میں حضرت عیسیٰ کے تصور کے ارتقائی مراحل کے لیے دیکھیے: ادیب آلِ علی، سید محمد، &amp;#039;&amp;#039;مسیحیت&amp;#039;&amp;#039;، ص ۱۵–۱۸، قم: انتشارات مرکز مدیریت حوزۂ علمیہ قم، پہلا ایڈیشن، ۲۰۰۶ء۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تھامس مشل کہتے ہیں:&lt;br /&gt;
&amp;lt;blockquote&amp;gt;&lt;br /&gt;
مسلمانوں کے نزدیک قرآنِ مجید کا انحصار خدا کی وحی کے سوا کسی اور چیز پر نہیں ہے۔۔۔ [لیکن] مسیحیوں کے عقیدے کے مطابق، کامل ترین [[وحی]] کسی کتاب میں نہیں بلکہ انسان میں منعکس ہوئی ہے۔ مسیحی یقین رکھتے ہیں کہ [[مسیح]] اپنی زندگی اور ذات میں خدا کو ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ مسیحی صرف یہ کہنے پر اکتفا نہیں کرتے کہ خدا انسانوں کے لیے اپنا پیغام وحی کرتا ہے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا انسانی تاریخ میں اپنی ذات کو وحی کرتا ہے۔&lt;br /&gt;
&amp;lt;/blockquote&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;ref&amp;gt;مشل، تھامس، &amp;#039;&amp;#039;کلامِ مسیحی&amp;#039;&amp;#039;، ترجمہ: توفیقی، حسین، ص ۲۸، قم: انتشارات دانشگاہ ادیان و مذاہب، تیسرا ایڈیشن، ۲۰۰۸ء۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مسیحیت کے اس عقیدے کی بنیاد پر، ایسا جبرئیل جو خدا کی وحی پہنچانے کا واسطہ اور حامل ہو، کوئی معنی نہیں رکھتا؛ عیسیٰ (علیہ السلام) خود مجسم خدا ہیں اور انہیں کسی واسطے کی ضرورت نہیں ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;حتیٰ کہ مقدس کتاب میں بھی عیسیٰ کو ایسے خدا کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کے فرشتے بھی ہیں؛ دوم تھسلنیکیوں، ۱: ۷؛ مکاشفہ، ۲۲: ۱۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے باوجود، اگرچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں جبرئیل کے واسطہ ہونے کو تسلیم نہیں کیا گیا، لیکن عہدِ قدیم اور عہدِ جدید، جو مسیحیوں کے نزدیک قابلِ قبول کتابیں ہیں، میں کئی مقامات پر جبرئیل کو دیگر انبیاء اور مقربانِ الٰہی کے لیے پیغام رساں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان میں شامل ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت زکریا]] (علیہ السلام) کے سامنے جبرئیل کا ظاہر ہونا اور انہیں اولاد کی بشارت دینا۔&amp;lt;ref&amp;gt;لوقا، ۱: ۱۱–۲۰۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[حضرت دانیال]] (علیہ السلام) کے خواب کی تعبیر بیان کرنے کے لیے جبرئیل کا مامور ہونا اور اسی مقصد سے ان کے سامنے ظاہر ہونا۔&amp;lt;ref&amp;gt;دانیال، ۸: ۱۶–۲۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* دانیال (علیہ السلام) کے سامنے جبرئیل کا ظاہر ہونا تاکہ انہیں علم اور فہم عطا کرے۔&amp;lt;ref&amp;gt;دانیال، ۹: ۲۰–۲۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[حضرت مریم]] (سلام اللہ علیہا) کے سامنے جبرئیل کا ظاہر ہونا اور انہیں روح القدس کے ذریعے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے حاملہ ہونے کی بشارت دینا۔&amp;lt;ref&amp;gt;لوقا، ۱: ۲۶–۳۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آخر میں یہ کہنا چاہیے کہ اگرچہ مسیحیوں کی [[مقدس کتاب]] نے قرآن کی طرح جبرئیل کی صفات کے بارے میں کچھ نہیں کہا، تاہم اس کتاب میں فرشتوں کے بارے میں بیان کردہ صفات، اعمال اور فرائض سے مسیحیت کے عمومی نقطۂ نظر کو، کسی حد تک، تمام فرشتوں، بشمول جبرئیل (علیہ السلام)، کے بارے میں سمجھا جا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صفات، مثلاً:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* خدا کے آسمانی خادم۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایوب، ۴: ۱۸؛ اول سلاطین، ۲۲: ۱۹؛ دوم تواریخ، ۱۸: ۱۸؛ عبرانیوں، ۱: ۱۴۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* پروں کا حامل ہونا۔&amp;lt;ref&amp;gt;دوم تواریخ، ۳: ۱۱؛ دوم تواریخ، ۵: ۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* عصمت سے عاری ہونا اور مواخذے کے لیے [[دوزخ]] میں داخل کیا جانا۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایوب، ۴: ۱۸ اور ۱۵: ۱۵؛ دوم پطرس، ۲: ۴۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* ان کی تعداد کا بے شمار ہونا۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایوب، ۲۵: ۳۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* شادی نہ کرنا۔&amp;lt;ref&amp;gt;متی، ۲۲: ۳۰؛ مرقس، ۱۲: ۲۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اعمال اور فرائض، مثلاً:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* انسان کی نگرانی اور حفاظت کرنا۔&amp;lt;ref&amp;gt;زبور، ۹۱: ۱۱؛ خروج، ۲۳: ۲۰۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* عیسیٰ (علیہ السلام) کے خادم اور محافظ ہونا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مرقس، ۱: ۱۳؛ لوقا، ۴: ۱۰۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* دیگر پیغمبروں کے لیے شریعت لانا۔&amp;lt;ref&amp;gt;اعمالِ رسولان، ۷: ۵۳؛ غلاطیوں، ۳: ۱۹۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* عذاب نازل کرنے کا واسطہ ہونا۔&amp;lt;ref&amp;gt;دوم سموئیل، ۲۴: ۱۶؛ اول تواریخ، ۲۱: ۱۲؛ دوم تواریخ، ۳۲: ۲۱؛ مکاشفہ، ۱۲: ۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== جبرئیل سے توسل ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کتاب &amp;#039;&amp;#039;[[اصول کافی (کتاب)|اصولِ کافی]]&amp;#039;&amp;#039;&amp;lt;ref&amp;gt;نویں حدیث، باب ۱۳۵، کتاب الدعاء۔&amp;lt;/ref&amp;gt; میں منقول ہے کہ جب تم پر غم طاری ہو تو سجدے کے آخر میں بار بار کہو:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;«یا جبرئیل یا محمد، یا جبرئیل یا محمد۔۔۔ اکفیانی ما أنا فیه، فإنکما کافیان، واحفظانی بإذن الله، فإنکما حافظان»&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یعنی: جس مصیبت میں میں مبتلا ہوں، اس کے شر سے مجھے نجات دو، کیونکہ تم دونوں کفایت کرنے والے ہو، اور خدا کے اذن سے میری حفاظت کرو، کیونکہ تم دونوں محافظ ہو۔&amp;lt;ref&amp;gt;&amp;#039;&amp;#039;نثر طوبیٰ&amp;#039;&amp;#039; سے نقل کیا گیا ہے۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== جبرئیل کی وفات ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دنیا کے اختتام پر جبرئیل کی وفات کا واقعہ [[جعفر بن محمد (صادق)|امام جعفر صادق]] (علیہ السلام) نے اس طرح بیان فرمایا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;blockquote&amp;gt;&lt;br /&gt;
جب خدا اہلِ زمین کو موت دے گا تو اتنی مدت ٹھہرے گا جتنی مدت مخلوقات کے وجود میں رہنے کی تھی، اور جتنی مدت میں اس نے انہیں موت دی تھی، نیز اس سے کئی گنا زیادہ مدت۔ پھر پہلے آسمان والوں کو موت دے گا۔ اس کے بعد اتنی ہی مدت ٹھہرے گا جتنی مخلوقات کو پیدا کرنے میں لگی تھی، اور اتنی ہی مدت جتنی اہلِ زمین اور پہلے آسمان والوں کو موت دینے میں لگی تھی، نیز اس سے کئی گنا زیادہ مدت۔ پھر دوسرے آسمان والوں کو موت دے گا۔ اسی طرح امام نے سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ساتویں آسمان والوں کی موت تک بیان فرمایا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پھر فرمایا: اس کے بعد اتنی مدت ٹھہرے گا جتنی مدت تخلیقِ مخلوقات، اہلِ زمین اور ساتوں آسمانوں کے باشندوں کی موت کے لیے گزری تھی، نیز اس سے کئی گنا زیادہ مدت۔ پھر [[میکائیل|میکائیل]] کو موت دے گا۔ اس کے بعد تخلیق کے زمانے، ان تمام مراحل کے برابر مدت اور اس سے کئی گنا زیادہ مدت تک ٹھہرے گا۔ پھر جبرئیل کو موت دے گا۔ اس کے بعد اتنی ہی پوری مدت اور اس سے کئی گنا زیادہ مدت گزرنے پر [[اسرافیل|اسرافیل]] کو موت دے گا۔ پھر اتنی ہی پوری مدت اور اس سے کئی گنا زیادہ مدت گزرنے پر [[عزرائیل|عزرائیل]] کو موت دے گا۔۔۔&lt;br /&gt;
&amp;lt;/blockquote&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;ref&amp;gt;&amp;#039;&amp;#039;معجم احادیث الامام مہدی&amp;#039;&amp;#039;، ج ۱، ص ۳۶۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{حوالہ جات}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:مفاہیم اور اصطلاحات]]&lt;br /&gt;
[[زمرہ:دینی مفاہیم اور اصطلاحات]]&lt;br /&gt;
[[زمرہ:فرشتے]]&lt;br /&gt;
[[fa: جبرئیل]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Sajedi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%AC%D9%86&amp;diff=29785&amp;oldid=29779</id>
		<title>مسودہ:جن</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%AC%D9%86&amp;diff=29785&amp;oldid=29779"/>
		<updated>2026-09-04T09:26:36Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;&lt;span class=&quot;autocomment&quot;&gt;متعلقہ موضوعات&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;a href=&quot;https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%AC%D9%86&amp;amp;diff=29785&amp;amp;oldid=29779&quot;&gt;تبدیلیاں دکھائیں&lt;/a&gt;</summary>
		<author><name>Sajedi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%AC%D9%86&amp;diff=29779&amp;oldid=0</id>
		<title>مسودہ:جن</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%AC%D9%86&amp;diff=29779&amp;oldid=0"/>
		<updated>2026-09-04T09:17:56Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;« &lt;a href=&quot;/wiki/%D9%81%D8%A7%D8%A6%D9%84:%D8%AC%D9%86.jpg&quot; title=&quot;فائل:جن.jpg&quot;&gt;تصغیر|بائیں&lt;/a&gt; &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جن&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; ایک ایسی مخلوق ہے جس کے بارے میں &lt;a href=&quot;/wiki/%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86&quot; title=&quot;مسلمان&quot;&gt;مسلم&lt;/a&gt; علماء کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ جن کے بارے میں مختلف نظریات بیان کیے گئے ہیں، مثلاً یہ کہ وہ آگ اور ہوا سے بنا ہوا ایک جسم، عقل و فہم رکھنے والی مخلوق، &lt;a href=&quot;/w/index.php?title=%D8%B1%D9%88%D8%AD&amp;amp;action=edit&amp;amp;redlink=1&quot; class=&quot;new&quot; title=&quot;روح (صفحہ موجود نہیں)&quot;&gt;روح&lt;/a&gt; ا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;b&gt;نیا صفحہ&lt;/b&gt;&lt;/p&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;
[[فائل:جن.jpg|تصغیر|بائیں]]&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;جن&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; ایک ایسی مخلوق ہے جس کے بارے میں [[مسلمان|مسلم]] علماء کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ جن کے بارے میں مختلف نظریات بیان کیے گئے ہیں، مثلاً یہ کہ وہ آگ اور ہوا سے بنا ہوا ایک جسم، عقل و فہم رکھنے والی مخلوق، [[روح]] اور [[ملائکہ]] کی جنس سے تعلق رکھنے والی اور عناصر سے مجرد ہستی، یا لطیف اجسام رکھنے والی ذی حیات مخلوق ہیں۔ جنات کا دکھائی دینا بھی اختلافی موضوعات میں شامل ہے۔ بعض علماء اسے ناممکن قرار دیتے ہیں اور جنات کو دیکھنے کے دعوے کو باطل سمجھتے ہیں۔ بعض لوگ اس مخلوق کی خوراک کو کھانے کی خوشبو سے ملی ہوئی ہوا قرار دیتے ہیں۔ بعض نصوص میں ہڈیوں کی بو اور جانوروں کے فضلے کو بھی اس مخلوق کی غذا کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے مقابلے میں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جنات روحانی مخلوق ہیں اور انہیں مادی غذا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح بعض [[آیات]] سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات میں مرد و عورت کا وجود اور ازدواجی زندگی کا قانون پایا جاتا ہے۔ ان کی اجتماعی زندگی اور حیوان یا [[انسان]] کی صورت اختیار کرنا بھی ان کے بارے میں بیان کیے جانے والے نظریات میں شامل ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مزید یہ کہ جنات بھی انسانوں کی طرح صاحبِ اختیار اور مکلف ہیں۔ ان میں نیک اور بد دونوں طرح کے افراد پائے جاتے ہیں اور آخرت میں انہیں اپنے اعمال کا نتیجہ ملے گا۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ جنات کمال اور کرامت کی استعداد کے اعتبار سے انسانوں کے مرتبے تک نہیں پہنچتے، اس لیے ان میں سے کبھی کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا؛ بلکہ وہ انسانی [[پیامبران|انبیاء]] کی پیروی کرتے ہیں۔ [[قرآن]] کی [[آیات]] اور [[حدیث|روایات]] میں جنات کی موجودگی اور ان کا [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)|رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] اور [[ائمہ|ائمۂ اطہار علیہم السلام]] کے ساتھ رابطہ بھی بیان ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==جن کا مفہوم==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لفظ &amp;#039;&amp;#039;جن&amp;#039;&amp;#039; اصل میں ایسی چیز کے معنی میں ہے جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہو۔ مثلاً عربی میں کہا جاتا ہے: &amp;#039;&amp;#039;جَنَّهُ اللَّیْلُ&amp;#039;&amp;#039; یا &amp;#039;&amp;#039;فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ اللَّیْلُ&amp;#039;&amp;#039;، یعنی جب رات کی تاریکی نے اسے ڈھانپ لیا۔ اسی مناسبت سے &amp;#039;&amp;#039;مجنون&amp;#039;&amp;#039; اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کی عقل ڈھک گئی ہو، &amp;#039;&amp;#039;جنین&amp;#039;&amp;#039; اس بچے کو کہا جاتا ہے جو ماں کے رحم میں پوشیدہ ہو، &amp;#039;&amp;#039;جنت&amp;#039;&amp;#039; اس باغ کو کہا جاتا ہے جس کی زمین درختوں سے ڈھکی ہوئی ہو، &amp;#039;&amp;#039;جنان&amp;#039;&amp;#039; سینے کے اندر پوشیدہ دل کو کہا جاتا ہے، اور &amp;#039;&amp;#039;جُنَّه&amp;#039;&amp;#039; اس ڈھال کو کہتے ہیں جو انسان کو دشمن کے وار سے محفوظ رکھتی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ناصر مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، بے تا، جلد ۱۱، ص ۷۹۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[قرآن]] سے معلوم ہوتا ہے کہ جن ایک ایسی صاحبِ عقل مخلوق ہے جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہے۔ اس کی تخلیق بنیادی طور پر آگ یا آگ کے خالص شعلوں سے ہوئی ہے، اور [[شیطان|ابلیس]] بھی اسی گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==قرآن کی نظر میں جنات کی خصوصیات==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
# جنات آگ کے شعلوں سے پیدا کیے گئے ہیں، اس کے برخلاف انسان مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورۃ الرحمن، آیت ۱۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# وہ عقل، علم، ادراک، حق و باطل کی تشخیص، اور منطق و استدلال کی قدرت رکھتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورۃ الجن کی مختلف آیات۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# وہ مکلف اور ذمہ دار ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورۃ الجن اور سورۃ الرحمن کی آیات۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# جنات میں بھی مرد اور عورت ہوتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورۃ الجن، آیت ۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# ان میں سے کچھ [[مؤمن]] اور صالح ہیں، جبکہ کچھ کافر ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورۃ الجن، آیت ۱۱۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# ان کے لیے حشر و نشر اور قیامت و [[معاد]] ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورۃ الجن، آیت ۱۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# وہ آسمانوں میں رہتے تھے اور وہاں کی خبریں حاصل کرنے اور چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے تھے، لیکن بعد میں انہیں اس سے روک دیا گیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورۃ الجن، آیت ۹۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# ان میں بعض افراد غیر معمولی طاقت رکھتے ہیں، جس طرح انسانوں میں بھی بعض افراد کو زیادہ طاقت حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً ان میں سے ایک نے [[حضرت سلیمان]] سے کہا: &amp;#039;&amp;#039;میں [[ملکہ سبا]] کا تخت آپ کے اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے یہاں لے آؤں گا۔&amp;#039;&amp;#039;&amp;lt;ref&amp;gt;سورۃ النمل، آیت ۳۹۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# وہ انسانوں کی بعض ضروریات پوری کرنے والے کام انجام دے سکتے ہیں: &amp;#039;&amp;#039;اور جنات میں سے ایک گروہ اپنے پروردگار کے حکم سے [[حضرت سلیمان|سلیمان]] کے سامنے کام کرتا تھا، اور اس کے لیے عبادت گاہیں، تمثالیں اور بڑے بڑے کھانے کے برتن بناتا تھا۔&amp;#039;&amp;#039;&amp;lt;ref&amp;gt;سورۃ سبا، آیات ۱۲–۱۳۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# انسانوں کی پیدائش سے پہلے زمین پر ان کی تخلیق ہو چکی تھی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورۃ الحجر، آیت ۲۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک طرف [[قرآن]]، جو سچی اور گویا کتاب ہے، جنات کے وجود اور ان کی مذکورہ خصوصیات کی خبر دیتا ہے، اور دوسری طرف ان کے وجود کی نفی پر کوئی عقلی دلیل موجود نہیں۔ لہٰذا ان کے وجود کو تسلیم کرنا چاہیے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ &amp;#039;&amp;#039;جن&amp;#039;&amp;#039; کبھی وسیع تر مفہوم میں استعمال ہوتا ہے، جس میں ہر قسم کی نادیدہ مخلوقات شامل ہوتی ہیں؛ خواہ وہ عقل و ادراک رکھتی ہوں یا عقل و ادراک نہ رکھتی ہوں۔ حتیٰ کہ بعض ایسے جانور بھی، جو آنکھ سے دکھائی دیتے ہیں مگر عموماً اپنے بلوں میں چھپے رہتے ہیں، اس وسیع مفہوم میں شامل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس بات کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)|رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] سے نقل ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{quote|&amp;#039;&amp;#039;خداوند نے جنات کو پانچ قسموں میں پیدا کیا ہے: ایک قسم ہوا کی مانند ہے جو فضا میں رہتی ہے اور دکھائی نہیں دیتی؛ ایک قسم سانپوں کی صورت میں ہے؛ ایک قسم بچھوؤں کی صورت میں ہے؛ ایک قسم زمین کے حشرات پر مشتمل ہے؛ اور ایک قسم انسانوں کی مانند ہے، جن کے لیے حساب اور سزا ہے۔&amp;#039;&amp;#039;&amp;lt;ref&amp;gt;سفینۃ البحار، جلد ۱، ص ۱۸۶، مادۂ «جن»؛ ناصر مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، قم، دار الکتب الاسلامیہ، نواں ایڈیشن، ۱۳۷۰ھ، جلد ۲۵، ص ۱۵۴–۱۵۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پس جن بھی انسان کی طرح ایک مادی مخلوق ہے اور انسان ہی کی مانند روح رکھتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;معارف قرآن، استاد مصباح یزدی، قم، دفترِ انتشاراتِ اسلامیِ جامعۂ مدرسین، ص ۳۱۰، سنِ اشاعت ۱۳۶۷ھ۔&amp;lt;/ref&amp;gt; چنانچہ مجموعی طور پر جنات بھی بامقصد اور بامعنی زندگی رکھتے ہیں، اور ان میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کی بنا پر ان کے لیے حشر و نشر اور [[معاد]] ضروری قرار پاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;تفسیر المیزان، علامہ طباطبائی، تہران، کانونِ انتشاراتِ محمودی، ترجمہ: موسوی ہمدانی، جلد ۱۲، ص ۲۲۵، سنِ اشاعت ۱۳۵۶ھ۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==جنات کی تخلیق کا مقصد==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[قرآن|قرآنِ کریم]] کے مطابق جنات کی تخلیق کی حکمت اور راز وہی ہے جو انسان کی تخلیق کے بارے میں بیان ہوا ہے، یعنی [[عبادت]] اور خداوندِ سبحان کی پرستش۔ چُچہ ارشاد ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;{{متن قرآن |وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ |سورۃ = ذاریات |آیت = ۵۶ }}&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;میں نے جن اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔&amp;#039;&amp;#039;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مذکورہ آیت بیان کرتی ہے کہ چونکہ انسان اور جن دونوں کی تخلیق کا مقصد خدا کی عبادت ہے، اس لیے دونوں خدا کے سامنے مکلف ہیں۔ لہٰذا جنات کے لیے بھی انسانوں کی طرح حساب و کتاب کا ایک نظام موجود ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[قرآن]] فرماتا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;اے جن و انس کے گروہ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے، جو تمہارے سامنے میری آیات پڑھتے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے؟ وہ کہیں گے: ہم اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ بے شک ایسا ہی ہوا تھا۔&amp;#039;&amp;#039;&amp;lt;ref&amp;gt;سورۃ الانعام، آیت ۱۳۰۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس آیت سے درج ذیل نکات معلوم ہوتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
*&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;اولاً:&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; جنات کی دنیا تکلیف و ذمہ داری، بازپُرس، خطاب اور عتاب کی دنیا ہے، اور وہ رسالت، انذار اور بشارت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
*&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;ثانیاً:&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; معلوم ہوتا ہے کہ جنات کی دنیا بھی پوری کائنات کے ساتھ قیامت اور عمومی [[قیامت|رستاخیز]] کی طرف بڑھ رہی ہے۔&lt;br /&gt;
*&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;ثالثاً:&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; یہ آیت بتاتی ہے کہ جنات کے لیے قیامت اور موت کی دنیا بھی غیب اور پوشیدہ دنیا کی حیثیت رکھتی ہے، اور جنات آخرت کے بارے میں حسی علم و اطلاع نہیں رکھتے۔&lt;br /&gt;
*&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;رابعاً:&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; یہ آیت بتاتی ہے کہ جنات کے اندر جاننے اور حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آیت &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;{{متن قرآن |غَرَّتْهُمُ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا... |آیت = ۵۱ |سورۃ = اعراف }}&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; کے ذیل میں، جس کا مطلب ہے &amp;#039;&amp;#039;دنیاوی زندگی نے انہیں دھوکے میں مبتلا کر دیا&amp;#039;&amp;#039;، یہ بات بیان ہوتی ہے کہ جنات بھی مادی اور ظاہری زندگی رکھتے ہیں اور سامان و اسباب اور دنیاوی نعمتوں کے مالک ہوتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==جنات کا دین اور مذہب==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آیات و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات میں بھی انسانوں کی طرح [[مسلمان]] اور [[کافر]] پائے جاتے ہیں، نیز ان میں [[مذہب شیعہ|شیعہ]] اور غیر شیعہ بھی موجود ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[سورۃ الاحقاف]] میں جنات کے ایک گروہ کے [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)|رسولِ اکرم]] اور ان کی [[قرآن|آسمانی کتاب]] پر [[ایمان]] لانے کا مختصر بیان موجود ہےذکورہ مطالب کی روشنی میں اساف، آیت ۳۰۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مذکورہ مطالب کی روشنی میں اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ جنات بھی ہم انسانوں کی طرح مختلف عقائد رکھتے ہیں۔ ان میں بعض فاسق، فاجر، ظالم اور کافر ہیں، جبکہ بعض صالح، مؤمن اور مسلمان ہیں۔ بعض جنات کے شیعہ ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں اور یہ بات ثابت شدہ معلوم ہوتی ہے، کیونکہ [[اہل بیت|اہلِ بیت علیہم السلام]] سے منقول متعدد روایات میں بعض جنات کو شیعہ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ان روایات میں سے ایک وہ روایت ہے جسے [[ابوحمزہ ثمالی]] نے نقل کیا ہے۔ اس روایت میں بعض جنات کے [[محمد بن علی (باقر العلوم)|امام باقر علیہ السلام]] کی خدمت میں حاضر ہونے کا ذکر ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;میزان الحکمہ، محمد محمدی ری شہری، تہران، بنیادِ ثقافتِ ایران، جلد ۲، ص ۱۱۸، سنِ اشاعت ۱۳۴۶ھ۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==جن و انس کے لیے ایک ہی نبی==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سورۃ الاحقاف کی آیات ۲۹ تا ۳۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات کے ایک گروہ نے [[اسلام|اسلامی نبی]] پر [[ایمان]] قبول کیا۔ ان آیات سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)|رسولِ گرامیِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] جنات کے بھی نبی ہیں، بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دیگر مرسل انبیاء بھی جن و انس دونوں کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔ چنانچہ ان میں سے بعض نے اسلام سے پہلے [[۔ چنانچہ ان میں سے بعض نے اسلام سے پہلے [[حضرت موسی|حضرت موسیمتعلقہ موضوعات==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[مسلمان]]&lt;br /&gt;
* [[روح]]&lt;br /&gt;
* [[ملائکہ]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{حوالہ جات}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:مفاہیم اور اصطلاحات]]&lt;br /&gt;
[[زمرہ:اسلامی مفاہیم اور اصطلاحات]]&lt;br /&gt;
[[fa: جن]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Sajedi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A8%D9%84%D8%A7%D9%84_%D8%AD%D8%A8%D8%B4%DB%8C&amp;diff=29778&amp;oldid=27180</id>
		<title>مسودہ:بلال حبشی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A8%D9%84%D8%A7%D9%84_%D8%AD%D8%A8%D8%B4%DB%8C&amp;diff=29778&amp;oldid=27180"/>
		<updated>2026-09-04T09:11:46Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;&lt;span class=&quot;autocomment&quot;&gt;سوانح حیات بلال حبشی&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;a href=&quot;https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A8%D9%84%D8%A7%D9%84_%D8%AD%D8%A8%D8%B4%DB%8C&amp;amp;diff=29778&amp;amp;oldid=27180&quot;&gt;تبدیلیاں دکھائیں&lt;/a&gt;</summary>
		<author><name>Sajedi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A7%D8%B0%D8%A7%D9%86&amp;diff=29775&amp;oldid=29774</id>
		<title>مسودہ:اذان</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A7%D8%B0%D8%A7%D9%86&amp;diff=29775&amp;oldid=29774"/>
		<updated>2026-09-04T09:01:16Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;&lt;span class=&quot;autocomment&quot;&gt;اذان کے اجزا&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;table style=&quot;background-color: #fff; color: #202122;&quot; data-mw=&quot;interface&quot;&gt;
				&lt;col class=&quot;diff-marker&quot; /&gt;
				&lt;col class=&quot;diff-content&quot; /&gt;
				&lt;col class=&quot;diff-marker&quot; /&gt;
				&lt;col class=&quot;diff-content&quot; /&gt;
				&lt;tr class=&quot;diff-title&quot; lang=&quot;ur&quot;&gt;
				&lt;td colspan=&quot;2&quot; style=&quot;background-color: #fff; color: #202122; text-align: center;&quot;&gt;→ پرانا نسخہ&lt;/td&gt;
				&lt;td colspan=&quot;2&quot; style=&quot;background-color: #fff; color: #202122; text-align: center;&quot;&gt;نسخہ بمطابق 12:31، 4 ستمبر 2026ء&lt;/td&gt;
				&lt;/tr&gt;&lt;tr&gt;&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-lineno&quot; id=&quot;mw-diff-left-l73&quot;&gt;سطر 73:&lt;/td&gt;
&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-lineno&quot;&gt;سطر 73:&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;==اذان کے اجزا==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;==اذان کے اجزا==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;−&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #ffe49c; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;اذان اٹھارہ جملوں پر مشتمل ہے، جو بغیر کسی کمی و بیشی کے جبرئیل کے ذریعے نازل ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں، نیز [[ابوبکر بن ابی قحافہ|ابوبکر]] کے دور اور [[عمر]] کی خلافت کے ابتدائی زمانے میں اذان اسی طرح کہی جاتی تھی۔ تاہم اہلِ سنت ([[شافعیه|شافعی]]، [[حنبلی]]، [[حنفی]] اور &lt;del style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;[[&lt;/del&gt;مالکی&lt;del style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;]]&lt;/del&gt;) اذان کو پندرہ جملوں پر مشتمل قرار دیتے ہیں؛ یعنی ان کے نزدیک &#039;&#039;حَیَّ عَلَى خَیْرِ الْعَمَلِ&#039;&#039; اذان کا حصہ نہیں ہے۔ اسی طرح &#039;&#039;لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ&#039;&#039; بھی صرف ایک مرتبہ کہا جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;الفقه علی المذاهب الخمسه، محمد جواد مغنیہ، ص ۱۱۹۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;+&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #a3d3ff; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;اذان اٹھارہ جملوں پر مشتمل ہے، جو بغیر کسی کمی و بیشی کے جبرئیل کے ذریعے نازل ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں، نیز [[ابوبکر بن ابی قحافہ|ابوبکر]] کے دور اور [[عمر]] کی خلافت کے ابتدائی زمانے میں اذان اسی طرح کہی جاتی تھی۔ تاہم اہلِ سنت ([[شافعیه|شافعی]]، [[حنبلی]]، [[حنفی]] اور مالکی) اذان کو پندرہ جملوں پر مشتمل قرار دیتے ہیں؛ یعنی ان کے نزدیک &#039;&#039;حَیَّ عَلَى خَیْرِ الْعَمَلِ&#039;&#039; اذان کا حصہ نہیں ہے۔ اسی طرح &#039;&#039;لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ&#039;&#039; بھی صرف ایک مرتبہ کہا جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;الفقه علی المذاهب الخمسه، محمد جواد مغنیہ، ص ۱۱۹۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;شیعہ روایات کے مطابق &amp;#039;&amp;#039;حَیَّ عَلَى خَیْرِ الْعَمَلِ&amp;#039;&amp;#039; رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اذان کا حصہ تھا، لیکن [[عمر]] نے اسے حذف کر دیا اور اس کی جگہ &amp;#039;&amp;#039;الصَّلَاةُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ&amp;#039;&amp;#039; کا اضافہ کیا۔&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;شیعہ روایات کے مطابق &amp;#039;&amp;#039;حَیَّ عَلَى خَیْرِ الْعَمَلِ&amp;#039;&amp;#039; رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اذان کا حصہ تھا، لیکن [[عمر]] نے اسے حذف کر دیا اور اس کی جگہ &amp;#039;&amp;#039;الصَّلَاةُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ&amp;#039;&amp;#039; کا اضافہ کیا۔&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;

&lt;!-- diff cache key urwiki:diff:1.41:old-29774:rev-29775:php=table --&gt;
&lt;/table&gt;</summary>
		<author><name>Sajedi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A7%D8%B0%D8%A7%D9%86&amp;diff=29774&amp;oldid=0</id>
		<title>مسودہ:اذان</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A7%D8%B0%D8%A7%D9%86&amp;diff=29774&amp;oldid=0"/>
		<updated>2026-09-04T08:59:52Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;«&lt;a href=&quot;/wiki/%D9%81%D8%A7%D8%A6%D9%84:%D8%A7%D8%B0%D8%A7%D9%86.jpg&quot; title=&quot;فائل:اذان.jpg&quot;&gt;تصغیر|بائیں&lt;/a&gt; &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;اذان&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; نماز کے وقت کے اعلان، نماز کی دعوت، اور دینِ &lt;a href=&quot;/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85&quot; title=&quot;اسلام&quot;&gt;اسلام&lt;/a&gt; کے ایک شعار کا نام ہے۔ ہر حکومت ہر دور اور زمانے میں اپنی قوم کے جذبات و احساسات کو ابھارنے اور انہیں انفرادی و اجتماعی فرائض کی طرف بلانے کے لیے مختلف نعرو...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;b&gt;نیا صفحہ&lt;/b&gt;&lt;/p&gt;&lt;div&gt;[[فائل: اذان.jpg |تصغیر|بائیں]]&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;اذان&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; نماز کے وقت کے اعلان، نماز کی دعوت، اور دینِ [[اسلام]] کے ایک شعار کا نام ہے۔ ہر حکومت ہر دور اور زمانے میں اپنی قوم کے جذبات و احساسات کو ابھارنے اور انہیں انفرادی و اجتماعی فرائض کی طرف بلانے کے لیے مختلف نعروں اور شعارات سے کام لیتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عیسائی ماضی میں بھی اور آج بھی ناقوس بجا کر اپنے پیروکاروں کو کلیسا کی طرف بلاتے ہیں، لیکن [[اسلام]] میں اس دعوت کے لیے اذان کے شعار کا استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==اذان کی تشریع==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کی [[مدینہ]] کی طرف ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار رفتہ رفتہ آپ کے گرد جمع ہونے لگے اور اسلامی حکومت قائم کی؛ [[مسجد]] بنائی اور نمازِ باجماعت کا اہتمام کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دن بہ دن [[اسلام|دینِ اسلام]] کی عظمت و شوکت میں اضافہ ہوتا گیا۔ چنانچہ انہیں ایسے ذریعے کی ضرورت محسوس ہوئی جس کے ذریعے لوگوں کو [[نماز]] کے وقت سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس لیے [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کے سامنے مختلف تجاویز پیش کی گئیں، لیکن آپ نے ان میں سے کوئی تجویز قبول نہیں کی، کیونکہ بعض تجاویز [[یهودیت|یہودیوں]] کے طریقے پر مبنی تھیں۔ اسی بنا پر ہجرت کے پہلے سال خداوند کے حکم سے جبرئیل کے ذریعے اذان آپ پر نازل ہوئی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سیرۃ ابن ہشام، جلد ۱، ص ۱۵۴۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[جعفر بن محمد|جعفر بن محمد صادق علیہ السلام]] سے روایت ہے کہ جب جبرئیل رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اذان لائے تو اس وقت آپ کا سرِ مبارک [[علی ابن ابی طالب|علی علیہ السلام]] کی گود میں تھا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چنانچہ جبرئیل نے اذان اور اقامت کے کلمات بیان کیے۔ جب حضرت بیدار ہوئے تو فرمایا: &amp;#039;&amp;#039;اے علی! کیا تم نے سنا؟&amp;#039;&amp;#039; انہوں نے عرض کیا: &amp;#039;&amp;#039;ہاں!&amp;#039;&amp;#039; آپ نے فرمایا: &amp;#039;&amp;#039;کیا تم نے اسے یاد کر لیا؟&amp;#039;&amp;#039; عرض کیا: &amp;#039;&amp;#039;ہاں!&amp;#039;&amp;#039; آپ نے فرمایا: بلال حبشی کو بلاؤ۔ علی علیہ السلام نے بلال کو بلایا۔ جب وہ آئے تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اذان سکھائی،&amp;lt;ref&amp;gt;وسائل الشیعہ، حر عاملی، جلد ۴، ص ۶۱۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اور حکم دیا کہ نماز کے اوقات میں اپنی بلند اور رسا آواز سے اذان دیں۔ وہ تاریخِ اسلام میں پہلے شخص تھے جنہیں مؤذن بننے کا شرف حاصل ہوا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگرچہ دوسری قومیں ناقوس بجا کر یا دیگر ذرائع استعمال کر کے لوگوں کو عبادت گاہوں کی طرف بلاتی ہیں، لیکن اسلامی شریعت میں مؤذن کی اذان مسلمانوں کے مساجد میں خدا کی عبادت کے لیے جمع ہونے کی علامت ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] نے نہ صرف بلال کو اذان کے الفاظ سکھائے بلکہ اس کے اوقات بھی بتائے، اور لوگوں سے فرمایا: &amp;#039;&amp;#039;بلال وقت کی پابندی کرنے والے شخص ہیں؛ جب بھی وہ اذان دیں، نماز پڑھ لیا کرو۔&amp;#039;&amp;#039;&amp;lt;ref&amp;gt;مجله مکتب اسلام، سال ۹، شمارہ ۵، ص ۲۰۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسی لیے جب بلال کے سوزِ دل سے وقت پر اذان کی ملکوتی آواز بلند ہوتی اور لوگوں کے کانوں تک پہنچتی تو وہ ایسی روح کی مانند ہوتی جو مردہ جسم میں پھونک دی گئی ہو اور اسے زندگی بخش دیتی ہو۔&amp;lt;ref&amp;gt;بحار الانوار، جلد ۲۲، ص ۲۴۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگرچہ اس زمانے میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کی آواز بلال سے زیادہ دل نشیں اور لہجہ زیادہ فصیح تھا، لیکن بلال کی پاک دلی، ایمان اور اخلاص نے انہیں اس بلند مرتبے تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد بلال ہمیشہ رسولِ اکرم کے ساتھ رہے اور اذان دیتے رہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==تبلیغ میں اذان کا مقام==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اذان تبلیغ کا ایک ذریعہ ہے، جو [[اسلام]] کی دعوت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اذان میں تکبیر، [[توحید]]، خداوند کی وحدانیت اور عظمت کی گواہی، رسولِ اکرم کی رسالت کی گواہی، نماز، فلاح اور بہترین اعمال کی طرف دعوت شامل ہے، اور آخر میں &amp;#039;&amp;#039;لا إله إلا الله&amp;#039;&amp;#039; پر اختتام ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اذان میں جملوں کا تکرار ایک قابلِ توجہ نکتہ ہے۔ یہ تکرار سامعین کی توجہ موضوع کی اہمیت کی طرف مبذول کرانے والے مؤثر عوامل میں سے ایک ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جس طرح مبلغین بھی اس بات کے قائل ہیں، ایک پیغام کو بار بار دہرانا ان عوامل میں شامل ہے جو مخاطب کو قائل کرنے، تصدیق کرنے اور ترغیب دینے میں بہت مؤثر ہوتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اذان ہمیشہ عبادت کے ایک جز، اسلام کے جاوداں شعار اور توحید کی بلند آواز کے طور پر پیش کی جاتی رہی ہے اور آئندہ بھی کی جاتی رہے گی بھی کی جاتی رہے گی۔ اس کی دو خصوصیات ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;الف:&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; کوں کو مسلسل سرکوب کرنا۔&lt;br /&gt;
* &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;ب:&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; مسلمانوں کو حق اور فلاح کی طرف بلانا، اور پاکیزگی و اصلاح کا درس دینا۔&amp;lt;ref&amp;gt;اہمیتِ اذان و اقامت، ترجمہ: محمد محمدی اشتهاردی، ص ۲۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں فرمایا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;إِنَّ الشَّیْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ هَرَبَ&amp;#039;&amp;#039;؛ جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو بھاگ جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;کنز العمال، متقی ہندی، حدیث ۲۰۹۵۱۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اور فرمایا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;إِنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ لَا یَسْمَعُونَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ شَیْئًا إِلَّا الْأَذَانَ&amp;#039;&amp;#039;؛ اہلِ آسمان اہلِ زمین کی طرف سے اذان کے علاوہ کوئی چیز نہیں سنتے۔&amp;lt;ref&amp;gt;میزان الحکمہ، ری شہری، جلد ۱، ص ۸۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ان دونوں روایتوں کے مطابق اذان کو معاشرے میں اس طرح نمایاں ہونا چاہیے کہ ایک طرف شیطان کو دور کرے اور شیطانی مظاہر کو نابود کرے، اور دوسری طرف انسان کو عالمِ ملکوتِ اعلیٰ کی سیر کرائے۔ وہ اس کے عرفانی اور روحانی جذبے کو اس طرح معراج تک پہنچا دے کہ گویا آسمان والے اس کی پکار سن رہے ہوں، اس آواز سے لطف اندوز ہو رہے ہوں اور جوش و شوق میں آ رہے ہوں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==اذان کے فقہی احکام==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تمام [[اسلامی فرقے|اسلامی مذاہب]] اذان کو &amp;#039;&amp;#039;مستحبِ مؤکد&amp;#039;&amp;#039; قرار دیتے ہیں، سوائے [[حنبلی]] مذہب کے پیروکاروں کے، جو اسے &amp;#039;&amp;#039;واجبِ کفائی&amp;#039;&amp;#039; کہتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;دائرۃ المعارف جامع اسلامی، حسینی دشتی، جلد ۲، ص ۶۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اذان کی دو قسمیں ہیں: اذانِ اعلام اور اذانِ نماز، یعنی اقامت۔ اذانِ اعلام اولِ وقت کہی جانی چاہیے، جبکہ اذانِ نماز اس کے فوراً بعد کہی جاتی ہے، خواہ نماز کا آخری وقت ہی کیوں نہ ہو۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
روزانہ کی واجب نمازوں کے لیے اذان مستحب ہے، لیکن [[عرفہ]] کے دن عصر کی نماز، جمعہ کے دن عصر کی نماز، اور [[مزدلفہ]] میں عشا کی نماز کے لیے اذان ساقط ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض علماء نے کہا ہے کہ ان تین مواقع پر اذان ساقط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ظہر و عصر اور مغرب و عشا کی نمازوں کو جمع کرنا مستحب ہے۔ چونکہ اذان کا بنیادی مقصد نماز کے وقت کا اعلان کرنا ہے، اس لیے جب سب لوگ دوسری نماز کے لیے تیار ہوں تو اذان کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
البتہ ہر اس دوسری نماز کے لیے بھی اذان ساقط ہے جسے پہلی نماز کے ساتھ جمع کیا جائے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایضاً، ص ۶۵ و ۶۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مستحب ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد یا اس کا نام رکھنے سے پہلے اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے، تاکہ اس کی بلند روح میں دل کو بھانے والی باتیں پیوست کی جائیں، اس کے باطن میں حقائق کے بیج بوئے جائیں، اور وہ بچپن و نوجوانی میں انہی بیجوں کے ساتھ پروان چڑھ کر پاکیزگی کے ساتھ ایک مہذب انسان بنے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] نے [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابی طالب علیہ السلام]] سے فرمایا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;یَا عَلِیُّ، إِذَا وُلِدَ لَکَ غُلَامٌ أَوْ جَارِیَةٌ فَأَذِّنْ فِی أُذُنِهِ الْیُمْنَى وَأَقِمْ فِی الْیُسْرَى، فَإِنَّهُ لَا یَضُرُّهُ الشَّیْطَانُ أَبَدًا&amp;#039;&amp;#039;؛ علی جان! جب بھی تمہارے ہاں بیٹا یا بیٹی پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہو، کیونکہ شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔&amp;lt;ref&amp;gt;تحف العقول، ابن شعبہ حرانی، ص ۱۴۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسی طرح بعض فقہی مباحث میں &amp;#039;&amp;#039;اذان میں عورت کی آواز&amp;#039;&amp;#039; کے مسئلے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عورت کے لیے بھی اذان اور اقامت کہنا مستحب ہے؟ کیا عورت بلند آواز سے اذان اور اقامت کہہ سکتی ہے اور غیر محرم مرد اس کی آواز سن سکتے ہیں، یا وہ صرف عورتوں کی جماعت میں اذان و اقامت کہہ سکتی ہے؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض فقہاء نے غیر محرم عورت کی آواز سننے کو حرام قرار دیا ہے،&amp;lt;ref&amp;gt;جواہر الکلام، شیخ حسن نجفی، جلد ۲۹، ص ۹۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اور اذان و اقامت کے استحباب کے لیے مرد ہونا شرط قرار دیا ہے،&amp;lt;ref&amp;gt;مجله پیام زن، سال ۹، شمارہ ۱۰، دی ماہ ۱۳۷۹، ص ۲۷؛ شرائع الاسلام، محقق حلی سے نقل کرتے ہوئے۔&amp;lt;/ref&amp;gt; البتہ عورتوں کے لیے اذان و اقامت کہنے کی صورت مستثنیٰ ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض دیگر فقہاء نے عورت کے لیے اذان و اقامت کہنا جائز قرار دیا ہے۔ تاہم بعض علماء نے اس اعتقاد کی بنا پر کہ &amp;#039;&amp;#039;اذان، اقامت، نمازِ جمعہ اور نمازِ جماعت عورت پر واجب نہیں ہیں&amp;#039;&amp;#039;، عورت کے لیے اذان و اقامت کے استحباب کی بھی نفی کی ہے؛ لیکن معلوم نہیں کہ یہ بات &amp;#039;&amp;#039;عورت کی آواز کے حرام ہونے&amp;#039;&amp;#039; کی علت بن سکتی ہے یا نہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایضاً، ص ۲۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عمرو بن ابی نصر کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: کیا مؤذن بغیر وضو اذان کہہ سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں، لیکن اقامت وضو کے ساتھ کہے۔ میں نے عرض کیا: کیا بیٹھ کر اذان کہہ سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں، لیکن اقامت کھڑے ہو کر کہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;دائرۃ المعارف جامع اسلامی، جلد ۲، ص ۶۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==اذان کے اجزا==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اذان اٹھارہ جملوں پر مشتمل ہے، جو بغیر کسی کمی و بیشی کے جبرئیل کے ذریعے نازل ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں، نیز [[ابوبکر بن ابی قحافہ|ابوبکر]] کے دور اور [[عمر]] کی خلافت کے ابتدائی زمانے میں اذان اسی طرح کہی جاتی تھی۔ تاہم اہلِ سنت ([[شافعیه|شافعی]]، [[حنبلی]]، [[حنفی]] اور [[مالکی]]) اذان کو پندرہ جملوں پر مشتمل قرار دیتے ہیں؛ یعنی ان کے نزدیک &amp;#039;&amp;#039;حَیَّ عَلَى خَیْرِ الْعَمَلِ&amp;#039;&amp;#039; اذان کا حصہ نہیں ہے۔ اسی طرح &amp;#039;&amp;#039;لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ&amp;#039;&amp;#039; بھی صرف ایک مرتبہ کہا جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;الفقه علی المذاهب الخمسه، محمد جواد مغنیہ، ص ۱۱۹۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شیعہ روایات کے مطابق &amp;#039;&amp;#039;حَیَّ عَلَى خَیْرِ الْعَمَلِ&amp;#039;&amp;#039; رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اذان کا حصہ تھا، لیکن [[عمر]] نے اسے حذف کر دیا اور اس کی جگہ &amp;#039;&amp;#039;الصَّلَاةُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ&amp;#039;&amp;#039; کا اضافہ کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک شخص نے [[عمر]] سے پوچھا: اس کی کیا دلیل ہے؟ [[عمر]] نے کہا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;إِذَا سَمِعَ عَوَامُّ النَّاسِ أَنَّ الصَّلَاةَ خَیْرُ الْعَمَلِ تَهَاوَنُوا بِالْجِهَادِ وَتَخَلَّفُوا عَنْهُ&amp;#039;&amp;#039;؛ جب عام لوگ یہ سنیں گے کہ نماز بہترین عمل ہے تو وہ جہاد کے معاملے میں سستی کریں گے اور اس کے لیے میدان میں جانے سے پیچھے رہ جائیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;بحار الانوار، جلد ۸۴، ص ۱۵۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==اذان کے آثار اور فوائد==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اذان ایک ایسی عبادت ہے جس کے مختلف پہلو ہیں، اور اس کے ہر جملے کے تربیتی، معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی آثار و فوائد ہیں۔ ان میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
# یہ بندگانِ خدا کے لیے نماز کا وقت مقرر کرتی ہے۔&lt;br /&gt;
# یہ اعتقادی مفاہیمِ عالیہ کی تعلیم دیتی ہے۔&lt;br /&gt;
# یہ لوگوں کو عبادت کی ترغیب دیتی ہے۔&lt;br /&gt;
# یہ غافل لوگوں کو بیدار کرنے کا سبب بنتی ہے۔&lt;br /&gt;
# یہ لوگوں کو اتحاد اور یکجہتی کی دعوت دیتی ہے۔&lt;br /&gt;
# یہ مسلمانوں کو وقت کی پابندی اور کاموں میں نظم و ضبط کی دعوت دیتی ہے۔&lt;br /&gt;
# یہ [[شیطان]] کو دور کرتی ہے۔ جیسا کہ [[جعفر بن محمد|جعفر بن محمد صادق علیہ السلام]] نے فرمایا: جب تم تنہائی میں خوف زدہ ہو جاؤ اور تمہیں گمان ہو کہ جن میں سے شیاطین تمہارا راستہ روکنا چاہتے ہیں تو اذان کہو۔&amp;lt;ref&amp;gt;من لا یحضره الفقیه، شیخ صدوق، جلد ۱، ص ۱۹۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# یہ بچوں کی روحانی تربیت کے لیے ماحول تیار کرتی ہے۔&lt;br /&gt;
# اذان غم دور کرنے کا سبب بنتی ہے۔&lt;br /&gt;
# اگر اذان [[ایمان]] اور اخلاص کے ساتھ کہی جائے تو خداوند مؤذن کے گناہ معاف کر دیتا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;مَنْ أَذَّنَ فِی سَبِیلِ اللّٰهِ صَلَاةً وَاحِدَةً إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا تَقَرُّبًا إِلَى اللّٰهِ غَفَرَ اللّٰهُ لَهُ سَالِفًا مِنْ ذُنُوبِهِ&amp;#039;&amp;#039;؛ جو شخص خدا کے لیے ایمان اور اخلاص کے ساتھ، خدا کا قرب حاصل کرنے کی نیت سے ایک نماز کی اذان کہے، خداوند اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;بحار الانوار، جلد ۸۴، ص ۱۵۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
# یہ رزق میں وسعت کا سبب بنتی ہے۔ سلیمان بن عقیل کہتے ہیں: میں نے حضرت [[موسی بن جعفر |موسیٰ بن جعفر کاظم علیہ السلام]] سے عرض کیا: انسان کو مؤذن کے ساتھ اذان کیوں کہنی چاہیے؟ آپ نے فرمایا: یہ عمل رزق میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایضاً، ص ۱۷۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{حوالہ جات}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:مفاہیم اور اصطلاحات]]&lt;br /&gt;
[[زمرہ:اسلامی مفاہیم اور اصطلاحات]]&lt;br /&gt;
[[fa: اذان]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Sajedi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AD%D9%82%D9%88%D9%82&amp;diff=29773&amp;oldid=29771</id>
		<title>مسودہ:انسانی حقوق</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AD%D9%82%D9%88%D9%82&amp;diff=29773&amp;oldid=29771"/>
		<updated>2026-09-04T08:41:11Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;&lt;span class=&quot;autocomment&quot;&gt;انسانی حقوق کا فلسفہ&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;a href=&quot;https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AD%D9%82%D9%88%D9%82&amp;amp;diff=29773&amp;amp;oldid=29771&quot;&gt;تبدیلیاں دکھائیں&lt;/a&gt;</summary>
		<author><name>Sajedi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AD%D9%82%D9%88%D9%82&amp;diff=29771&amp;oldid=0</id>
		<title>مسودہ:انسانی حقوق</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AD%D9%82%D9%88%D9%82&amp;diff=29771&amp;oldid=0"/>
		<updated>2026-09-04T08:31:54Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;«&lt;a href=&quot;/wiki/%D9%81%D8%A7%D8%A6%D9%84:%D8%AD%D9%82%D9%88%D9%82_%D8%A8%D8%B4%D8%B1.jpg&quot; title=&quot;فائل:حقوق بشر.jpg&quot;&gt;تصغیر|بائیں&lt;/a&gt;  &amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;انسانی حقوق (human rights)&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; ایک نسبتاً جدید اصطلاح ہے اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد اور &lt;a href=&quot;/w/index.php?title=%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%85_%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%AF%DB%81&amp;amp;action=edit&amp;amp;redlink=1&quot; class=&quot;new&quot; title=&quot;اقوام متحدہ (صفحہ موجود نہیں)&quot;&gt;اقوام متحدہ&lt;/a&gt; کے قیام (۱۹۴۵ء) کے بعد ہی روزمرہ گفتگو میں رائج ہوئی۔ اس اصطلاح نے &amp;lt;sub&amp;gt;فطری حقوق&amp;lt;/sub&amp;gt; (Natural Rights) اور &amp;lt;sub&amp;gt;حقوقِ انسان&amp;lt;/sub&amp;gt; (Rights...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;a href=&quot;https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%81:%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AD%D9%82%D9%88%D9%82&amp;amp;diff=29771&quot;&gt;تبدیلیاں دکھائیں&lt;/a&gt;</summary>
		<author><name>Sajedi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A8%D8%B1%DB%8C&amp;diff=29757&amp;oldid=29754</id>
		<title>غیبت کبری</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A8%D8%B1%DB%8C&amp;diff=29757&amp;oldid=29754"/>
		<updated>2026-09-02T13:33:17Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;&lt;span class=&quot;autocomment&quot;&gt;خصوصیات عصر غیبت کبرا&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;table style=&quot;background-color: #fff; color: #202122;&quot; data-mw=&quot;interface&quot;&gt;
				&lt;col class=&quot;diff-marker&quot; /&gt;
				&lt;col class=&quot;diff-content&quot; /&gt;
				&lt;col class=&quot;diff-marker&quot; /&gt;
				&lt;col class=&quot;diff-content&quot; /&gt;
				&lt;tr class=&quot;diff-title&quot; lang=&quot;ur&quot;&gt;
				&lt;td colspan=&quot;2&quot; style=&quot;background-color: #fff; color: #202122; text-align: center;&quot;&gt;→ پرانا نسخہ&lt;/td&gt;
				&lt;td colspan=&quot;2&quot; style=&quot;background-color: #fff; color: #202122; text-align: center;&quot;&gt;نسخہ بمطابق 17:03، 2 ستمبر 2026ء&lt;/td&gt;
				&lt;/tr&gt;&lt;tr&gt;&lt;td colspan=&quot;4&quot; class=&quot;diff-multi&quot; lang=&quot;ur&quot;&gt;(ایک ہی صارف کا 2 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;&lt;tr&gt;&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-lineno&quot; id=&quot;mw-diff-left-l1&quot;&gt;سطر 1:&lt;/td&gt;
&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-lineno&quot;&gt;سطر 1:&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;−&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #ffe49c; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;غیبت کبری&#039;&#039;&#039; سے مراد [[محمد بن حسن المهدی|امام زمان]](عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی طویل اور مخفی زندگی کا آغاز ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حضرت [[اللہ]] کے اذن سے ظہور نہ فرمائیں۔ غیبت کبرا فوراً [[غیبت صغری]] کے بعد اور حضرت کے آخری نائب کی وفات کے بعد شروع ہوئی۔ لہٰذا غیبت صغری اور غیبت کبری کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہے اور صرف فرق یہ ہے کہ غیبت کبری کے دور میں امام نے لوگوں کے لیے کوئی خاص نائب مقرر نہیں کیا ہے اور لوگوں کو دینی مسائل اور اسلامی احکامات امام کے نائبینِ عام سے سیکھنے ہوں گے۔ [[&lt;del style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;شیعه&lt;/del&gt;|شیعیان]] کے عقیدہ کے مطابق، غیبت کبری عالم اور خاص طور پر انسانی معاشرے تک امام کی فیض رسانی میں کوئی رکاوٹ نہیں بنتی۔ جابر بن عبداللہ انصاری|جابر انصاری] نے [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ &lt;del style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;وآلہ &lt;/del&gt;و سلم|رسول اللہ (ص)]] سے پوچھا کہ کیا &lt;del style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;[[مذہب شیعہ|&lt;/del&gt;شیعیان&lt;del style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;]] &lt;/del&gt;زمانۂ غیبت میں قائم (ع) کے مبارک وجود سے فیض یاب ہوں گے؟ آپ (ص) نے جواب دیا: ہاں، اس ذات کی قسم جس نے مجھے نبوت کے لیے مبعوث کیا، وہ اس کی غیبت میں اس کے نور سے روشنی حاصل کریں گے اور اس کی ولایت سے فیض یاب ہوں گے؛ جس طرح لوگ سورج سے فیض یاب ہوتے ہیں، اگرچہ بادل اس کا چہرہ ڈھانپ لیں۔ &amp;lt;ref&amp;gt;علامہ مجلسی محمد باقر، بحار الأنوار، تہران، انتشارات اسلامیہ، ج‏۵۲، ص، ۹۳&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;+&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #a3d3ff; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;&lt;ins style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;&#039;&#039;&#039;&lt;/ins&gt;غیبت کبری&#039;&#039;&#039; سے مراد [[محمد بن حسن المهدی|امام زمان]](عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی طویل اور مخفی زندگی کا آغاز ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حضرت [[اللہ]] کے اذن سے ظہور نہ فرمائیں۔ غیبت کبرا فوراً [[غیبت صغری]] کے بعد اور حضرت کے آخری نائب کی وفات کے بعد شروع ہوئی۔ لہٰذا غیبت صغری اور غیبت کبری کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہے اور صرف فرق یہ ہے کہ غیبت کبری کے دور میں امام نے لوگوں کے لیے کوئی خاص نائب مقرر نہیں کیا ہے اور لوگوں کو دینی مسائل اور اسلامی احکامات امام کے نائبینِ عام سے سیکھنے ہوں گے۔ [[&lt;ins style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;شیعہ&lt;/ins&gt;|شیعیان]] کے عقیدہ کے مطابق، غیبت کبری عالم اور خاص طور پر انسانی معاشرے تک امام کی فیض رسانی میں کوئی رکاوٹ نہیں بنتی۔ جابر بن عبداللہ انصاری|جابر انصاری] نے [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ &lt;ins style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;و آلہ &lt;/ins&gt;و سلم|رسول اللہ (ص)]] سے پوچھا کہ کیا شیعیان زمانۂ غیبت میں قائم (ع) کے مبارک وجود سے فیض یاب ہوں گے؟ آپ (ص) نے جواب دیا: ہاں، اس ذات کی قسم جس نے مجھے نبوت کے لیے مبعوث کیا، وہ اس کی غیبت میں اس کے نور سے روشنی حاصل کریں گے اور اس کی ولایت سے فیض یاب ہوں گے؛ جس طرح لوگ سورج سے فیض یاب ہوتے ہیں، اگرچہ بادل اس کا چہرہ ڈھانپ لیں۔ &amp;lt;ref&amp;gt;علامہ مجلسی محمد باقر، بحار الأنوار، تہران، انتشارات اسلامیہ، ج‏۵۲، ص، ۹۳&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;== آغاز غیبت کبرا ==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;== آغاز غیبت کبرا ==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-lineno&quot; id=&quot;mw-diff-left-l14&quot;&gt;سطر 14:&lt;/td&gt;
&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-lineno&quot;&gt;سطر 14:&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;نیابت عامہ (عام نیابت)&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;نیابت عامہ (عام نیابت)&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;غیبت صغری کے دور میں لوگوں کا حضرت سے رابطہ خاص نائبین کے ذریعے ممکن تھا، لیکن سنہ ۳۲۹ق میں علی‌بن‌محمد سمری (چوتھے خاص نائب) کی وفات کے بعد، کسی بھی شخص کو امام کا نمائندہ مقرر نہیں کیا گیا، بلکہ امامِ دوازدہم (ع) کا لوگوں سے تمام براہِ راست رابطے اور امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی وکالت کا دور ختم ہو جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سلیمیان خدامراد، درس نامہ مہدویت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۲۳۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt; لہٰذا چونکہ غیبت کبری کے زمانے میں حضرت تک کوئی براہِ راست رسائی نہیں تھی، اس لیے لوگوں کو دینی احکام کی تعلیم کے لیے ان مجتہدینِ جامع‌الشرایط کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو امام کے نائبینِ عام کے منصب پر فائز ہیں اور ان کی صفات روایات میں بیان کی گئی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;از کتاب فرهنگ نامہ مہدویت، نوشتہ خدامراد سلیمیان، ص ۳۲۷ و ۳۲۸ بہ نقل&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;غیبت صغری کے دور میں لوگوں کا حضرت سے رابطہ خاص نائبین کے ذریعے ممکن تھا، لیکن سنہ ۳۲۹ق میں علی‌بن‌محمد سمری (چوتھے خاص نائب) کی وفات کے بعد، کسی بھی شخص کو امام کا نمائندہ مقرر نہیں کیا گیا، بلکہ امامِ دوازدہم (ع) کا لوگوں سے تمام براہِ راست رابطے اور امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی وکالت کا دور ختم ہو جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سلیمیان خدامراد، درس نامہ مہدویت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۲۳۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt; لہٰذا چونکہ غیبت کبری کے زمانے میں حضرت تک کوئی براہِ راست رسائی نہیں تھی، اس لیے لوگوں کو دینی احکام کی تعلیم کے لیے ان مجتہدینِ جامع‌الشرایط کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو امام کے نائبینِ عام کے منصب پر فائز ہیں اور ان کی صفات روایات میں بیان کی گئی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;از کتاب فرهنگ نامہ مہدویت، نوشتہ خدامراد سلیمیان، ص ۳۲۷ و ۳۲۸ بہ نقل&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-side-deleted&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;+&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #a3d3ff; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;&lt;ins style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;&lt;/ins&gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-side-deleted&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;+&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #a3d3ff; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;&lt;ins style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;&lt;/ins&gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;نیابت عامہ سے مراد خاص نیابت کے دور کے بعد، عام فقہاء کا امام معصوم کے قائم مقام ہونا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;موسوی خلخالی، الحاکمیۃ فی الاسلام، ۱۴۲۵ق، ص۲۹&amp;lt;/ref&amp;gt; یہ لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی نیابت کی شرائط (جیسے فقاہت، عدالت وغیرہ) رکھتا ہے، وہ امام معصوم کا جانشین سمجھا جاتا ہے اور اسے مخصوص اختیارات اور ذمہ داریاں حاصل ہوں گی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سلیمیان خدامراد، درس نامہ مہدویت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۲۳۸۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;نیابت عامہ سے مراد خاص نیابت کے دور کے بعد، عام فقہاء کا امام معصوم کے قائم مقام ہونا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;موسوی خلخالی، الحاکمیۃ فی الاسلام، ۱۴۲۵ق، ص۲۹&amp;lt;/ref&amp;gt; یہ لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی نیابت کی شرائط (جیسے فقاہت، عدالت وغیرہ) رکھتا ہے، وہ امام معصوم کا جانشین سمجھا جاتا ہے اور اسے مخصوص اختیارات اور ذمہ داریاں حاصل ہوں گی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سلیمیان خدامراد، درس نامہ مہدویت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۲۳۸۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;شیعہ احادیث میں وہ افراد جو نیابت کا منصب سنبھالتے ہیں، عناوین جیسے محدثین (راویانِ حدیث) اور [[حلال]] و [[حرام]] کو پہچاننے والے، بطور فقہاء و علماء متعارف کرائے گئے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt; شیخ محمد سند، دعوی السفارۃ فی الغیبۃ الکبری، ۱۴۳۱ق، ج۱، ص۸۳-۹۲&amp;lt;/ref&amp;gt; ان احادیث کی روشنی میں، غیبت کے دور میں شیعہ فقہاء و علماء، ائمہ (ع) کی جانشینی کے ذمہ دار ہوں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;.شیخ محمد سند، دعوی السفارۃ فی الغیبۃ الکبری، ۱۴۳۱ق، ج۱، ص۸۳-۹۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;شیعہ احادیث میں وہ افراد جو نیابت کا منصب سنبھالتے ہیں، عناوین جیسے محدثین (راویانِ حدیث) اور [[حلال]] و [[حرام]] کو پہچاننے والے، بطور فقہاء و علماء متعارف کرائے گئے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt; شیخ محمد سند، دعوی السفارۃ فی الغیبۃ الکبری، ۱۴۳۱ق، ج۱، ص۸۳-۹۲&amp;lt;/ref&amp;gt; ان احادیث کی روشنی میں، غیبت کے دور میں شیعہ فقہاء و علماء، ائمہ (ع) کی جانشینی کے ذمہ دار ہوں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;.شیخ محمد سند، دعوی السفارۃ فی الغیبۃ الکبری، ۱۴۳۱ق، ج۱، ص۸۳-۹۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;دوام فیض (فیض کا تسلسل)&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;دوام فیض (فیض کا تسلسل)&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;−&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #ffe49c; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;شیعیان کا اعتقاد ہے کہ اگرچہ غیبت کبری کے دور میں معاشرہ امام کی براہِ راست موجودگی اور ظاہری ہدایت سے بہرہ مند نہیں ہے، لیکن چونکہ زمین ایک دن بھی حجت کے بغیر نہیں رہ سکتی، اس لیے حضرت کا غیبی فیض انسانی معاشرے میں جاری رہے گا اور امام اپنے نورانی باطن کے ذریعے لوگوں کے شایستہ دلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے دلوں کو کمال قبول کرنے کے لیے جذب کرتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;از مقالہ برکات وجودی [[حضرت ولی عصر (عج)]] در عصر غیبت، نوشتہ محمد نصیری، فصل نامہ حصون، سال ۱۳۸۶، ش۱۲&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;+&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #a3d3ff; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;شیعیان کا اعتقاد ہے کہ اگرچہ غیبت کبری کے دور میں معاشرہ امام کی براہِ راست موجودگی اور ظاہری ہدایت سے بہرہ مند نہیں ہے، لیکن چونکہ زمین ایک دن بھی حجت کے بغیر نہیں رہ سکتی، اس لیے حضرت کا غیبی فیض انسانی معاشرے میں جاری رہے گا اور امام اپنے نورانی باطن کے ذریعے لوگوں کے شایستہ دلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے دلوں کو کمال قبول کرنے کے لیے جذب کرتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;از مقالہ برکات وجودی [[&lt;ins style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;محمد بن حسن المهدی|&lt;/ins&gt;حضرت ولی عصر (عج)]] در عصر غیبت، نوشتہ محمد نصیری، فصل نامہ حصون، سال ۱۳۸۶، ش۱۲&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;−&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #ffe49c; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;[[علی بن الحسین (زین العابدین)|&lt;del style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;علی‌بن‌الحسین (زین‌العابدین)&lt;/del&gt;]] سے روایت ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے اللہ نے آسمان کو زمین پر قائم رکھا ہے اور زمین والوں کو ہلاکت سے بچایا ہے۔ ہماری وجہ سے بارش برستی ہے اور اللہ کی رحمت پھیلائی جاتی ہے اور زمین اپنی برکتیں پیش کرتی ہے اور اگر ہر عصر و زمان میں ہم اہل‌بیت میں سے کوئی امام نہ ہوتا تو زمین اپنے باشندوں کو نگل جاتی اور انہیں ہلاک کر دیتی۔ حضرت آدم کی تخلیق سے لے کر قیامت تک زمین کبھی اللہ کی حجت سے خالی نہیں رہی اور نہ رہے گی؛ چاہے اس کی حجت لوگوں میں ظاہر اور معروف ہو یا غائب اور پوشیدہ۔ حجت کے بغیر اللہ کی عبادت نہیں ہوتی۔&amp;lt;ref&amp;gt;شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، ج۱، ص۲۰۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;+&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #a3d3ff; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;[[&lt;ins style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;علی بن حسین|&lt;/ins&gt;علی بن الحسین (زین العابدین)|]] سے روایت ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے اللہ نے آسمان کو زمین پر قائم رکھا ہے اور زمین والوں کو ہلاکت سے بچایا ہے۔ ہماری وجہ سے بارش برستی ہے اور اللہ کی رحمت پھیلائی جاتی ہے اور زمین اپنی برکتیں پیش کرتی ہے اور اگر ہر عصر و زمان میں ہم اہل‌بیت میں سے کوئی امام نہ ہوتا تو زمین اپنے باشندوں کو نگل جاتی اور انہیں ہلاک کر دیتی۔ حضرت آدم کی تخلیق سے لے کر قیامت تک زمین کبھی اللہ کی حجت سے خالی نہیں رہی اور نہ رہے گی؛ چاہے اس کی حجت لوگوں میں ظاہر اور معروف ہو یا غائب اور پوشیدہ۔ حجت کے بغیر اللہ کی عبادت نہیں ہوتی۔&amp;lt;ref&amp;gt;شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، ج۱، ص۲۰۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;== ثواب انتظار ==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;== ثواب انتظار ==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;

&lt;!-- diff cache key urwiki:diff:1.41:old-29754:rev-29757:php=table --&gt;
&lt;/table&gt;</summary>
		<author><name>Halimi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A8%D8%B1%DB%8C&amp;diff=29754&amp;oldid=0</id>
		<title>غیبت کبری</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A8%D8%B1%DB%8C&amp;diff=29754&amp;oldid=0"/>
		<updated>2026-09-02T13:23:58Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;«  غیبت کبری&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; سے مراد &lt;a href=&quot;/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%A8%D9%86_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%87%D8%AF%DB%8C&quot; title=&quot;محمد بن حسن المهدی&quot;&gt;امام زمان&lt;/a&gt;(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی طویل اور مخفی زندگی کا آغاز ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حضرت &lt;a href=&quot;/w/index.php?title=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81&amp;amp;action=edit&amp;amp;redlink=1&quot; class=&quot;new&quot; title=&quot;اللہ (صفحہ موجود نہیں)&quot;&gt;اللہ&lt;/a&gt; کے اذن سے ظہور نہ فرمائیں۔ غیبت کبرا فوراً &lt;a href=&quot;/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%D8%B5%D8%BA%D8%B1%DB%8C&quot; title=&quot;غیبت صغری&quot;&gt;غیبت صغری&lt;/a&gt; کے بعد اور حضرت کے آخری نائب کی...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;b&gt;نیا صفحہ&lt;/b&gt;&lt;/p&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غیبت کبری&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039; سے مراد [[محمد بن حسن المهدی|امام زمان]](عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی طویل اور مخفی زندگی کا آغاز ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حضرت [[اللہ]] کے اذن سے ظہور نہ فرمائیں۔ غیبت کبرا فوراً [[غیبت صغری]] کے بعد اور حضرت کے آخری نائب کی وفات کے بعد شروع ہوئی۔ لہٰذا غیبت صغری اور غیبت کبری کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہے اور صرف فرق یہ ہے کہ غیبت کبری کے دور میں امام نے لوگوں کے لیے کوئی خاص نائب مقرر نہیں کیا ہے اور لوگوں کو دینی مسائل اور اسلامی احکامات امام کے نائبینِ عام سے سیکھنے ہوں گے۔ [[شیعه|شیعیان]] کے عقیدہ کے مطابق، غیبت کبری عالم اور خاص طور پر انسانی معاشرے تک امام کی فیض رسانی میں کوئی رکاوٹ نہیں بنتی۔ جابر بن عبداللہ انصاری|جابر انصاری] نے [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم|رسول اللہ (ص)]] سے پوچھا کہ کیا [[مذہب شیعہ|شیعیان]] زمانۂ غیبت میں قائم (ع) کے مبارک وجود سے فیض یاب ہوں گے؟ آپ (ص) نے جواب دیا: ہاں، اس ذات کی قسم جس نے مجھے نبوت کے لیے مبعوث کیا، وہ اس کی غیبت میں اس کے نور سے روشنی حاصل کریں گے اور اس کی ولایت سے فیض یاب ہوں گے؛ جس طرح لوگ سورج سے فیض یاب ہوتے ہیں، اگرچہ بادل اس کا چہرہ ڈھانپ لیں۔ &amp;lt;ref&amp;gt;علامہ مجلسی محمد باقر، بحار الأنوار، تہران، انتشارات اسلامیہ، ج‏۵۲، ص، ۹۳&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آغاز غیبت کبرا ==&lt;br /&gt;
غیبت کبری کا آغاز سنہ ۳۲۹ ہجری قمری سے ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اور [[غیبت صغری]] کے دور میں، شیعیان حضرت سے اپنے مسائل چار [[نواب اربعه|خاص نائبین]] کے ذریعے پوچھ سکتے تھے جو حضرت اور شیعیان کے درمیان واسطہ تھے، لیکن سنہ ۳۲۹ ہجری قمری میں حضرت علی بن محمد سمری، امام کے آخری خاص نمائندے، کی وفات کے ساتھ ہی غیبت کبرا شروع ہوتی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;پور سید آقایی، تاریخ عصر غیبت صغرا، ص۱۸۱&amp;lt;/ref&amp;gt; انہیں اپنی موت سے چھ دن پہلے امام کی طرف سے اپنی موت کی خبر دی گئی تھی۔ حضرت نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے لیے کوئی دوسرا نائب منتخب نہ کریں،&amp;lt;ref&amp;gt; اربلی علی بن عیسی، کشف الغمّه، ۱۴۰۱ق، ج۲، ص۵۳۰&amp;lt;/ref&amp;gt; &amp;lt;ref&amp;gt; طبرسی ابو منصور، الاحتجاج، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۵۵۵و۵۵۶&amp;lt;/ref&amp;gt; &amp;lt;ref&amp;gt; شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۵۱۶&amp;lt;/ref&amp;gt; کیونکہ غیبت کبرا کا دور شروع ہو چکا ہے اور اس کے ختم ہونے کا وقت صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اس مدت میں ساری زمین پر فساد، ظلم اور زیادتی چھا جائے گی یہاں تک کہ ظہور کا وقت آئے اور پھر ہر جگہ امام کے ذریعے انصاف اور عدل سے بھر دی جائے گی۔ &amp;lt;ref&amp;gt; شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، ج ۲، ص ۵۱۶&amp;lt;/ref&amp;gt; &amp;lt;ref&amp;gt;اربلی، کشف الغمه، ۱۴۰۱ق، ج۲، ص۵۳۰&amp;lt;/ref&amp;gt; &amp;lt;ref&amp;gt;شیخ طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۵۵۵و۵۵۶&amp;lt;/ref&amp;gt; &amp;lt;ref&amp;gt;شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۵۱۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== خصوصیات عصر غیبت کبرا ==&lt;br /&gt;
غیبت کبری کے دور کی بعض خصوصیات جو اسے مختصر دورِ غیبت صغری سے ممتاز کرتی ہیں، درج ذیل ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;طویل المدت ہونا&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;&lt;br /&gt;
غیبت کبرا، غیبت صغرا کے برعکس، ایک طویل زمانے پر محیط ہوگی اور اس کے ختم ہونے کی خبر اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;نیابت عامہ (عام نیابت)&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;&lt;br /&gt;
غیبت صغری کے دور میں لوگوں کا حضرت سے رابطہ خاص نائبین کے ذریعے ممکن تھا، لیکن سنہ ۳۲۹ق میں علی‌بن‌محمد سمری (چوتھے خاص نائب) کی وفات کے بعد، کسی بھی شخص کو امام کا نمائندہ مقرر نہیں کیا گیا، بلکہ امامِ دوازدہم (ع) کا لوگوں سے تمام براہِ راست رابطے اور امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی وکالت کا دور ختم ہو جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سلیمیان خدامراد، درس نامہ مہدویت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۲۳۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt; لہٰذا چونکہ غیبت کبری کے زمانے میں حضرت تک کوئی براہِ راست رسائی نہیں تھی، اس لیے لوگوں کو دینی احکام کی تعلیم کے لیے ان مجتہدینِ جامع‌الشرایط کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو امام کے نائبینِ عام کے منصب پر فائز ہیں اور ان کی صفات روایات میں بیان کی گئی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;از کتاب فرهنگ نامہ مہدویت، نوشتہ خدامراد سلیمیان، ص ۳۲۷ و ۳۲۸ بہ نقل&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
نیابت عامہ سے مراد خاص نیابت کے دور کے بعد، عام فقہاء کا امام معصوم کے قائم مقام ہونا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;موسوی خلخالی، الحاکمیۃ فی الاسلام، ۱۴۲۵ق، ص۲۹&amp;lt;/ref&amp;gt; یہ لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی نیابت کی شرائط (جیسے فقاہت، عدالت وغیرہ) رکھتا ہے، وہ امام معصوم کا جانشین سمجھا جاتا ہے اور اسے مخصوص اختیارات اور ذمہ داریاں حاصل ہوں گی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سلیمیان خدامراد، درس نامہ مہدویت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۲۳۸۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
شیعہ احادیث میں وہ افراد جو نیابت کا منصب سنبھالتے ہیں، عناوین جیسے محدثین (راویانِ حدیث) اور [[حلال]] و [[حرام]] کو پہچاننے والے، بطور فقہاء و علماء متعارف کرائے گئے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt; شیخ محمد سند، دعوی السفارۃ فی الغیبۃ الکبری، ۱۴۳۱ق، ج۱، ص۸۳-۹۲&amp;lt;/ref&amp;gt; ان احادیث کی روشنی میں، غیبت کے دور میں شیعہ فقہاء و علماء، ائمہ (ع) کی جانشینی کے ذمہ دار ہوں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;.شیخ محمد سند، دعوی السفارۃ فی الغیبۃ الکبری، ۱۴۳۱ق، ج۱، ص۸۳-۹۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;دوام فیض (فیض کا تسلسل)&amp;#039;&amp;#039;&amp;#039;&lt;br /&gt;
شیعیان کا اعتقاد ہے کہ اگرچہ غیبت کبری کے دور میں معاشرہ امام کی براہِ راست موجودگی اور ظاہری ہدایت سے بہرہ مند نہیں ہے، لیکن چونکہ زمین ایک دن بھی حجت کے بغیر نہیں رہ سکتی، اس لیے حضرت کا غیبی فیض انسانی معاشرے میں جاری رہے گا اور امام اپنے نورانی باطن کے ذریعے لوگوں کے شایستہ دلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے دلوں کو کمال قبول کرنے کے لیے جذب کرتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;از مقالہ برکات وجودی [[حضرت ولی عصر (عج)]] در عصر غیبت، نوشتہ محمد نصیری، فصل نامہ حصون، سال ۱۳۸۶، ش۱۲&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
[[علی بن الحسین (زین العابدین)|علی‌بن‌الحسین (زین‌العابدین)]] سے روایت ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے اللہ نے آسمان کو زمین پر قائم رکھا ہے اور زمین والوں کو ہلاکت سے بچایا ہے۔ ہماری وجہ سے بارش برستی ہے اور اللہ کی رحمت پھیلائی جاتی ہے اور زمین اپنی برکتیں پیش کرتی ہے اور اگر ہر عصر و زمان میں ہم اہل‌بیت میں سے کوئی امام نہ ہوتا تو زمین اپنے باشندوں کو نگل جاتی اور انہیں ہلاک کر دیتی۔ حضرت آدم کی تخلیق سے لے کر قیامت تک زمین کبھی اللہ کی حجت سے خالی نہیں رہی اور نہ رہے گی؛ چاہے اس کی حجت لوگوں میں ظاہر اور معروف ہو یا غائب اور پوشیدہ۔ حجت کے بغیر اللہ کی عبادت نہیں ہوتی۔&amp;lt;ref&amp;gt;شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، ج۱، ص۲۰۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ثواب انتظار ==&lt;br /&gt;
رسول اللہ (ص) سے روایت ہے: «أَفْضَلُ أَعْمَالِ أُمَّتِی انْتِظَارُ الْفَرَجِ» یعنی فرج کا انتظار کرنا افضل عبادات ہے&amp;lt;ref&amp;gt;شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، تہران، انتشارات اسلامیہ، سال ۱۳۹۵ قمری، ج‏۲، ص: ۶۴۴&amp;lt;/ref&amp;gt; اور اس پر بہت زیادہ ثواب مرتب ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt; شیخ صدوق، کمال‌الدین و تمام النعمہ، تہران، انتشارات اسلامیہ، سال ۱۳۹۵ قمری، ج‏۲، ص ۶۴۴-۶۴۷&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دورِ انتظار کی آفات اور نقصانات (آسیب‌ شناسی) ==&lt;br /&gt;
بہت سی احادیث میں بیان کیا گیا ہے کہ چونکہ غیبت کبری کا دور طویل ہوگا، اس لیے امام زمان (عجل اللہ فرجہ الشریف) کی امامت کے قائلین میں سے بعض شک و تردید کا شکار ہو جائیں گے اور یہ شیعیان کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔ شیخ صدوق [[جعفر بن محمد |جعفر بن محمد (صادق)|]] سے ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ امام زمان (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی غیبت شیعیان کے لیے ایک آزمائش ہے۔ وہ یہ باتیں کہیں گے کہ حضرت کا انتقال ہو گیا ہے، یا یہ کہ معلوم نہیں وہ کہاں ہیں، حالانکہ مومنین کی آنکھیں ان کے آنے کے انتظار میں اشکبار ہیں۔ &amp;lt;ref&amp;gt; شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، تہران، انتشارات اسلامیہ، سال ۱۳۹۵ قمری، ج‏۲، ص ۳۴۷&amp;lt;/ref&amp;gt; بعض مصنفین نے لکھا ہے کہ واضح ہے کہ یہ امور بندگانِ خدا کی آزمائش کے لیے پیش‌بینی کیے گئے ہیں اور اگر قطعی دلائل سے امام کی طویل عمر ہمارے لیے ثابت نہ ہوتی تو مادیت کی طرف رجحان جیسی وجوہات کی بنا پر ان کی بقا میں شک و تردید بےجا نہ ہوتا۔&amp;lt;ref&amp;gt;صدر سید محمد، تاریخ غیبت کبرا، ترجمہ افتخار زادہ، تہران، نشر نیک معارف، سال ۱۳۸۲ش، ص۳۰۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== عصرِ غیبت میں اسلامی معاشرے کے انتظام کا طریقہ ==&lt;br /&gt;
بعض بڑے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ دینی اور شیعی معاشرہ غیبت کبری کے زمانے میں بھی امام زمان (ع) کے ذریعے ہی ادارہ کیا جائے گا اور حضرت وہ ذمہ داریاں انجام دیں گے جو امامت کی طرف سے ان پر عائد ہیں۔ &amp;lt;ref&amp;gt;از کتاب شیعہ در اسلام، سید محمد حسین طباطبایی، قم، دفتر انتشارات اسلامی سال ۱۳۸۳ش، ص۲۳۶۔&amp;lt;/ref&amp;gt; البتہ امام کے فرائض صرف دینی تعلیمات کے بیان اور معاشرے کی ظاہری ہدایت تک محدود نہیں ہیں، بلکہ امام کا دوسرا فریضہ معاشرے کی باطنی اور معنوی ولایت و رہنمائی بھی ہے جس کے ذریعے لوگوں کی معنوی زندگی منظم ہوتی ہے۔ لہٰذا امام زمان (ع) اگرچہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں، لیکن باطن کے راستے سے لوگوں کے جان و روح پر اشراف رکھتے ہیں اور ان کی ہدایت کرتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt; از کتاب شیعہ در اسلام، سید محمد حسین طباطبایی، قم، دفتر انتشارات اسلامی سال ۱۳۸۳ش، ص۲۳۶&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{حوالہ جات}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:مفاہیم اور اصطلاحات]]&lt;br /&gt;
[[زمرہ:مفاہیم اور اصطلاحات اسلامی]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Halimi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%D8%B5%D8%BA%D8%B1%DB%8C&amp;diff=29753&amp;oldid=29750</id>
		<title>غیبت صغری</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikivahdat.com/w/index.php?title=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%D8%B5%D8%BA%D8%B1%DB%8C&amp;diff=29753&amp;oldid=29750"/>
		<updated>2026-09-02T13:04:51Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;&lt;span class=&quot;autocomment&quot;&gt;حوالہ جات&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;table style=&quot;background-color: #fff; color: #202122;&quot; data-mw=&quot;interface&quot;&gt;
				&lt;col class=&quot;diff-marker&quot; /&gt;
				&lt;col class=&quot;diff-content&quot; /&gt;
				&lt;col class=&quot;diff-marker&quot; /&gt;
				&lt;col class=&quot;diff-content&quot; /&gt;
				&lt;tr class=&quot;diff-title&quot; lang=&quot;ur&quot;&gt;
				&lt;td colspan=&quot;2&quot; style=&quot;background-color: #fff; color: #202122; text-align: center;&quot;&gt;→ پرانا نسخہ&lt;/td&gt;
				&lt;td colspan=&quot;2&quot; style=&quot;background-color: #fff; color: #202122; text-align: center;&quot;&gt;نسخہ بمطابق 16:34، 2 ستمبر 2026ء&lt;/td&gt;
				&lt;/tr&gt;&lt;tr&gt;&lt;td colspan=&quot;4&quot; class=&quot;diff-multi&quot; lang=&quot;ur&quot;&gt;(ایک ہی صارف کا 2 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;&lt;tr&gt;&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-lineno&quot; id=&quot;mw-diff-left-l1&quot;&gt;سطر 1:&lt;/td&gt;
&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-lineno&quot;&gt;سطر 1:&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;−&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #ffe49c; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;غیبت صُغری&#039;&#039;&#039; [[شیعہ|اهل تشیع]] کے نزدیک ایک خاص اصطلاح ہے اور اس کا مطلب ہے مختصر مدت کے لیے نظروں سے اوجھل ہو جانا۔ شیعون کا عقیده ہے کہ غیبت صغری کے دور میں، [[محمد بن حسن المهدی|حجت بن الحسن (مهدی)]] (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) نے خفیہ زندگی گزاری اور صرف ان کے چار خاص نائب، جو [[نواب اربعہ]] کے نام سے مشہور ہیں، شیعون کا حضرت سے رابطے کا ذریعہ تھے۔&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;+&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #a3d3ff; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;&lt;ins style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;&#039;&#039;&#039;&lt;/ins&gt;غیبت صُغری&#039;&#039;&#039; [[شیعہ|اهل تشیع]] کے نزدیک ایک خاص اصطلاح ہے اور اس کا مطلب ہے مختصر مدت کے لیے نظروں سے اوجھل ہو جانا۔ شیعون کا عقیده ہے کہ غیبت صغری کے دور میں، [[محمد بن حسن المهدی|حجت بن الحسن (مهدی)]] (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) نے خفیہ زندگی گزاری اور صرف ان کے چار خاص نائب، جو [[نواب اربعہ]] کے نام سے مشہور ہیں، شیعون کا حضرت سے رابطے کا ذریعہ تھے۔&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;== زمانہ غیبت صغری ==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;== زمانہ غیبت صغری ==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;[[شیعہ]] علماء کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ غیبت صغری کا آغاز کب سے ہوا، اور یہ اختلاف دو نظریات پر منتج ہوتا ہے:&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;[[شیعہ]] علماء کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ غیبت صغری کا آغاز کب سے ہوا، اور یہ اختلاف دو نظریات پر منتج ہوتا ہے:&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;−&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #ffe49c; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;۱. پہلا نظریہ حضرت کی ولادت کے وقت سے متعلق ہے کہ غیبت صغری اسی وقت سے شروع ہوئی۔ یہ نظریہ [[شیخ مفید]] کا ہے اور وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت کی غیبت صغری ان کی ولادت سے شروع ہوئی اور اس وقت تک جاری رہی جب تک شیعیان کا ان سے خاص نائبوں کے ذریعے رابطہ منقطع نہیں ہو گیا۔ &amp;lt;ref&amp;gt; شیخ مفید، الإرشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۳۴۰۔ &amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;del style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;[[فضل بن حسن طبرسی|&lt;/del&gt;شیخ طبرسی&lt;del style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;]] &lt;/del&gt;(م ۵۴۸ ق) نے بھی اسی بنیاد پر غیبت صغری کا زمانہ چوہتر (۷۴) سال ذکر کیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;طبرسی، إعلام الوری بأعلام الهدی، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۲۵۹۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;+&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #a3d3ff; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;۱. پہلا نظریہ حضرت کی ولادت کے وقت سے متعلق ہے کہ غیبت صغری اسی وقت سے شروع ہوئی۔ یہ نظریہ [[شیخ مفید]] کا ہے اور وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت کی غیبت صغری ان کی ولادت سے شروع ہوئی اور اس وقت تک جاری رہی جب تک شیعیان کا ان سے خاص نائبوں کے ذریعے رابطہ منقطع نہیں ہو گیا۔ &amp;lt;ref&amp;gt; شیخ مفید، الإرشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۳۴۰۔ &amp;lt;/ref&amp;gt; شیخ طبرسی (م ۵۴۸ ق) نے بھی اسی بنیاد پر غیبت صغری کا زمانہ چوہتر (۷۴) سال ذکر کیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;طبرسی، إعلام الوری بأعلام الهدی، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۲۵۹۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;−&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #ffe49c; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;۲. دوسرا نظریہ یہ ہے کہ غیبت صغری [[حسن بن علی (عسکری)]] (علیہ‌السلام) کی شہادت یعنی سنہ ۲۶۰ قمری سے واقع ہوئی، یعنی چونکہ نواب اربعہ کا تعین امام حسن عسکری کی وفات کے بعد ہوا اور غیبت صغری و کبری کے درمیان امتیاز اسی وجہ سے ہے کہ صرف غیبت صغری میں ہی یہ نواب حضرت کے پیغامات پہنچانے کے ذمہ دار تھے، لہٰذا غیبت صغری امام حسن عسکری کی وفات اور پہلے خاص نائب کے تعین سے شروع ہوتی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صدر سید محمد، تاریخ الغیبة الصغری، ۱۳۹۲ق، ص۳۴۱ بہ بعد۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اگر ہم ان دو نظریات کے درمیان فیصلہ کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ اکثر امامیہ علماء دوسرے نظریہ کے پیروکار ہیں&amp;lt;ref&amp;gt;شریف القرشی، حیاة الامام محمد المهدی(ع)، ص۱۱۴۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اور یہ دور سنہ ۲۶۰ ہ‍.ق (۸۷۴ء) سے شروع ہو کر ۳۲۹ ہ‍.ق (۹۴۰-۱ء) پر ختم ہوا۔ &amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، دائرةالمعارف فقه مقارن، قم، ایران، ص۱۰۴&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;+&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #a3d3ff; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;۲. دوسرا نظریہ یہ ہے کہ غیبت صغری [[&lt;ins style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;امام حسن عسکری علیہ السلام|&lt;/ins&gt;حسن بن علی (عسکری)&lt;ins style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;&amp;lt;nowiki&amp;gt;]]&amp;lt;/nowiki&amp;gt;&lt;/ins&gt;]] (علیہ‌السلام) کی شہادت یعنی سنہ ۲۶۰ قمری سے واقع ہوئی، یعنی چونکہ نواب اربعہ کا تعین امام حسن عسکری کی وفات کے بعد ہوا اور غیبت صغری و کبری کے درمیان امتیاز اسی وجہ سے ہے کہ صرف غیبت صغری میں ہی یہ نواب حضرت کے پیغامات پہنچانے کے ذمہ دار تھے، لہٰذا غیبت صغری امام حسن عسکری کی وفات اور پہلے خاص نائب کے تعین سے شروع ہوتی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صدر سید محمد، تاریخ الغیبة الصغری، ۱۳۹۲ق، ص۳۴۱ بہ بعد۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اگر ہم ان دو نظریات کے درمیان فیصلہ کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ اکثر امامیہ علماء دوسرے نظریہ کے پیروکار ہیں&amp;lt;ref&amp;gt;شریف القرشی، حیاة الامام محمد المهدی(ع)، ص۱۱۴۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اور یہ دور سنہ ۲۶۰ ہ‍.ق (۸۷۴ء) سے شروع ہو کر ۳۲۹ ہ‍.ق (۹۴۰-۱ء) پر ختم ہوا۔ &amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، دائرةالمعارف فقه مقارن، قم، ایران، ص۱۰۴&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;== مقام غیبت صغری ==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;== مقام غیبت صغری ==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-lineno&quot; id=&quot;mw-diff-left-l16&quot;&gt;سطر 16:&lt;/td&gt;
&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-lineno&quot;&gt;سطر 16:&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;== غیبت صغری احادیث میں ==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;== غیبت صغری احادیث میں ==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;−&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #ffe49c; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;ان روایات میں جو [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)]] اور [[ائمه اطهار|ائمہ معصومین]] (علیہم‌السلام) سے نقل ہوئی ہیں، اصل غیبت اور اس کی دو اقسام (غیبت صغری و کبری) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ [[جعفر بن محمد &lt;del style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;(صادق)&lt;/del&gt;|جعفر بن محمد الصادق]] (علیہ‌السلام) نے اس سلسلہ میں فرمایا: «بیشک قائم کے لیے دو غیبتیں ہیں، پہلی غیبت میں وہ لوٹ آتے ہیں اور دوسری میں ان کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہوتا؛ البتہ ہر سال حج کے موقع پر حاضر ہوتے ہیں اور لوگوں کو دیکھتے ہیں، مگر لوگ انہیں نہیں دیکھتے۔» «اِنَّ لِلْقائِمِ غَیبَتَینِ یرْجِعُ فِی اِحداهُما وَفِی الاُخْری لایدری اَینَ هُوَ یشْهَدُ المَواسِمَ یری الناسَ وَلا یرْونَهُ» &amp;lt;ref&amp;gt;نعمانی، الغیبة، ص ۱۷۵، ح ۱۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اس کے علاوہ دوسری روایات میں بھی دو غیبتوں میں سے ایک کے مختصر اور دوسری کے طویل ہونے کا ذکر آیا ہے۔ امام صادق (علیہ‌السلام) نے فرمایا: قائم کے لیے دو غیبتیں ہیں: ایک مختصر مدت کی اور دوسری طویل مدت کی۔ «لِلْقائِمِ غَیبَتانِ اِحْداهُما قَصِیرَةٌ وَالاُخْری طَوِیلَةٌ...»؛ &amp;lt;ref&amp;gt;شیخ کلینی، کافی، ج ۱، ص ۳۴۰۔&amp;lt;/ref&amp;gt; البتہ روایات میں لفظ &quot;غیبت صغری&quot; نہیں آیا، لیکن چونکہ اس غیبت کی مدت مختصر اور متعین تھی، اس لیے رفتہ رفتہ یہ عنوان مشہور و رائج ہو گیا۔&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;+&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #a3d3ff; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;ان روایات میں جو [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)]] اور [[ائمه اطهار|ائمہ معصومین]] (علیہم‌السلام) سے نقل ہوئی ہیں، اصل غیبت اور اس کی دو اقسام (غیبت صغری و کبری) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[[&lt;ins style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;امام &lt;/ins&gt;جعفر بن محمد |جعفر بن محمد الصادق]] (علیہ‌السلام) نے اس سلسلہ میں فرمایا: «بیشک قائم کے لیے دو غیبتیں ہیں، پہلی غیبت میں وہ لوٹ آتے ہیں اور دوسری میں ان کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہوتا؛ البتہ ہر سال حج کے موقع پر حاضر ہوتے ہیں اور لوگوں کو دیکھتے ہیں، مگر لوگ انہیں نہیں دیکھتے۔» «اِنَّ لِلْقائِمِ غَیبَتَینِ یرْجِعُ فِی اِحداهُما وَفِی الاُخْری لایدری اَینَ هُوَ یشْهَدُ المَواسِمَ یری الناسَ وَلا یرْونَهُ» &amp;lt;ref&amp;gt;نعمانی، الغیبة، ص ۱۷۵، ح ۱۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اس کے علاوہ دوسری روایات میں بھی دو غیبتوں میں سے ایک کے مختصر اور دوسری کے طویل ہونے کا ذکر آیا ہے۔ امام صادق (علیہ‌السلام) نے فرمایا: قائم کے لیے دو غیبتیں ہیں: ایک مختصر مدت کی اور دوسری طویل مدت کی۔ «لِلْقائِمِ غَیبَتانِ اِحْداهُما قَصِیرَةٌ وَالاُخْری طَوِیلَةٌ...»؛ &amp;lt;ref&amp;gt;شیخ کلینی، کافی، ج ۱، ص ۳۴۰۔&amp;lt;/ref&amp;gt; البتہ روایات میں لفظ &quot;غیبت صغری&quot; نہیں آیا، لیکن چونکہ اس غیبت کی مدت مختصر اور متعین تھی، اس لیے رفتہ رفتہ یہ عنوان مشہور و رائج ہو گیا۔&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;== غیبت صغری اور غیبت کبری میں فرق ==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;== غیبت صغری اور غیبت کبری میں فرق ==&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-lineno&quot; id=&quot;mw-diff-left-l27&quot;&gt;سطر 27:&lt;/td&gt;
&lt;td colspan=&quot;2&quot; class=&quot;diff-lineno&quot;&gt;سطر 27:&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;{{حوالہ جات}}&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;{{حوالہ جات}}&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;br&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;−&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #ffe49c; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;[[زمرہ:مفاہیم &lt;del style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;و &lt;/del&gt;اصطلاحات]]&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot; data-marker=&quot;+&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #a3d3ff; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;[[زمرہ:مفاہیم &lt;ins style=&quot;font-weight: bold; text-decoration: none;&quot;&gt;اور &lt;/ins&gt;اصطلاحات]]&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;[[زمرہ:مفاہیم و اصطلاحات اسلامی]]&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;td class=&quot;diff-marker&quot;&gt;&lt;/td&gt;&lt;td style=&quot;background-color: #f8f9fa; color: #202122; font-size: 88%; border-style: solid; border-width: 1px 1px 1px 4px; border-radius: 0.33em; border-color: #eaecf0; vertical-align: top; white-space: pre-wrap;&quot;&gt;&lt;div&gt;[[زمرہ:مفاہیم و اصطلاحات اسلامی]]&lt;/div&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;

&lt;!-- diff cache key urwiki:diff:1.41:old-29750:rev-29753:php=table --&gt;
&lt;/table&gt;</summary>
		<author><name>Halimi</name></author>
	</entry>
</feed>